اسلام آباد دھماکہ ۔ کچھ پریشان کُن حقائق

اِنّا لِلہِ وَ اِنّا اِلیہِ راجِعُون

اسلام آباد کے کل کے دھماکے کے کچھ پریشان کُن حقائق ہیں مگر اس سے پہلے وقوعہ کا مختصر خاکہ ضروری ہے ۔ اربابِ اختیار کو اب دہشتگردی کے خلاف جنگ کی عینک اُتار کر شفاف عینک پہننا ہو گی تاکہ وطنِ عزیز کی تباہی میں کوشاں اصل مُجرموں تک پہنچ سکیں ورنہ “دہشتگردی کے خلاف جنگ” کے نعرے لگاتے لگاتے ۔ اللہ بچائے ۔ یہ مُلک خس و خاشاک ہو جائے گا ۔ اللہ بچائے ۔

امریکہ کی نام نہاد دہشتگردی کے خلاف جنگ جب سے شروع ہوئی ہے میرا وطن آئے دن آگ اور خون سے نہا رہا ہے اور انسان اور انسانیت کے چیتھڑے اُڑ رہے ہیں ۔ دُکھ اس بات کا ہے کہ اس کا شکار معاشی لحاظ سے درمیانے اور نچلے طبقہ کے ہموطن ہو رہے ہیں ۔ پرائی آگ میں اپنے وطن کو جھونکنے والے حکمران پہلی ہی سوچ میں ہر دھماکہ کا ذمہ دار طالبان ۔ انتہاء پسندوں یا عسکریت پسندوں کو ٹھہرا دیتے ہیں اور بیان داغتے ہیں جو ذرائع ابلاغ کو تو چارہ مہیاء کر دیتے ہیں لیکن دھماکے پر دھماکہ ہوتا چلا جا رہا ہے ۔

“انتہاء پسندو ں یا عسکریت پسندوں یا دہشتگردوں سے سختی سے نبٹا جائے گا ”
“دہشتگردی کے خلاف جنگ جاری رہے گی”

20 ستمبر 2008ء کا سورج غروب ہوتے ہی ہم نے روزہ افطار کیا اور مغرب کی نماز سے فارغ ہو کر ٹی وی لگایا کہ خبریں سُنی جائیں ۔ کچھ دیر ہی گذری تھی کہ ایک زوردار آواز سے ہم اُچھل پڑے ۔ میں گھر سے باہر نکلا کہ دیکھوں کیا ہوا ۔ کچھ پتہ نہ چلا ۔ چھوٹا بھائی مُلحقہ مکان میں رہتا ہے اسے پوچھا “یہ کیا آواز تھی ؟” وہ بولا “بہت زوردار آواز تھی ۔ ضرور کہیں قریب ہی دھماکہ ہوا ہے”۔ میں واپس آ کر ٹی وی کے سامنے بیٹھا ہی تھا کہ ایک پٹی آئی “اسلام آباد میں دھماکہ”۔ پھر لمحہ لمحہ بعد خبریں آتی رہیں اور واضح ہوا کہ اسلام آباد بلکہ پورے پاکستان میں محفوظ ترین سمجھا جانے والے میریئٹ ہوٹل کے گیٹ کے پاس دھماکہ ہوا ہے ۔ ہمارے گھر سے میریئٹ ہوٹل تک سیدھی لکیر کھنچی جائے تو فاصلہ ساڑھے چار یا پانچ کلو میٹر بنتا ہے ۔ بیچ میں عمارات اور درخت ہیں جو دھمک اور آواز کو جذب کر لیتے ہیں پھر بھی دھمک اتنی شدید تھی کہ دل نے کہا “یا اللہ خیر”۔

پریشان کُن حقائق

1 ۔ ایک چھوٹی گاڑی آ کر میریئٹ ہوٹل کے گیٹ پر لگے بیریئر سے ٹکرائی ۔ اس میں سے ایک شخص نکل کر چیخا

