What Am I میں کیا ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

ميرا مقصد انسانی فرائض کے بارے میں اپنےعلم اور تجربہ کو نئی نسل تک پہنچانا ہے ۔ رَبِّ اشْرَحْ لِی صَدْرِی وَيَسِّرْ لِی أَمْرِی وَاحْلُلْ عُقْدة مِنْ لِسَانِی يَفْقَھُوا قَوْلِی



تختۂ کار

محفوظہ برائے September, 2008

قوم اپنی موت کی تیاری میں

مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 19 Sep 2008

معاندانہ پروپیگنڈہ اور کج بحثی تو ہمیشہ سے ہے لیکن وطنِ عزیز میں ہموطن اپنے ہی ہموطنوں کے خلاف صرف یہ نہیں کہ معاندانہ اور بے بنیاد پروپیگنڈہ کرتے ہیں بلکہ بغیر کسی ثبوت کے اس پر بحث بھی کرتے ہیں ۔ پچھلے دنوں ایک پڑھے لکھے اور بظاہر ذہین جدّت پسند شخص نے میرے داہنے بائیں اُوپر نیچے تیز و طرار جملے اس طرح مارنے شروع کئے جیسے پولیس تھانے میں کسی بے سہارا آدمی سے ناکردہ گناہ کا اقبالِ جُرم کروایا جاتا ہے ۔ میں نے اُنہیں سمجھانے کی بہت کوشش کی مگر وہ گویا ہوا کے گھوڑے پر سوار تھے اور کچھ سننے کو تیار ہی نہ تھے ۔ چند لمحوں میں اُنہوں نے مدعی ۔ وکیل اور مُنصف کا کردار ادا کرتے ہوئے فیصلہ بھی سُنا دیا کہ قبائلی علاقوں کے لوگ طالبان اور دہشتگرد ہیں وہ تعلیم ۔ ترقی اور عورتوں کے دُشمن ہیں انہوں نے لڑکیوں کے سکول جلا دئیے ہیں ۔

میں یہ سمجھنے پر مجبور ہوا کہ میری معلومات محدود ہیں ۔ تعلیم اور سائنس کے سہارے جدید لوگ چاند اور مریخ سے ہوتے ہوئے آسمان کے پاس پہنچ گئے ہوئے ہیں اور میں ابھی تک کسی غار میں بیٹھا پتھروں سے کھیل رہا ہوں ۔ اُن پڑھے لکھے سائنسی جدّت پسند روشن خیال صاحب کے جانے کے بعد میں نے اپنا کمپیوٹر چلایا اور لگا انٹرنیٹ کھنگالنے ۔ میری تو پریشانی اور بڑھی جب میں نے دیکھا کہ تعلیمیافتہ اور باعلم ہونے کے دعویدار کئی بلاگرز کی تحاریر اور دنیا بھر کے اخبار بھی متذکرہ بالا تاءثر لئے ہوئے تھے

غیروں کو تو کیا کہنا کہ آخر غیر ہیں ۔ اپنے ہموطنوں کے باعلم ہونے کے دعویدار جدت پسند گروہ کے جاہلانہ رویّہ پر جتنا بھی ماتم کیا جائے کم ہے ۔ ٹھوس حقیقت یہ ہے کہ آج تک وزیرستان اور باجوڑ سمیت کسی قبائلی علاقہ میں کوئی سکول نہیں جلا اور نہ طالبان نے کوئی سکول جلایا ہے ۔ جو سکول جلے ہیں یا جلائے گئے ہیں وہ سوات کے سَیٹلڈ [settled] علاقہ میں واقع ہیں جو صوبہ سرحد کی حکومت کے زیرِ انتظام ہے جبکہ قبائلی علاقے براہِ راست وفاقی حکومت کے زیرِ انتظام ہیں ۔ اس حقیقت سے متعلقہ وفاقی وزیر بھی متفق ہیں ۔

