مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 16 Aug 2008
میرے وطن جموں کشمیر میں آج بھی آہنسا پرمودما کے پُجاری میرے مسلمان بھائوں کا خون بہا رہے ہے ۔ پچھلے دنوں ایک بار پھر مقبوضہ کشمیر کی سڑکوں اور گلیوں کو مسلمانوں کے خون سے رنگ دیا گیا
پیر اور منگل یعنی 11 اور 12 اگست 2008ء کے روز مقبوضہ کشمیر کے مختلف علاقوں سے لاکھوں کی تعداد میں لوگوں نے “مظفر آباد چلو” مارچ میں حصّہ لیا ۔ بھارتی فوج اور نیم فوجی دستوں اور ریاستی پولیس کے اہلکاروں نے مظاہرین پر اشک آور گیس کے شیل پھنکے اور گولیوں کی بوچھاڑ کر دی جس کے نتیجے میں مذاکرات کے ذریعہ معاملات کو حل کرنے کے حامی سرکردہ حریت رہنما شیخ عبدالعزیز اور ایک خاتون سمیت کم از کم 20 افراد شہید ہو گئے اور 100 سے زیادہ افراد زخمی ہوئے ۔ بھارتی سیکورٹی فورسز کی طرف سے طاقت کے استعمال اور مُظاہرین پر فائرنگ کا کوئی جواز نہیں تھا ۔ حکومت کا یہ اقدام کسی منطق کا نہیں بلکہ سراسر بوکھلاہٹ نتیجہ ہے
تنازعہ کیسے شروع ہوا
ریاست جموّں و کشمیر کے مسلم اکثریتی صوبہ کشمیر میں ہندوٴوں کی ایک مقدس غار واقع ہے ۔ جسے “امرناتھ گھپا” کے نام سے جانا جاتا ہے ۔ ہر سال بھارت کی مختلف ریاستوں سے ہندو عقیدت مند امرناتھ غار کی یاترا کیلئے آتے ہیں مگر کبھی ان کی رہائش کلا مسئلہ پیدا نہیں ہوا ۔ حال ہی میں ایک ہندو نجی ادارہ تشکیل دیا گیا اور ریاست کی حکومت نے یاتریوں کی سہولت کے نام پر 800 کنال زمین اس نجی ادارے کے نام منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ۔ یہ زمین دراصل مسلمانوں کے مقدس مقامات کی ملکیت ہے ۔
حکومت میں شامل بھارت نواز پارٹی نے بھی اس فیصلہ سےمشتعل ہو کر حکومت سے علیحدگی کا اعلان کر دیا ۔ شدید دباؤ کے پیش نظر ریاستی حکومت نے زمین منتقل کئے جانے کا فیصلہ واپس لیا لیکن اس فیصلے کے خلاف ریاست کے صوبہ جموّں میں ہندوٴوں کی طرف سے احتجاجی مظاہرے شروع کئے گئے ۔ ہر گُذرتے دن کے ساتھ ریاستی وزیر اعلیٰ غلام نبی آزاد پر سیاسی دباؤ بڑھتا ہی چلا گیا اور بالآخر 7 جولائی 2008ء کو وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے ۔ مگر ہندو تنظیموں نے اسی پر بس نہ کی اور پندرہ بیس دن قبل 294 کلو میٹر طویل جموّں سے سری نگر قومی شاہراہ کی مکمل ناکہ بندی کردی اور اشیاء ضروری کی سپلائی کشمیر نہیں پہنچنے دی اور نہ ہی مسلمانوں کے باغوں میں پیدا ہونے والے پھل گذرنے دئیے جو کہ گل سڑ گئے ۔