“جس نے نکلنا ہے نکل جائے ۔ تم لوگوں کے پاس صرف تین منٹ ہیں”۔

اس کے بعد سائرن کی آواز گونجی اور تین منٹ بعد ایک ڈَمپَر [dumper] ٹرک ہوٹل کے گیٹ کے سامنے رکھے کنکریٹ کے بلاکس [concrete blocks] سے ٹکرایا ۔ اُس کے انجن سے آگ نکلی ۔ پھر اُس پر لَدے ڈبوں سے شعلہ بلند ہوا اور ساتھ ہی قیامت خیز دھماکہ ہو گیا ۔ سڑک پر پندرہ فُٹ گہرا اور پچیس تیس فُٹ چوڑا گڑھا پڑ گیا اور چاروں طرف انسانی اعضاء بکھر گئے
[ترمیم ۔ چھوٹی گاڑی جو پہلے داخل ہوئی وہ بیریئر سے نہیں ٹکرائی ۔ وہ ہوٹل کی گاڑی تھی تیزی سے آئی اور ایک دم سے بیریئر کھول کے بند کر دیا گیا ۔ نکل جانے کا اعلان ہوٹل کی سکیورٹی والے نے کیا اور سائرن بھی بجایا ۔ ڈمپر ٹرک کیلئے بیریئر نہ کھولا گیا اور وہ اس ڑکرا گیا ۔ ہوٹل کی سکیورٹی والے ٹرک کی آگ بجانے کی کوشش کرتے رہے اور سب سب شہید ہو گئے]

2 ۔ دھماکے کی وجہ سے قدرتی گیس کا پائپ پھٹنا اور آگ لگنا تو عین ممکن ہے لیکن پریشان کُن حقیقت یہ ہے کہ آگ جس کمرے سے شروع ہوئی وہ پانچویں منزل [4th floor] پر ہے اور ہوٹل کے کمروں میں گیس کی سپلائی نہیں ہے کیونکہ ٹھنڈا اور گرم کرنے کا نظام مرکزی [4th floor] ہے ۔ صرف چند دن پہلے کے ایک واقعہ کا اس سے گہرا تعلق معلوم ہوتا ہے ۔

جس دن امریکی ایڈمرل مائیک میولن وزیر اعظم یوسف رضاگیلانی اور دیگر سے ملے تھے اُسی دن آدھی رات کے وقت امریکی سفارتخانے کا ایک بڑا سفید ٹرک میریئٹ ہوٹل آیا تھا ۔ اس ٹرک سے آہنی صندوق اُتارے گئے اور انہیں میریٹ ہوٹل کے اندر منتقل کر دیا گیا ۔ اس کاروائی کے دوران ہوٹل کے دونوں مرکزی دروازے بند کردیئے گئے تھے اور امریکی میرینز [American Marines] کے علاوہ کسی کو ٹرک کے قریب جانے کی اجازت نہیں تھی ۔ یہ صندوق ان سکینرز [scanners] سے بھی نہیں گزارے گئے تھے جو کہ ہوٹل کی لابی [lobby] کے داخلی راستے پر نصب تھے ۔ ان بکسوں کو ہوٹل کی پانچویں منزل [4th floor] پر منتقل کر دیا گیا تھا ۔ ان صندوقوں میں کیا تھا ؟ ان کو اندر لیجانے کیلئے سارے سکیورٹی سسٹم کو کیوں معطل کیا گیا ؟ ان کو ہوٹل میں لیجانے کا مقصد کیا تھا ؟ کیا پانچویں منزل کے کمرہ میں آگ لگنے کا سبب ان صندوقوں کے اندر تھا ؟

3 ۔ کچھ دن قبل خفیہ والوں نے وزارتِ داخلہ کو مطلع کیا تھا کہ اسلام آباد میں خاص طور پر 20 ستمبر کو دہشتگردی کی بڑی کاروائی متوقع ہے ۔ اس کاروائی میں ایک ٹینکر استعمال ہو گا جس کے آگے ایک چھوٹی گاڑی ہو گی ۔ وزارتِ داخلہ نے اسلام آباد میں داخل ہونے والی گاڑیوں کی چیکنگ شروع کر دی تھی اور خاص کر 20 ستمبر کو کوئی ٹینکر اسلام آباد داخل نہیں ہونے دیا گیا ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کاروائی اسلام آباد کے اندر ہی سے کی گئی ۔ اتنا ہائی ایکسپلوسِو مواد [High Explosive material] کہاں سے آیا ؟

4 ۔ غیر ممالک سے آنے والے تاجر اور کارخانہ دار یا دوسرے سرمایہ کار میریئٹ ہوٹل میں قیام کرتے ہیں ۔ سرمایہ کاروں کو واضح پیغام دیا گیا ہے کہ اس ملک میں آپ کے سرمائے اور آپ کی جان کو بھی خطرہ ہے ۔ یہ سب کچھ وطنِ عزیز کو معاشی لحاظ سے تباہ کرنے کیلئے کیا جا رہا ہے ۔ عراق اور افغانستان کو تو فوجی طاقت سے تباہ کیا گیا جس میں تباہ کرنے والوں کا مالی کے ساتھ بہت سا جانی نقصان بھی ہوا ۔ پاکستان کو بغیر اپنی فوجی قوت کو استعمال کئے تباہ کرنے کے منصوبہ پر عمل کیا جا رہا ہے ۔