قبائلی علاقوں میں لڑی جانے والی احمقانہ جنگ میں عورتوں اور بچوں سمیت ہزاروں محبِ وطن اور فوجی ہلاک ہو چکے ہیں اور سب پاکستانی ہیں ۔ یہ جنگ وطن کو محفوظ بنانے کی بجائے پوری قوم کو تیزی سے تباہی کی طرف لے جا رہی ہے اور فائدہ صرف پاکستان کے دشمنوں کو ہو رہا ہے ۔

جس طرح سے وطنِ عزیز میں بے بنیاد اور معاندانہ پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے اس سے تو یہی ظاہر ہوتا ہے کہ قوم خود اپنی قبر کھود کر اس میں دفن ہو جانے کی تیاری بڑے زور شور سے کر رہی ہے ۔

اللہ ہمارے حکمرانوں اور عوام کو بھی عقلِ سلیم عطا فرمائے اور سیدھی راہ پہچاننے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین ثم آمین

زمرہ : روز و شب, معاشرہ, پيغام | 10 تبصرے »

قوم کے سوداگر

مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 17 Sep 2008

میں شاید ساتویں جماعت میں تھا [آج سے 57 سال قبل] جب میں نے ایک کتاب بعنوان ” قوم کے سوداگر ” پڑھی تھی ۔ مجھے یاد نہیں کہ یہ کوئی تاریخی واقعہ تھا یا کہانی اور نہ ہی مصنف کا نام یاد ہے کیونکہ اس واقعہ یا کہانی کو میرے ذہن نے قبول نہ کیا تھا۔ میں سوچتا تھا کہ کیسے ممکن ہے کہ کسی قوم کا سربراہ جو اسی قوم کا فرد ہے اپنی ہی قوم کو غیروں کے ہاتھ بیچ سکتا ہے ۔ میرا متذکرہ تصوّر آہستہ آہستہ متزلزل ہونے لگا ۔ متعلقہ واقعات کی تاریخ طوالتٍ تحریر کا باعث بنے گی اسلئے اسے کسی اگلی نشست کیلئے اُٹھا رکھتے ہیں ۔ آج صرف اُس مطلق العنان آمر کی بات جس نے ۔ قومے فروختند و جہ ارزاں فروختند ۔ کے مصداق اندر ہی اندر قوم کا سب کچھ غیروں کو نہیں بلکہ دشمنوں کو بیچ دیا ۔ میں اُن 600 سے زائد بیگناہ پاکستانیوں کی بات نہیں کر رہا جو پانچ یا چھ ہزار ڈالر فی کس کے حساب سے امریکہ کو فروخت کئے گئے ۔ اور نہ اُس آگ کی جس میں ملک کا شمال مغربی سرحدی علاقہ ۔جھونک دیا گیا اور اس کے نتیجہ میں ہزاروں بیگناہ فوجی ۔ امن پسند سویلین اور پاکستان کے خیرخواہ قبائلی ہلاک ہو چکے ہیں ۔ بلکہ یہ خبر ان سب خبروں سے بھیانک ہے اور پرویز مشرف ہماری قوم کا بستر ہی گول کرنے کا بندوبست کر گیا ۔

کل اور آج کی خبریں پڑھ کر شاید کوئی قاری یہ سوچے کہ ایسا اچانک ہو گیا ہے لیکن ایسا نہیں ہے ۔ آج سے سوا تین سال قبل میں نے اپنی ایک تحریر میں پیشگوئی نہیں بلکہ پرویز مشرف کے اقدام کا منطقی نتیجہ [logical or calculated result] بیان کر دیا تھا ۔ بہت پرانی ضرب المثل ہے

