ظُلم اور کیا ہوتا ہے ؟
مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 31 Aug 2008
حکومت کی طرف سے قبائلی علاقوں اور سوات میں جو فوجی کاروائی جاری ہے اس کے نتیجے میں سینکڑوں لوگ بشمول بوڑھے ۔ بچے اور عورتیں ہلاک ہو چکے ہیں ۔
کیا یہ سب دہشتگرد تھے ؟
ان لوگوں کو جن میں اکثریت غریب و مسکین لوگوں کی تھی ہلاک کرنے سے پاکستان یا پاکستانی قوم کو کیا فائدہ ہوا ؟
یہ درست مان بھی لیا جائے کہ ان علاقوں میں کچھ دہشتگرد موجود تھے یا ہیں تو اُن کی شناخت کون کرے گا ؟
توپوں ۔ ہیلی کاپٹروں اور ہوائی جہازوں سے بمباری کر کے جن سینکڑوں پاکستانیوں کو اپنی ہی فوج نے ہلاک کیا ہے ان میں سے کتنے دہشتگرد ثابت ہوئے ہیں ؟
کیا اس قتلِ عام کا حکم دینے والے اور یہ قتلِ عام کرنے والے جانتے ہیں کہ بغیر جرم ثابت کئے کسی کو قتل کرنا جرم ہے اور گناہِ عظیم بھی ؟
کیا مارنے والے اگر مسلمان ہیں تو یہ جانتے ہیں کہ بلاقصور مرنے والے شہید ہوتے ہیں اور مارنے والے سیدھے جہنم میں جائیں گے ؟
کیا مارنے والے جانتے ہیں کہ جس امن کا وہ ڈھنڈورہ پیٹ رہے ہیں اس فوجی کاروائی کے نتیجہ میں امن کی بجائے پورے ملک میں انتشار پھیلے گا ؟
آخر اُن پانچ لاکھ سے زائد لوگوں کا کیا قصور ہے جو اس اندھا دھند بمباری کے نتیجہ میں اپنا گھر اور ساز و سامان چھوڑ کر اپنے ہی ملک میں مہاجر ہو گئے ہیں ؟
ان پانچ لاکھ میں سے زیادہ تر کھلے آسمان کے نیچے نہ صرف بلا کی گرمی کا مقابلہ کر رہے ہیں بلکہ پہروں بھوکے رہتے ہیں اور ان کے کمسن بچے بلکتے رہتے ہیں ۔
عوام سے کمائے ہوئے ٹیکسوں پر اللے تللے کرنے والے حکمران اپنی عیاشیاں ختم کر کے ان مسکینوں کے نان و نفقہ اور رہائش کا بندوبست کیوں نہیں کرتے ؟
اب نمعلوم کس وجہ سے صرف رمضان کے مہینہ میں فوجی کاروائی روکنے کا اعلان کیا گیا ہے ۔ آخر یہ فوجی کاروائی جس کا نہ ملک کو فائدہ ہے نہ قوم کو وہ ختم کیوں نہیں کر دی جاتی ؟