5 ۔ اطلاع واضح طور پر مل چکی تھی اور پارلمنٹ ہاؤس اور وزیرِ اعظم ہاؤس کی حفاظت پر پولیس ۔ خفیہ والے اور ٹرِپل ون بریگیڈ [Brigade-111] کے کمانڈو تعینات کر دیئے گئے تھے لیکن عوام کو بالخصوص بڑے ہوٹلوں یا دوسری عمومی جگہوں کو تحفظ فراہم نہیں کیا گیا ۔

پڑے پالا مریں غریب ۔ پڑے گرمی مریں غریب
‘۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔
میرے مولا تو ہی بتا ۔ میں کس سے کروں شکوہ
میں کدھر جاؤں تیرے سوا ۔ کس سے مدد مانگوں
‘۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔
تو رحیم ہے کریم ہے مگر تیرے جہاں میں
ہیں تلخ بہت بندہءِ مزدور کے اوقات

This entry was posted in تجزیہ, خبر, روز و شب on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

23 thoughts on “اسلام آباد دھماکہ ۔ کچھ پریشان کُن حقائق

  1. ڈفر

    کچھ بعید نہیں ان حکمرانوں سے
    وہ کسطرح سے ہے؟
    “گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے”

  2. راشد کامران

    اجمل صاحب امریکی میرینز کے زیر انتظام ٹرک سے سامان کی منتقلی والی خبر کا ماخذ کیا ہے؟ کیونکہ امریکیوں نے اسطرح کی کاروائی کرکے پاکستان کو سنگین نقصان پہنچانا ہوتا تو صدر کی تقریر کے دوران پارلیمنٹ میں دھماکہ کرکے پاکستان کو انتہائی سنگین صورتحال سے دوچار کیا جاسکتا تھا جس میں سیاسی قیادت کو خدانخواستہ بڑا نقصان پہنچا کر فوجی اقتدار یا براہ راست پاکستان کا کنٹرول حاصل کرنا زیادہ آسان ہوجاتا؟ تحریک طالبان پاکستان کی اگست 2008 میں دی گئی براہ راست مزید دھماکوں کی دھمکی کے اس دھماکے سے تعلق کو آپ کس نظر سے دیکھتے ہیں؟

  3. نعمان

    میں راشد کامران کے سوالات کو دہراؤں گا۔ آپ کی خبر کا ماخذ کیا ہے؟

  4. احمد

    اللہ پاک آپکو جزاء دے آپ اپنے طور ظالموں کے چہروں سے نقاب اٹھا رہے ہیں حالانکہ فتنہ کے دور میں یہ بڑا مشکل کام ہے
    لوگوں کی معلومات، اخلاص،بغض،رافضیت؛اپنی ذات کا مفاد وغیرہ دیکھ کر کسی طور پر نہیں لگتا یہ ملک بچے گا، مسلمانوں کے ہاتھوں میں نظام کا آنا تو دیوانے کا خواب ہوگا

  5. Nayni

    حقائق بہت پریشان کن ہیںانکل اجمل :cry: – اگر میں اپنی یاداشت اور سماعت پہ یقین کروں تو کل دھماکے کے بعد قدرتی گیس کا جو نمائندہ ذرائع ابلاغ سے بات کر رہا تھا یس کے بقول ہوتل کی گیس فورا بند کر دی گئ تھئ اور وہ اصرار کر رہا تھا کے آگ کی وجہ گیس نہئں ھو سکتی- —
    دوسری بات یہ کہ ھو سکتا ھے اپنے ساتھیوں کی لاشیں دیکھ کر ھوٹل کے کسی ملازم نے ہی سب میرینز سے متعلقہ راز سے پردہ اٹھا دیا ہو-