باغات کے مالکان اور تاجران نے اس غیرقانونی اور غیر انسانی ناکہ بندی سے مجبور ہو کر اپنا مال مظفر آباد اور راولپنڈی کی منڈیوں میں فروخت کرنے کا ارادہ کیا ۔ اس پر “مظفر آباد چلو” کا نعرہ لگایا گیا ۔ مقبوضہ ریاست جموں کشمیر کے مسلم اکثریتی علاقے صوبہ کشمیر میں پھلوں کی پیداوار سے منسلک فروٹ گروئرز ایسوسی ایشن ۔ تاجروں کی انجمنوں ۔ سول سوسائٹی کے اتحاد [کولیشن آف سول سوسائٹی] ۔ کل جماعتی حریت کانفرنس ۔ یہاں تک کہ بھارت نواز جماعت پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی طرف سے بھی مارچ کی حمایت کی گئی ۔
ایک طرف بھارت اور پاکستان کی حکومتیں سری نگر ۔ مظفر آباد روڑ سے تجارت شروع کرنے کی باتیں کررہے ہیں اور دوسری طرف مظفر آباد میں اپنا مال فروخت کرنے کی خواہش ظاہر کرنے پر بھارتی حکومت نے ہندوؤں کی طرف سے کی گئی غیرقانونی ناکہ بندی کو ختم کرانے کی بجائے کرفیو لگا کر علاقے کو فوج کے حوالے کر دیا ۔
یہ سب کچھ اس بھارتی حکومت کی ایماء پر اور سرپرستی میں ہو رہا ہے جو بھارت کو مذہبی تفریق سے آزاد جمہوریت قرار دیتی ہے اور امن امن کا راگ الاپتی رہتی ہے ۔
آج اپنے آپ کو مسلمان کہنے والے ڈیڑھ ارب انسان کہاں ہیں ؟ انسان دوستی کے راگ گانے والے اربوں جمہوریت پسند کہاں ہیں جن کا دعوٰی ہے کہ وہ کسی جانور کو بھی مرتا نہیں دیکھ سکتے ؟
اپنے 16 کروڑ پاکستانی کہاں ہیں ؟
وہ ہموطن کہاں ہیں جو بھارتی ہندؤوں سے پیار کی پینگیں بڑھانے کے گیت گاتے رہتے ہیں ۔
وہ مظلوموں کے دُکھ کا ساتھی ہونے کا دعوٰی کرنے والا الطاف حسین کونسا برطانوی نشہ پی چکا ہے کہ اُسے مسلمان کا خون نظر نہیں آتا ؟
زمرہ : روز و شب, منافقت | 2 تبصرے »
مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 14 Aug 2008
آؤ بچو ۔ سیر کرائیں تم کو پاکستان کی
جس کی خاطر دی ہم نے قربانی لاکھوں جان کی
پاکستان زندہ باد ۔ پاکستان زندہ باد
آج آنے والی رات کو 12 بج کر 57 منٹ پر سلطنتِ خداداد پاکستان کو معرضِ وجود میں آئے پورے 61 سال ہو جائیں گے ۔ میں کئی دن سے سوچ رہا تھا کہ میں آزادی کی سالگرہ مبارک تو ہر سال ہی لکھتا ہوں اور اب یہ الفاظ ہی حالات نے پھیکے پھیکے کر دئیے ہیں ۔ آزادی کے 61 سال بعد بھی ہم پسماندگی اور پریشانی کا شکار کیوں ہیں ؟ اس پر غور کر کے ہمیں اپنی خامیاں دور کرنے کی اشد ضرورت ہے ۔ جتنی جلد یہ خامیاں دور ہوں گی اتنی ہی تیز رفتاری سے ہمارا ملک ترقی کرے گا ۔ الحمدللہ ۔ اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی نے ہمارے مُلک کو ہر قسم کی نعمت سے مالامال کیا ہے لیکن ہموطنوں کی ناسمجھی کی وجہ سے قوم تنزل کا شکار ہے ۔
اندرونِ وطن