اب پچھتائے کیا ہوئے جب چڑیاں چُگ کئیں کھیت ۔

زیرِ نظر خبر

بھارت کی جانب سے دریائے چناب کا پانی روکے جانے کے معاملے پر اجلاس وفاقی وزیر برائے پانی و بجلی راجہ پرویز اشرف کی صدارت میں اسلام آباد میں ہوا ۔ اجلاس میں انڈس واٹر کمشنر، چیئرمین واپڈا، چیئرمین ارسا اور وزارت کے اعلیٰ حکام شریک ہوئے ۔ اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ میں وفاقی وزیر نے کہا کہ بھارت نے بگلیہار ڈیم میں پانی ذخیرہ کر کے سندھ طاس معاہدے کی خلاف وزی کی ہے، یہ معاملہ انڈس واٹر کمیشن کی سطح پر اٹھایا گیا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ انڈس واٹر کمشنر بگلیہار ڈیم کا دورہ بھی کریں گے ۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ بھارت نے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی بند نہ کی تو ثالثی عدالت سے رجوع کرنے اور غیر جانبدار مبصرین کی تعیناتی کے آپشن موجود ہیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ نقصان کے ازالے کے لئے بھارت سے پانی کے بدلے میں پانی یا معاوضے کی ادائیگی کا مطالبہ بھی کیا جاسکتا

مندرجہ بالا بیان کی حثیت شعیب صفدر صاحب کی تحریر کردہ فارمیلیٹی [formality] سے زیادہ کچھ نہیں ہے

اب پڑھیئے میری 27 جون 2005ء کی تحریر سے اقتباس

جو کھیل ہماری حکومت اپنے آقاؤں [امریکی حکومت] کے اشارہ پر کھیل رہی ہے اس کا ذاتی فائدہ پرویز مشرف کو اور سیاسی فائدہ بھارت کو ہو رہا ہے ۔ نہ صرف جموں کشمیر کے لوگ بلکہ پاکستانی عوام بھی خسارے میں ہیں ۔ پرویز مشرف نے یک طرفہ جنگ بندی اختیار کی جس کے نتیجہ میں ۔ ۔ ۔

بھارت نے پوری جنگ بندی لائین پر جہاں دیوار بنانا آسان تھی وہاں دیوار بنا دی باقی جگہ کانٹے دار تاریں بچھا دیں یعنی جو سرحد بین الاقوامی طور پر عارضی تھی اسے مستقل سرحد بنا دیا ۔

سرحدوں سے فارغ ہو کر بھارتی فوجیوں نے آواز اٹھانے والے کشمیری مسلمانوں کا تیزی سے قتل عام شروع کر دیا اور متواتر روزانہ دس سے بیس افراد شہید کئے جارہے ہیں ۔ معصوم خواتین کی عزتیں لوٹی جا رہی ہیں اور گھروں کو جلا کر خاکستر کیا کیا جا رہا ہے ۔ کئی گاؤں کے گاؤں فصلوں سمیت جلا دیئے گئے ہیں ۔

بگلیہار ڈیم جس پر [تحریکِ آزادی کی وجہ سے] کام رُکا پڑا تھا جنگ بندی ہونے کے باعث بھارت بڑی تیزی سے تقریبا مکمل کر چکا ہے اور تین اور ڈیموں کی بھی تعمیر شروع کر دی گئی ہے ۔