  6. افتخار اجمل بھوپال Post author

    راشد کامران صاحب اور نعمان صاحب
    دھماکہ تو ہفتہ اور اتوار کی درمیانی رات میں ہوا ہے ۔ امریکی میرینز والی خبر تو جمعہ کو اسلام آباد میں پھیل چکی تھی اور اب تو اخبارات میں بھی چھپ چُکی ہے ۔ دو روابط یہ ہیں
    http://www.jang.net/urdu/details.asp?nid=305786
    http://thenews.jang.com.pk/top_story_detail.asp?Id=17401
    آپ کے گوش گذار کرنا چاہتا ہوں کہ میں جب اخباری خبر لکھتا ہوں تو اس کا ربط ضرور دیتا ہوں لیکن جو حقائق میں اللہ تعالٰی کے عطا کردہ ذاتی وسیلوں سے پتہ کرتا ہوں ان کا ربط دینا معیوب ہوتا ہے اسلئے نہیں دیتا ۔

  7. میرا پاکستان

    دیکھیں اس معاملے پر اب حکومت کیا موقف اختیار کرتی ہے۔ یہ بات واقعی حیران کن ہے کہ دھماکے کے بعد ہوٹل کی چوتھی اور پانچویں منزل پر آگ کیسے لگ گئی۔

  8. شکاری

    جس طرح بہت سے شکوک و شبہات نائن لیون کے واقعے پر ہیں اسی طرح اس بم بلاسٹ پر بھی ہیں افسوس تو اس بات کا ہے خود ہمارے مسلمان بھائی بغیر تحقیق کے جہاد ، طالبان ، اور مساجد ومدارس کے خلاف دشمنوں سے بھی ذیادہ بھر چڑھ کر بولنا شروع کر دیتے ہیں اپنی طرف سے وہ تبصرہ کررہے ہوتے ہیں لیکن اسی تبصرے کے دوران ایسے الفاظ استعمال کرجاتے ہیں کہ ایمان کی سلامتی خطرے میں پڑ جاتی ہے۔آج تقیریبا تمام فورمز پر لوگ اس وقعے پر بحث کرتے ہوئے ان لوگوں کے خلاف زہر اُگل رہے ہیں۔
    اگر اس میں امریکی واقعی ملوث ہیں تو دھماکے کا واحد مقصد پاکستانی عوام کی رائے طالبان کے خلاف ہموار کرکے قبائلی علاقوں میں امریکہ کو آپریشن کرنے کی اجازت دینا سمجھ آتا ہے ۔
    اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہمارے ملک کی حفاظت کرے۔ ویسے بھی آج رمضان کا آخری عشرہ شروع ہوگیا ہے اس میں افطاری کے وقت پاکستان کی سلامتی کی دعا ضرور کریں ۔۔۔۔۔۔

  9. راشد کامران

    اجمل صاحب آپ کی عمر، قابلیت اور علمیت کی وجہ سے کم از کم اردو بلاگرز میں آپ کی بات نہایت اہم تصور کی جاتی ہے اور ریفرینس کا درجہ رکھتی ہے اسلیے تنقید کے زیر اثر بھی زیادہ آتی ہے چناچہ اس میں بدگمانی کا کوئی عنصر نہیں بلکہ حقائق کو انکو اصل روح میں سمجھنے کی سعی ہے ہے اور اس میں ذاتیات کا عمل دخل صفر ہے چناچہ کوئی بھی اسے یہ رنگ نہ دے۔

    ابھی پچھلی کسی پوسٹ میں آپ نے “تحریک طالبان پاکستان” کے وجود کی یکسر نفی کی ہے جس کی خبریں باقاعدہ تحریک کے نام سے اسی “جنگ” اخبار میں شائع ہوئی تھیں اور میں نے درجن بھر دوسری نیوز ایجنسیز کے حوالے سے بھی خبروں کے لنکس فراہم کیے تھے “جو کسی وجہ سے آپ کے بلاگ میں شائع نہیں ہوئے” لیکن اب آپ اسی نیوز ایجنسی کی افواہ نما خبر کو حقائق کہہ رہے ہیں۔ مجھے ذاتی طور پر یہ “کنٹرا ڈکشن” معلوم ہوتی ہے کیونکہ اگر ایک ہی ادارہ آپ کے مفروضات کی تائید کرے تو اسے آپ معتبر ٹہرا رہے ہیں اور اگر وہ آپ کے گمان کی نفی کرے تو پروپیگنڈا ؟

  10. اظہرالحق

    انکل جی آپ کی اطلاعات بہت درست ہیں ، مگر کیا کریں ، پہلے سارے شہر نے دستانے پہنے تھے اب آنکھوں پر پٹیاں بھی باندھ لیں ہیں ، ہم سب جانتے ہیں کہ ان حالات کی وجہ ہم خود بھی ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ اللہ ہمیں معاف کرے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔آمین

    ایک اور چیز جو میں شیئر کرنا چاہتا ہوں کہ اسلام آباد میں جو طبقاتی تقسیم ہو رہی ہے ، خاصکر ہائی ماڈرن سوسائیٹیز اور مڈل سوسائیٹیز کے درمیان وہ بہت زیادہ ہے ۔ ۔ ۔ اور اب جب سرعام مڈل کلاس کا مذاق اڑایا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ تو وہ ٹنشن جو پہلے صرف غریبوں کے اندر تھی اب مڈل کلاس تک پہنچ گئی ہے ۔ ۔ ۔ ۔

    ایک اور بات کہ جب حکمران بار بار اس بات پر شکر ادا کریں کہ کوئی ہائی والیو اس سانحے کا شکار نہیں ہوا تو ایک مزید تقسیم کو ہوا دی جا رہی ہے ۔ ۔ ۔ کہ عام لوگ شکار بنیں ۔ ۔ ۔ تو کوئی بات نہیں ۔۔ ۔ مگر خواص زندہ رہنے چائیے ہمارے سینے پر مونگ دلنے کے لئے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

  11. افتخار اجمل بھوپال Post author

    افضل صاحب
    حکومت تو مرغے کی ایک ٹانگ والا معاملہ ہی رکھے گی

    شعیب صفدر صاحب
    تعاون کا شکریہ ۔ میں جوانی میں غیرمُسلموں کا مقابلہ کرتا رہا اور اب اپنے آپ کو مسلمان کہنے والوں کی تنقید کا ہدف بن جاتا ہوں ۔
    میرے لئے دعا کیا کیجئے کہ اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی میری موت تک میری آنکھوں اور میرے ذہن کو کھُلا رکھے اور جھُوٹ و مکاری سے محفوظ رکھے ۔

    شکاری صاحب
    آپ کا خیال درست ہے ۔ مسئلہ یہ ہے کہ قرآن شریف میں غور کرنے پر بار بار زور دیا گیا ہے اور مسلمانوں کی اکثریت نے غور کرنے کی بجائے طاغوت کی تقلید شروع کر رکھی ہے ۔ اللہ ہمیں سیدھی راہ دکھائے

    اظہرالحق صاحب
    آپ عرصہ سے ملک سے باہر بیٹھے ہیں اور ایسی چیز پہچان لی ہے جو بدقسمتی سے ملک کے اندر موجود رہنے والوں میں سے کئی نہیں پہچان سکے ۔ اللہ آپ کی ہمیشہ رہنمائی فرمائے ۔ جس چیز کی طرف آپ نے اشارہ کیا ہے یہ بہت خطرناک صورت اختیار کر سکتی ہے ۔

  12. افتخار اجمل بھوپال Post author

    راشد کامران صاحب
    آپ نے اگر کافی سارے روابط اکٹھے لکھے تھے تو وہ تبصرہ سپَیم میں چلا گیا ہو گا ۔ ویسے میں علم حاصل کرنے کی خاطر اخبارات کا مطالعہ کرتا رہتا ہوں ۔ دی نیوز اور ڈان تو میرے گھر کاغذ پر آتے ہیں ۔ اس کے علاوہ میں درجن بھر ملکی اور غیر مُلکی اخبارات انٹرنیٹ پر پڑھتا ہوں ۔ اسی وجہ سے مجھے احساس ہے کہ ذرائع ابلاغ انسانی سوچ کو کتنا تباہ کر رہے ہیں ۔
    تحریک طالبان نام کی کوئی جماعت اب پاکستان میں موجود نہیں ۔ اسے سمجھنے کیلئے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ طالبان کون تھے اور اُن کی تحریک کیا تھی ؟ طالبان ایک خیال ہے ایک تحریک ہے مگر کوئی سیاسی جماعت نہیں ہے ۔ اگر آپ ذرائع ابلاغ پر ہی یقین رکھتے ہیں تو ” آج ٹی وی” پر طلعت حسین کا نام نہاد پاکستانی طالبان کے سب سے بڑے رہنما کا انٹر ویو نشر ہو چکا ہے جس میں اس کے رہنما نے صاف الفاظ میں کہا تھا کہ طالبان کوئی جماعت نہیں ہے بلکہ ایک خیال ہے ۔ اور یہ بالکل درست ہے کیونکہ پاکستان کے قبائلی علاقہ میں کئی مختلف گروہ ہیں جن کا آپس میں کوئی اتحاد نہیں ہے ۔ وہ اپنے اُوپر ہونے والی بمباری کا انفرادی طور پر جواب دے رہے ہیں ۔
    آپ اگر غور سے اپنے تبصرہ پر میرا جواب پڑھیں تو آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ میں نے اپنی مندرجہ بالا تحریر کسی اخبار سے نقل نہیں کی ۔
    صرف آپ ہی نہیں آجکل کا ماحول ایسا ہو گیا ہے کہ ہر کوئی فیصلہ پہلے کرلیتا ہے اور تحریر بعد میں پڑھتا ہے جس کے نتیجہ میں حقیقت پر مبنی جواب ملنا مشکل ہو جاتا ہے ۔
    محترم ۔ تضاد تو آپ کے اس تبصرہ میں ہے کہ پہلے آپ مجھے عمر اور تجربہ کی بناء پر مستند قرار دیتے ہیں اور بعد میں میرے استدلال کو متضاد قرار دیتے ہیں ۔ جسے آپ نے میرا مفروضہ اور گمان قرار دیا ہے وہ ایسی حقیقت ہے جسے اسلام آباد میں بسنے والے کئی لوگ جانتے ہیں ۔
    کوئی مانے یا نہ مانے ۔ میں نے اپنی حد تک حقائق کو اُجا گر کرنے کا تحیّہ کیا ہوا ہے اور انشاء اللہ جب تک اللہ کو منظور ہے کرتا رہوں گا ۔