سب حقوق کا راگ الاپتے ہیں اور حقوق کے نام پر لمبی لمبی تقاریر اور مباحث بھی کرتے ہیں لیکن دوسروں کا حق غصب کرنا پیدائشی حق سمجھتے ہیں ۔ سڑک پر اپنی گاڑی میں نکلیں تو دوسری گاڑیوں میں سے اکثریت کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ وہ کسی طرح آپ سے آگے نکل جائیں یا آپ سے پہلے مُڑ جائیں ۔ چوراہے پر بتی ابھی سبز ہو نہیں پاتی کہ لوگ گاڑیاں بھگانے لگتے ہیں ۔ سڑک کے کنارے کھڑے کو کوئی سڑک پار کرنے نہیں دیتا
ہموطنوں کی اکثریت کو ہر چیز غیرملکی پسند ہے ۔ اپنے وطن کی بنی عمدہ چیز کو وہ حقیر جانتے ہیں اور دساور کی بنی گھٹیا چیز کو عمدہ سمجھ کر خریدتے ہیں ۔ کئی بار میرے مشاہدے میں آیا ہے کہ کوئی صاحب دساور کی بنی چیز زیادہ دام دے کر خرید لائے اور بعد میں پتہ چلا کہ وہ پاکستان کی بنی ہوئی ہے اور کم قیمت پر ملتی ہے ۔ مقامی دکاندار جب گاہکوں کی نفسیات تبدیل کرنے میں ناکام رہے تو انہوں نے مال پر فرانس ۔ جرمنی ۔ جاپان یا چین کا بنا ہوا لکھوانا شروع کر دیا ۔ میں اور دفتر کا ساتھی بازار کچھ خرید کرنے گئے وہاں ایک چیز پر چینی یا جاپانی زبان میں کچھ لکھا تھا ۔ اتفاق سے قریبی دکان سے دو جاپانی کچھ خرید رہے تھے ۔ میرا ساتھی وہ چیز لے کر ان کے پاس گیا اور پوچھا کہ کیا یہ جاپان کا بنا ہوا ہے تو وہ مسکرا کر کہنے لگے کہ یہ لکھا ہے پاکستان کا بنا ہوا
ملبہ یا کُوڑا کرکٹ بنائی گئی جگہ کی بجائے اپنے گھر کے قریب جہاں بھی خالی پلاٹ یا جگہ ہو وہاں انبار لگا دینا اپنی خُوبی سمجھا جاتا ہے ۔ قومی یا دوسروں کی املاک کو نقصان پہنچانا شاید بہادری سمجھا جاتا ہے اور بجلی کی چوری کئی ہموطنوں کی فطرت ہے اور وہ اسے اپنی عقلمندی یا چابکدستی سمجھتے ہیں ۔ دکاندار مال کا عیب گاہک کی نظروں سے اوجھل کر کے عیب دار مال بیچتے ہیں
میرے ہموطن ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں پاکستان میں کیا رکھا ہے ؟ یا کہہ دیں گے یہ بھی کوئی ملک ہے ۔ اپنے ہموطنوں کے متعلق کہیں گے کہ سب چور ہیں ۔ اس وقت وہ بھول جاتے ہیں کہ وہ اپنے آپکو بھی چور کہہ رہے ہیں
بیرونِ وطن
بیرونِ وطن ہموطنوں کی اکثریت بھی پاکستان اور پاکستانیوں کو نیچا دِکھانے پر تُلے رہتے ہیں ۔ گو اپنا یہ حال کہ عمر برطانیہ میں گذاری مگر صحیح انگریزی بولنا اور لکھنا نہ سیکھا ۔ سعودی عرب میں بیس پچیس سال رہے اور قرآن شریف صحیح طور پڑھنا نہیں آتا ۔
ایک صاحب جو برطانوی شہری ہیں پاکستان آئے ۔ ایک پتلون مجھے دکھا کر کہنے لگے “یہ میں نے لندن سے خریدی ہے ۔ ایسی اچھی کوئی پاکستان میں بنا سکتا ہے ؟” میں نے پتلون پکڑ کر دیکھی تو خیال آیا کہ یہ کپڑا تو وطنِ عزیز میں ملتا ہے ۔ میں نے پتلون بنانے والی کمپنی کا نام ڈھونڈنا شروع کیا ۔ پتلون کے اندر کی طرف ایک لیبل نظر آیا جس پر انگریزی میں لکھا تھا “پاکستان کی بنی ہوئی”۔