اللہ سبحانہ و تعالی ہماری مدد فرمائے اور ایسا نہ ہو آمین مگر آثار یہی ہیں کہ جب متذکّرہ بالا ڈیم مکمل ہو جائیں گے تو کسی بھی وقت بھارت دریائے چناب کا پورا پانی بھارت کی طرف منتقل کر کے پاکستان کے لئے چناب کو خشک کر دے گا اور دریائے جہلم کا بھی کافی پانی روک لے گا ۔ اس طرح پانی کے بغیر پاکستان کی زمینیں بنجر ہو جائیں گی اور زندہ رہنے کے لئے پاکستان کو بھارت کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پڑیں گے ۔ چنانچہ بغیر جنگ کے پاکستان بھارت کا غلام بن جائے گا ۔ قوم کو بیوقوف بنانے کے لئے پرویز مشرف نے منگلا ڈیم کو دس میٹر اونچا کرنے کا ملٹی بلین پراجیکٹ شروع کیا ہے ۔ چند سال بعد دریائے جہلم میں اتنا بھی پانی ہونے کی اُمید نہیں کہ ڈیم کی موجودہ اُونچائی تک جھیل بھر جائے پھر یہ اتنا روپیہ کیوں ضائع کیا جا رہا ہے ؟ اس کا جواب کسی کے پاس نہیں ۔ ایک ضمنی بات ۔ پہلی پلاننگ کے مطابق منگلا ڈیم کی اونچائی موجودہ اُونچائی سے دس میٹر زیادہ تجویز کی گئی تھی 1962ء میں کا م شروع ہونے سے پہلے ڈیم کی سیفٹی [safety] کو مدنظر رکھتے ہوئے اُونچائی دس میٹر کم کر دی گئی تھی ۔ اس لئے اب اُونچائی زیادہ کرنا پہلے سے بھی زیادہ خطرناک ہے ۔ اس سلسلہ میں میں اور کئی دوسرے حضرات جن میں زیادہ تر انجنیئر ہیں اخباروں میں خط اور مضامین لکھ چکے ہیں مگر ہماری حکومت کو کسی کی پرواہ نہیں ۔

زمرہ : تاریخ, خبر, ذمہ دارياں | 4 تبصرے »

ہِبہ

مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 16 Sep 2008

دیکھنے میں آیا ہے کہ لفظ “ہِبہ ” کا کئی دوسرے الفاظ کی طرح غلط استعمال کیا جانے لگا ہے ۔ یہاں تک کہ ہِبہ نام کی دُکانیں تک کھول دی گئی ہیں جن میں ہِبہ نہیں ہوتا بلکہ چیزیں فروخت کی جاتی ہیں ۔ کچھ بے عقل لوگ اپنی بہن یا بیٹی کسی کے حوالے کر کے اسے ہِبہ کا نام دیتے ہیں جو کہ بالکل غلط ہے ۔

ہبہ وہ چیز ہے جو ایک شخص کی خالص اپنی ملکیت ہو اور وہ بغیر معاوضہ اور بغیر کسی لالچ کے دوسرے شخص کی ملکیت میں دے دے خواہ لینے والا شخص مالدار ہو یا غریب ۔

اگر کوئی شخص اپنا قرض مقروض کو ہِبہ کر دے تو مقروض کا وہ قرض معاف ہو جاتا ہے اور قرض دینے والا پھر اس کی واپسی کا مطالبہ نہیں کر سکتا ۔

عورت اپنے خاوند کو حق مہر اپنی مرضی سے معاف کر دے تو یہ ہِبہ کہلاسکتا ہے

ہبہ نہ تو صدقہ ہے اور نہ ہدیہ ۔

صدقہ صرف مستحق یعنی غریب کو صرف اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے دیا جاتا ہے

ہدیہ آپس کے تعلقات قائم کرنے یا بہتر بنانے کیلئے دیا جاتا ہے ۔ کسی ناحق مطلب براری کیلئے نہیں

ہبہ اور ہدیہ میں ایک قدرِ مشترک ہے کہ رشتہ دار بشمول بیوی یا خاوند ۔ دوست محلے دار وغیرہ کو کوئی چیز ہبہ کر سکتے ہیں اور تحفہ یعنی ہدیہ بھی دے سکتے ہیں ۔ ان میں دینے اور لینے والا مالدار بھی ہو سکتا ہے اور غریب بھی ۔ یعنی ایک گداگر بھی کسی مالدار کو کوئی چیز ہبہ کر سکتا ہے یا ہدیہ دے سکتا ہے ۔

ایک بار جو چیز ہِبہ کر دی جائے اس کا واپس لینا ممنوع ہے

ہِبہ نام بھی رکھا جاتا ہے جس کے معنی اللہ کا دیا ہوا تحفہ لئے جاتے ہیں ۔

اسماء الحسنہ میں ایک وہاب بھی ہے جس کے معنی ہیں ہِبہ کرنے والا

اشیاء ۔ مال اور مویشی ہِبہ کئے جا سکتے ہیں انسان نہیں

زمرہ : روز و شب, معلومات | 5 تبصرے »