  13. راشد کامران

    اجمل صاحب وضاحت کا شکریہ۔۔ میرے جیسے وطن فروشوں کی بات تو چھوڑ دیں ہماری بات پہ کس نے کان دھرنا ہے۔۔ کیونکہ آپ کا نکتہ نظر کو لوگ اہمیت دیتے ہیں تو میں نے اپنی سی کوشش کی کہ آپ کو آگاہ کروں کہ آپ کے استدلال کے طریقوں میں تضاد آرہا ہے جس سے غیر جذباتی اور حقیقت پسند قاری کو جانبداری اور عقیدت کا شائبہ ہونے لگتا ہے۔۔۔ جیسے طلعت حسین کے پروگرام میں نام نہاد تنظیم کے بڑے رہنما نے تحریک کے وجود سے انکار کیا تو بڑے رہنما نے اسپتال، واہ فیکٹری پر خود کش حملے کی ذمہ داری بھی قبول کی اور مزید دھماکے کرنے کا عندیہ دیا۔۔ اسکی مذمت کیوں نہیں؟‌ امریکہ کے حملے کا بدلہ اسپتال کے مریضوں سے لینا ردعمل نہیں دہشت گردی ہے۔

  14. افتخار اجمل بھوپال Post author

    راشد کامران صاحب
    نہ میں نے کسی کو وطن فروش کہا ہے اور نہ میں سمجھتا ہوں کہ مجھے کسی کو ایسا کہنے کا حق ہے ۔ آپ غیرجذباتی ہونے کا دعوٰی کرتے ہوئے جذباتیت کا مظاہرہ کر رہے ہیں ۔
    جس شخص نے دھماکے کرنے کا دعوٰی کیا وہ اور جس کا میں نے ذکر کیا دو مختلف اشخاص ہیں ۔ میں شہریوں پر حملوں کو بہت بُرا سمجھتا ہوں لیکن یہاں بات حملوں کی نہیں رویّہ کی ہو رہی ہے ۔ خود کُش حملے اس وقت تک نہیں رُکیں گے جب تک الزام تراشی کو چھوڑ کر اصل مجرموں کی تلاش نہیں کی جاتی ۔ ہر بات کا ذمہ دار مُلا یا طالبان کو ٹھہرا دینا آجکل فیشن بن چکا ہے ۔

  15. ًمحمد ریاض شاہد

    شاید کہ اشرافیہ کو اس سے ہی کچھ عبرت آ جاے اور وہ اسلام نہ سہی بانی پاکستان کے نقش قدم پر چل پڑیں ۔

  16. Pingback: » میریٹ دھماکہ، سیکیورٹي اور سیاست میرا پاکستان:

  17. Wakas mir

    Aap ne bohat hi acha likha hei Ajmal sahib, lekin wohin baat na ye sab kuch jan’ne ke bawajud koi kuch nahi kar raha. Is se badi sharam ki kya baat hei hum sab ke liye hmmm

  18. Pingback: بول!! بول کہ لب آزاد ہیں تیرے » ہماری غلط فہمی و خوش فہمی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)