محنت ؟ ؟ ؟

ہم جب بچے تھے تو ایک مووی فلم بنی تھی جسے لوگ اشتراکیت کا پروپیگنڈہ کہتے تھے ۔ فلم تو میں نے نہیں دیکھی لیکن اس میں ایک گانے کے بول مجھے پسند تھے

محنت کی اِک سوکھی روٹی ۔ ہاں بھئی ہاں ہے
اور مُفت کی دودھ ملائی ۔ نہ بھئی نہ رے

“محنت کا پھل میٹھا ہوتا ہے” ۔ “محنت رائیگاں نہیں جاتی”۔ یہ محاورے نہ صرف وطنِ عزیز کی قومی زبان میں بلکہ تمام علاقائی زبانوں میں بھی مختلف طریقوں سے موجود ہیں ۔ شاید ہی کوئی ہموطن ایسا ہو جس نے یہ محاورے پڑھے یا سُنے نہ ہوں ۔ تعجب کی بات یہ ہے قوم کی اکثریت ان محاوروں کے مطابق عمل کرنا ضروری نہیں سمجھتی ۔ اس کا سبب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ محنت کا راستہ دُشوار گذار لگتا ہے ۔ شاید اس کی یہ وجہ ہے کہ انہیں ایک دوسرے محاورے نے زیادہ متاثر کیا ہے جو ہے “گھی سیدھی اُنگلی سے نہیں نکلتا”یعنی گھی نکالنے کیلئے اُنگلی ٹیڑھی کرنا پڑتی ہے ۔ آجکل تو اُنگلی سے گھی کوئی نکالتا ہی نہیں بلکہ اشتہاربازی کے زیرِ اثر زیادہ لوگ گھی کھاتے ہی نہیں ۔ تیل اور وہ بھی جس کے ساتھ کینولا لگا ہو استعمال کرتے ہیں ۔ مجھے اس سے نیولا یاد آتا ہے جو بڑی مہارت سے بڑے سے بڑے سانپ کو مات کر دیتا ہے ۔

میرا تجربہ یہ ہے کہ محنت کرنے والے کی قدر آج کی دنیا میں بہت کم رہ گئی ہے اور محنت کرنے والے کو کئی دُشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن محنت کرنے والا شخص جتنی پُراعتماد اور ذہنی سکون کی زندگی گذارتا ہے محنت کا راستہ اختیار نہ کرنے والا ایسی زندگی کا تصور بھی نہیں کر سکتا ۔

لگ بھگ 4 دہائیاں پہلے کی بات ہے میرے محکمہ کے ایک ساتھی میرے دفتر میں آئے اور مجھے کہنے لگے “اجمل ۔ آپ صرف محنت کرتے ہو ۔ آج کی دنیا اشتہاربازی کی ہے ۔ میں تو ایک ہاتھ سے کام کرتا ہوں اور دوسرے ہاتھ سے ڈفلی بجاتا ہوں ۔ یہ افسران مجمع کے لوگ ہیں ۔ ان کی توجہ حاصل کرنے کیلئے ڈفلی بجا کر مجمع لگانا ضروری ہے”۔

میں علامہ اقبال صاحب کو فلسفی سمجھتا ہوں ۔ اُن کا ایک شعر آٹھویں جماعت سے میرے لئے مشعلِ راہ رہا ہے

تُندیٔ بادِ مخالف سے نہ گبھرا اے عقاب
یہ تو چلتی ہے تُجھے اُونچا اُڑانے کے لئے

چنانچہ میں نے اپنے محکمہ کے بظاہر کامیاب ساتھی کی بات نہ مانی اور اپنا سفر آہستہ آہستہ جاری رکھا ۔ تُند و تیز ہواؤں کا مقابلہ کرتے کرتے کبھی کبھی میرا جسم شَل ہو جاتا ۔ ساتھی ڈِپلومیسی اختیار کرنے کا مشورہ دیتے ۔ میں اُن کی نصیحت کا شکریہ ادا کر دیتا لیکن جس خُو کو ساتھی ڈپلومیسی کا نام دیتے تھے وہ میرے لئے دوغلاپن یا منافقت تھی ۔ میرے دماغ اور دِل نے کبھی ہمت نہ ہاری اور اللہ کے فضل و کرم سے ہمیشہ سُکھ کی نیند سویا ۔ مجھے نان و نُفقہ کی کبھی فکر نہ ہوئی ۔ اگر کبھی فکر ہوئی تو صرف اس کی کہ میرے بچے کامیابی سے اپنے تعلیمی منازل طے کر لیں ۔ میں مالدار آدمی نہ تھا اور نہ ہوں لیکن اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی نے میرے ہر آڑے وقت کو کامیابی سے گذار دیا اور ہمیشہ آزادانہ زندگی بسر کی ۔ الحمدللہ رب العالمین کہ