تن آسانی دُشمن ہے خودداری و غیرت کی

مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 13 Sep 2008

کچھ روز قبل ٹی وی پر ایک با ہمت اور خوددار لڑکے کودیکھ یہ تحریر لکھ رہا ہوں ۔ خودداری اور غیرت وہ صفات ہیں جو انسان کو بلند و بالا کر دیتی ہیں لیکن ہماری قوم ہولناک گہرے کھڈ کی طرف پھسلتی جا رہی ہے ۔ ہموطنوں نے خودغرضی کو غیرت کا نام دے دیا ہے اور وطنِ عزیز میں [جھوٹی] غیرت کے نام پر قتل کے واقعات نے غیرت کا تصور ہی مسخ کر کے رکھ دیا ہے ۔

وطن عزیز میں ہمیں ہر گلی ہر سڑک پر بھکاری نظر آتے ہیں ۔ عورتیں مرد بچے ۔ جن کو اللہ تعالٰی نے کامل جسم کے ساتھ صحت بھی دی ہوتی ہے لیکن وہ محنت کرنے کی بجائے بھیک مانگتے ہیں ۔ ان کے مختلف عُذر ہوتے ہیں جو درُست بھی ہو سکتے ہیں ۔ کوئی اپنے آپ یا اپنے باپ یا ماں کو مریض بتاتا ہے تو کوئی ملازمت یا مزدوری نہ ملنے کا بہانہ بناتا ہے ۔

یہ عِلّت صرف وطنِ عزیز ہی میں نہیں بلکہ ترقی یافتہ اور امیر ممالک میں بھی ہے مگر بھیک مانگنے کے طریقے مختلف ہیں ۔ مثال کے طور پر یورپ میں بھیک مانگنا چونکہ جُرم ہے وہاں بھکاری کوئی ساز لے کر بازار میں بیٹھ جاتا ہے ۔ اپنے سامنے ایک کپڑا بچھا دیتا ہے اور ساز بجانا شروع کر دیتا ہے ۔ لوگ بھیک دینے کی بجائے اسے موسیقی کا نذرانہ دیتے ہیں گو سب جانتے ہیں کہ وہ بھیک مانگ رہا ہے اور وہ بھیک دے رہے ہیں ۔ کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو اپنی ٹوپی اُلٹی کر کے خاموش کھڑے ہو جاتے ہیں اور راہگذر اس میں کچھ ڈالتے رہتے ہیں ۔

اب بات اللہ کے خود دار اور غیرتمند بندوں کی ۔یہ لوگ جو کہ تعداد میں اتنے کم ہیں کہ انگلیوں پر گِنے جا سکتے ہیں بلند ہمت اور مضبوط قوتِ ارادی سے اپنی مجبوریوں پر فتح پالیتے ہیں ۔ انہیں دیکھ کر آدمی ماشاء اللہ اور سُبحان اللہ کہتے ہوئے اپنے اعضاء سلامت ہونے پر اللہ کا شکر ادا نہ کرے تو اَس جیسا بدقسمت کم ہی ہو گا

کچھ روز قبل ٹی وی پر ایک لڑکے کو دکھایا گیا جس کے دونوں بازو کٹے ہوئے تھے اور وھ کٹے ہوئے بازوؤں کے سِروں میں قلم دبوچ کر لکھ رہا تھا ۔ ماشاء اللہ سُبحان اللہ و الحمد للہ رب العالمین

