صاحب آفاق
مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 05 Sep 2008
جس بندہء حق بیں کی خودی ہو گئ بیدار
شمشیر کی مانند ہے برّندہ و برّاق
اس کی نگہ شوق پہ ہوتی ہے نمودار
ہر ذرّے میں پوشیدہ ہے جو قوّت اشراق
اس مرد خدا سے کوئی نسبت نہیں تجھ کو
تو بندہء آفاق ہے ۔ وہ صاحب آفاق
تجھ میں ابھی پیدا نہیں ساحل کی طلب بھی
وہ پاکیءِ فطرت سے ہوا محرم اعماق
زمرہ : روز و شب, شاعری | تبصرہ کرنے میں پہل کیجیے »


۔ ۔ ۔ جب دنیا میں آئے تم رو رہے تھے اور سب خوش ہو رہے تھے زندگی ایسے گذارو کہ جب دنیا سے جاؤ تم خوش ہو اور سب رو رہے ہوں