کچھ سالوں سے ایک نیا موضوع مل گیا ۔ “پاکستان خطرناک مُلک ہے ۔ وہاں روزانہ دھماکے ہوتے ہیں ۔ جان کو ہر وقت خطرہ رہتا ہے”۔ جس کو دیکھو وہ ہر باعمل مسلمان کو دہشتگرد قرار دے رہا ہے ۔
میں پاکستان سے باہر درجن بھر ملکوں میں گیا ہوں اور آٹھ دس دوسری قوموں سے میرا واسطہ رہا ہے ۔ میں نے کسی کے منہ سے اپنے ملک یا قوم کے خلاف ایک لفظ نہیں سُنا لیکن جس ملک میں بھی میں گیا وہاں کے پاکستانی یا جن کے والدین پاکستانی تھے کو پاکستان اور پاکستانیوں کے خلاف وہاں کے مقامی لوگوں کے سامنے باتیں کرتے سنا ۔
کاش ہموطن ایک قوم بن جائیں اور ہم صحیح طور سے یومِ پاکستان منا سکیں
زمرہ : تجزیہ, ذمہ دارياں, روز و شب, پيغام | 2 تبصرے »
مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 13 Aug 2008
1 ۔ کسی سے مت کہئیے ” تُم مجھے پسند نہیں”
2 ۔ جب تک ٹھوس وجہ نہ ہو ۔ کسی کو بُرا نہ سمجھئیے
3 ۔ خواہ کوئی اچھا ہو یا بُرا ۔ ہر ایک سے اچھا سلوک کیجئے لیکن بُرے شخص کے معاملہ میں ہوشیاری اور بُردباری سے کام لیجئے
4 ۔ کوئی بیہودہ گفتگو کرے تو زبان درازی سے نہیں ۔ سرد مہری سے اپنی ناپسندیدگی کا اُسے احساس دلایئے
5۔ جب تک تسلی سے غور نہ کر لیں ۔ کسی کی بات پر یقین نہ کیجئے
6۔ اکیلی لڑکی یا نوجوان عورت اپنے محرم کے علاوہ کسی مرد یا 12 سال سے زائد عمر کے لڑکے کو اپنے اتنا قریب آنے کا موقع نہ دے کہ وہ اُس کے جسم کو ہاتھ لگا سکے
7 ۔ اکیلی لڑکی یا نوجوان عورت اپنے محرم کے علاوہ کسی مرد یا 12 سال سے زائد عمر کے لڑکے کے ساتھ تنہا کمرے میں یا کسی الگ جگہ میں ہونے سے بچے
8 ۔ اکیلا لڑکا غیر محرم اکیلی عورت یا اپنے سے بڑی عمر کی لڑکی کے ساتھ تنہا کمرے میں یا کسی الگ جگہ میں ہونے سے بچے
زمرہ : روز و شب, معاشرہ, پيغام | 4 تبصرے »
مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 10 Aug 2008
مادیت پرستی نے دنیا کو اتنا محسور کر دیا ہے کہ آج کے دور کا انسان حقائق کو تسلیم کرنا تو کُجا حقائق سمجھنے کی بھی کوشس نہیں کرتا اور صرف اپنے تخلیق کردہ مادہ اور اطوار کو ہی حقیقت سمجھتا ہے ۔ انسان کی دین سے دُوری کا بنیادی سبب بھی یہی ہے ۔ ہم لوگ طبعیات ۔ کیمیا ۔ ریاضی ۔ معاشی ۔ معاشرتی ۔ وغیرہ مضامین کی کتابوں کو جس انہماک اور محنت کے ساتھ پڑھتے اور یاد رکھتے ہیں اگر اسی طرح دین کی بنیادی کتاب “قرآن شریف” کو بھی پڑھیں تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم اسے سمجھ نہ سکیں ۔ جس قوم کے افراد کا یہ حال ہو کہ دوسرے مضامین کی سینکڑوں سے ہزاروں صفحات پر مشتمل غیر زبان میں لکھی کُتب کے مقابلہ میں اسلامیات کی پچاس صفحوں کی کتاب بھی بوجھل محسوس ہو ایسے افراد سے دین کو سمجھنے کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے ۔