دس بارہ سال قبل میں نے ایک ایسا شخص دیکھا تھا جس کے دونوں بازو کُہنیوں کے اُوپر سے کٹے ہوئے تھے اور وہ سلائی کا کام کرتا تھا ۔ ایک پاؤں سے وہ کپڑے کو قابو رکھتا اور دوسرےپاؤں سے سلائی کی مشین چلاتا جس میں بجلی کی موٹر نہیں لگی تھی ۔ وہ بائیسائکل بھی اس طرح چلاتا تھا کہ ایک پاؤں سے ہینڈل کو سنبھالتا اور دوسرے سے پیڈل کو گھماتا ۔ وہ پاؤں کی انگلیوں میں قلم پکڑ کر لکھ بھی لیتا تھا ۔ ماشاء اللہ سُبحان اللہ و الحمد للہ رب العالمین

متذکرہ غیّور لڑکے اور مرد کی وڈیوز تو میرے پاس نہیں ہیں البتہ دیکھئے اسی طرح کی ایک خود دار چینی عورت کی وڈیو

زمرہ : روز و شب, معاشرہ, پيغام | 2 تبصرے »

فرق صرف سوچ کا ہے

مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 10 Sep 2008

زندگی 10 فیصد وہ ہے جو کوئی شخص بناتا ہے اور 90 فیصد وہ جو اس شخص کی سوچ ہوتی ہے ۔

ایک شخص کا بیان کردہ واقعہ جس نے اس کی زندگی کو خوشگوار بنا دیا

میں ایک دن گھر سےکسی کام کیلئے نکلا ۔ ٹیکسی لی اور منزلِ مقصود کی طرف چل پڑا ۔ ٹیکسی شاہراہ کے بائیں حصے پر دوڑتی جا رہی تھی کہ بائیں طرف سے شاہراہ میں شامل ہونے والی ایک پتلی سڑک سے ایک گاڑی بغیر رُکے اچانک ٹیکسی کے سامنے آ گئی ۔ ٹیکسی ڈرائیور نے پوری قوت سے بریک دباتے ہوئے ٹیکسی کو داہنی طرف گھمایا اور ہم بال بال بچ گئے گو میرا کلیجہ منہ کو آ گیا تھا ۔

بجائے اس کے کہ دوسری گاڑی کا ڈرائیور اپنی غلطی کی معافی مانگتا ۔ کھُلے شیشے سے سر باہر نکال کر ہمیں کوسنے لگا ۔ میرا خیال تھا کہ ٹیکسی ڈرائیور اُسے تُرکی بہ تُرکی جواب دے گا لیکن اس نے مُسکرا کر بڑے دوستانہ طریقہ سے ہاتھ ہلایا ۔

میں نے ٹیکسی ڈرائیور سے کہا “اُس نے تو تمہاری ٹیکسی کو تباہ کرنے اور ہم دونوں کو ہسپتال بھیجنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی تھی اور تم نے مُسکرا کر اُسے الوداع کہا ؟”

ٹیکسی ڈرائیور کہنے لگا “کچھ لوگ محرومیوں یا ناکامیوں اور کُوڑ مغز ہونے کی وجہ سے بھرے ہوئے کُوڑے کے ٹرک کی طرح ہوتے ہیں ۔ جب اُن کے دماغ میں بہت زیادہ کُوڑا اکٹھا ہو جاتا ہے تو جہاں سے گذرتے ہیں گندگی بکھیرتے جاتے ہیں ۔ اور بعض اوقات اچھے بھلے لوگوں پر بھی یہ گندگی ڈال دیتے ہیں ۔ ایسا ہونے کی صورت میں ناراض ہونے کا کوئی فائدہ نہیں ۔ اپنے اُوپر بُرا اثر لئے بغیر گذر جانا چاہیئے ۔ ورنہ آپ بھی اُس سے لی ہوئی گندگی اپنے ساتھیوں پر اُنڈیلنے لگیں گے ۔ “

میں نے اُس دن سے ایسے لوگوں کے بے جا سلوک پر کُڑھنا چھوڑ دیا ہے اور میرے دن اب بہتر گذرتے ہیں ۔ یہ مجھ پر اُس ٹیکسی ڈرائیور کا احسان ہے ۔

زمرہ : روز و شب | 18 تبصرے »