یہ کرم ہے میرے اللہ کا مجھ میں ایسی کوئی بات نہیں ہے

This entry was posted in روز و شب, معاشرہ on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

8 thoughts on “محنت ؟ ؟ ؟

  1. فیصل

    انکل میرے خیال میں اگر کوئی آدمی آپ جیسی زندگی گزار لے تو یہ بہت بڑی کامیابی/ اچیومنٹ‌ہے۔ میں‌تو اس تصور کو ہی محال خیال کرتا ہوں‌کہ پاکستان میں بندہ سرکاری تنخواہ میں گزارہ کر لے۔ شائد یہ رزق حلال ہی تھا کہ آپکی اولاد کامیاب اور خوش و خرم ہے۔
    دعا گو،

  2. افتخار اجمل بھوپال Post author

    فیصل صاحب ۔ السلام علیکم
    کرم نوازی کیلئے ممنون ہوں ۔ زندگی ایک سوچ ہے جیسا کوئی اسے سمجھ لے ۔
    ملازمت کے دوران میرا سب سے مشکل دور وہ تھا جسے عوامی دور کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ۔ کچھ تو اس وقت کی حکومت کی منصوبہ بندیاں ایسی تھیں اور کچھ اتفاقات جمع ہو گئے ۔ مہنگائی یکدم بڑھی کہ ایک اچھے عہدہ پر ہوتے ہوئے مجھے اپنے چھوٹے چھوٹے تین بچوں کو دودھ پلانے کی مقدار آدھی کرنا پڑی ۔ اُسی دور میں ایسے تین چار ہفتے بھی شامل ہیں جب ہر لمحہ یہ خدشہ رہا کہ مجھے ایجنسی والے کہیں سے اُٹھا لیں گے اور پھر کسی کو میری خبر بھی نہ ملے گی ۔ آجکل تو یہ بات ہر کوئی سمجھ لیتا ہے لیکن اُس زمانہ میں یہ ناقابلِ یقین چیز تھی ۔ مجھے دوستوں نے مشورہ دیا کہ میں شہر چھوڑ جاؤں اور روپوش ہو جاؤں مگر میرے سوہنے اللہ نے مجھے ایسا نہ کرنے دیا اور میری حفاظت فرمائی ۔ میرا ایمان ہے کہ اللہ بہت مہربان ہے ۔

  3. I Love Pakistan

    السلام علیکم چاچا اجمل!
    بڑے عرصے کے بعد میری حاضری ہورہی ہے۔امید کرتا ھوں کہ آپ اور سب اردو بلوگرز خیریت سے ھونگے۔
    اصل میں جس چیز نے مجھے یہ رائے لکھنے پر مجبور کیا ہے،وہ یہ ہے۔”یہ خدشہ رہا کہ مجھے ایجنسی والے کہیں سے اُٹھا لیں گے” یہ بات پڑھکرمیرے ذہن میں یہ خیال آیاہے کہ آیا یہ شروع دن سےپاکستانی ایجنسیوں کا وطیرہ ھے کیا؟؟؟؟
    شکریہ

  4. افتخار اجمل بھوپال Post author

    محبِ پاکستان صاحب ۔ السلام علیکم
    خوش آمدید ۔ یہ سلسلہ عوامی دور میں شروع ہوا لیکن وجہ ذاتی ہوتی تھی جبکہ کہ پرویز مشرف نے جو بازار گرم کر رکھا تھا اس کی وجہ غیرملکی تھی ۔ وجہ کی نوعیت ذاتی ہونے کے باعث اُن دنوں بہت کم ایسے واقعات ہوتے تھے ۔ جس وجہ سے مجھے شکار کرنے کی بہت کوشش کی گئی تھی اس سلسلہ میں میرے تین ساتھی افسر اور دو سٹاف کے آدمی اُٹھائے جا چکے تھے اور میں اُن کی غیر قانونی قید سے رہائی کیلئے قانونی چارہ جوئی کر رہا تھا کیونکہ اُٹھائے گئے لوگ میرے ماتحت تھے ۔

  5. عارم پاکستانی

    میرے خیال میں محنت کا پھل ملتا تو اب بھی ہے اگرچہ ہمارے وطن میں اس کی شرح کچھ گھٹ گئی ہے۔ :razz:
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    جنم دن بہت بہت مبارک ہو۔ (ایک بلاگ سے علم ہوا تھا) اللہ آپ کو صحت و عافیت کے ساتھ رکھے۔ آمین

  6. Mohammed masood

    تُندیٔ بادِ مخالف سے نہ گبھرا اے عقاب
    یہ تو چلتی ہے تُجھے اُونچا اُڑانے کے لئے

    آپکی اطلاع کے لیے عرض کہ یہ شعر علامہ اقبال صاحب کا نہیں ہے آپنی اصلاح کر لیں شکریہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)