Daily Archives: August 20, 2008

شہید اور زعفران

میں نے بچپن میں سُنا تھا کہ شہید کا جسم مرنے کے بعد گلتا سڑتا نہیں اور اس سے زعفران کی خوشبو آتی ہے ۔ یہ بات مجھے یاد آئی حریت رہنما شیخ عبدالعزیز کی شہادت پر جو مقبوضہ جموں کشمیر میں پیر 11 اگست 2008ء کے روز “مظفرآباد مارچ” کے دوران فوج کی فائرنگ سے شہید ہونے ۔ شیخ عبدالعزیز کا شمار تحریک آزادی جموں کشمیر کے ممتاز رہنماؤں میں ہوتا ہے۔ وہ بہت عزت کی نظر سے دیکھے جاتے تھے ۔ وہ کل جماعتی حریت کانفرنس کی ایگزیکیٹو کونسل کے رکن تھے۔

شیخ عبدالعزیز کا تعلق مقبوضہ جموں کشمیر کے ضلع پلوامہ سے تھا جہاں وہ 1952ء میں پامپور قصبے میں پیدا ہوئے۔ پامپور کا علاقہ زعفران کی پیداوار کے لئے مشہور ہے ۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم پامپور کے سکول میں ہی حاصل کی اور میٹرک کے بعد وہ کھیتی باڑی میں اپنے والد کا ہاتھ بٹانے لگے۔

شیخ عبدالعزیز ابھی نوجوان ہی تھے جب سرینگر میں حضرت بَل کے مزار سے پیغمبرِ اسلام سیّدنا محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم کے موئے مبارک کی چوری کے بعد ایک عوامی احتجاج شروع ہو گیا جس نے بہت جلد مزاحمتی رنگ اِختیار کر لیا اور اس سے متاثر ہو کر شیخ عبدالعزیز سمیت آزادی کے طلبگار کشمیریوں کی ایک پوری کھیپ تیار ہو گئی ۔ یہ حریت پسند اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں جموں کشمیر کے لوگوں کے حقِ خود ارادیت کے حامی تھے۔

شیخ عبدالعزیز کشمیر میں شورش کے دوران شیخ عبدالعزیز متعدد بار گرفتار ہوئے اور انہیں نے پندرہ سال سے زائد عرصہ جیل میں گزارنا پڑا۔ پہلی بار وہ 20 سال کی عمر میں گرفتار ہوئے جب ان پر بدنامِ زمانہ نیشنل سکیورٹی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔ وہ کل جماعتی حریت کانفرنس کے معتدل مزاج دھڑے سے وابستہ رہے جو بات چیت کے ذریعے کشمیر کے مسئلے کی حل کی حمایت کرتا ہے ۔ حالیہ دنوں میں ان کی اہم سیاسی کامیابی شری امرناتھ شرائن بورڈ کے مسئلے پر کل جماعتی حریت کانفرنس کے دونوں دھڑوں کو قریب لانا تھا۔