آمدن برسرَ مطلب ۔ دین ہے کیا ؟
دنیا میں ہر مصنوعی پرزہ کے استعمال کا طریقہ اس کے ساتھ لکھ کر دیا جاتا ہے اور ساتھ ہی احتیاطی تدابیر [Procedure; Operation layout or Process chart; Does and don’ts; Warning, etc] ہوتی ہیں ۔ مختلف اداروں میں کام کرنے والوں کو بھی لکھا ہوا یا زبانی طریقہ کار [Job description] مہیا کیا جاتا ہے جس میں بتایا جاتا ہے کہ کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا ۔ اسی طرح ہر اچھے معاشرہ میں زندگی گذارنے کا طریقہ بھی مروّج ہوتا ہے ۔
ہماری روزمرہ کی زندگی میں ہر کام کے کرنے کے طریقہ کو آج کی ترقی یافتہ دنیا نے اتنی اہمیت دی ہے کہ اسے آئی ایس او [ISO 2000 to ISO 14000] میں شامل کر لیا ہے اور مشہور ادارے اور کارخانے اس کی سندیں حاصل کرتے پھر رہے ہیں ۔
دین یہ کہتا ہے کہ اچھی زندگی کس طرح گذاری جاتی ہے ۔ اپنے خاندان کے افراد سے ۔ رشتہ داروں سے ۔ محلے والوں سے ۔ ہمسفر سے ۔ مُحتاجوں سے ۔ اپنے افسر سے ۔ اپنے ماتحت سے غرضیکہ ہر انسان سے اچھی طرح پیش آنے کا دین حُکم دیتا ہے اور دین جسم کی صفائی ۔ لباس ۔ کھانا پینا ۔ چلنا پھرنا ۔ لین دین ۔ تجارت ۔ ملازمت ۔ زندگی کے ہر شعبہ اور ہر فعل کے متعلق خوش اسلوبی کی طرف رہنمائی کرتا ہے ۔ اور ہر بات تفصیل سے بتاتا ہے ۔
اگر غور کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ چودہ صدیاں قبل قرآن شریف میں جو اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی کے احکام آئے آج کے جدید ترین انتظامی قوانین اُنہی سے ماخوذ ہیں مگر عمدگی میں اتنے کامل نہیں ہیں ۔ بات سمجھ سے باہر یہ ہے کہ اگر دین کو دنیا سے الگ ہی رکھنا ہے تو پھر دین کیا چوپایوں اور پرندوں کیلئے ہے ؟
زمرہ : ذمہ دارياں, روز و شب, معاشرہ | 5 تبصرے »
مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 07 Aug 2008
جب بات دسترست سے باہر ہو تو پریشانیوں سے بچنے کے لئے مندرجہ ذیل ہدایات پر عمل کیجئے
دنیا کیسی ہونا چاہیئے ؟ اس کا فیصلہ آپ کے ذمّہ نہیں
دوسروں کے چال چلن اور برتاؤ کے اصول مرتّب کرنا آپ کی ذمّہ داری نہیں
کيونکہ جب دنیا آپ کے بنائے اصولوں پر نہیں چلتی تو آپ کو پریشانی لاحق ہو جاتی ہے ۔
ہم لوگوں کی پریشانی کی وجہ عام طور پر یہی ہوتی ہے ۔ اِس پریشانی سے بچئیے
زمرہ : روز و شب, معلومات, پيغام | 4 تبصرے »