ظُلم اورکیاہوتاہے

حکومت کی طرف سے قبائلی علاقوں اور سوات میں جو فوجی کاروائی جاری ہے اس کے نتیجے میں سینکڑوں لوگ بشمول بوڑھے ۔ بچے اور عورتیں ہلاک ہو چکے ہیں ۔

کیا یہ سب دہشتگرد تھے ؟

ان لوگوں کو جن میں اکثریت غریب و مسکین لوگوں کی تھی ہلاک کرنے سے پاکستان یا پاکستانی قوم کو کیا فائدہ ہوا ؟
یہ درست مان بھی لیا جائے کہ ان علاقوں میں کچھ دہشتگرد موجود تھے یا ہیں تو اُن کی شناخت کون کرے گا ؟
توپوں ۔ ہیلی کاپٹروں اور ہوائی جہازوں سے بمباری کر کے جن سینکڑوں پاکستانیوں کو اپنی ہی فوج نے ہلاک کیا ہے ان میں سے کتنے دہشتگرد ثابت ہوئے ہیں ؟

کیا اس قتلِ عام کا حکم دینے والے اور یہ قتلِ عام کرنے والے جانتے ہیں کہ بغیر جرم ثابت کئے کسی کو قتل کرنا جرم ہے اور گناہِ عظیم بھی ؟
کیا مارنے والے اگر مسلمان ہیں تو یہ جانتے ہیں کہ بلاقصور مرنے والے شہید ہوتے ہیں اور مارنے والے سیدھے جہنم میں جائیں گے ؟
کیا مارنے والے جانتے ہیں کہ جس امن کا وہ ڈھنڈورہ پیٹ رہے ہیں اس فوجی کاروائی کے نتیجہ میں امن کی بجائے پورے ملک میں انتشار پھیلے گا ؟

آخر اُن پانچ لاکھ سے زائد لوگوں کا کیا قصور ہے جو اس اندھا دھند بمباری کے نتیجہ میں اپنا گھر اور ساز و سامان چھوڑ کر اپنے ہی ملک میں مہاجر ہو گئے ہیں ؟

ان پانچ لاکھ میں سے زیادہ تر کھلے آسمان کے نیچے نہ صرف بلا کی گرمی کا مقابلہ کر رہے ہیں بلکہ پہروں بھوکے رہتے ہیں اور ان کے کمسن بچے بلکتے رہتے ہیں ۔

عوام سے کمائے ہوئے ٹیکسوں پر اللے تللے کرنے والے حکمران اپنی عیاشیاں ختم کر کے ان مسکینوں کے نان و نفقہ اور رہائش کا بندوبست کیوں نہیں کرتے ؟

اب نمعلوم کس وجہ سے صرف رمضان کے مہینہ میں فوجی کاروائی روکنے کا اعلان کیا گیا ہے ۔ آخر یہ فوجی کاروائی جس کا نہ ملک کو فائدہ ہے نہ قوم کو وہ ختم کیوں نہیں کر دی جاتی ؟

This entry was posted in روز و شب on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

5 thoughts on “ظُلم اورکیاہوتاہے

  1. محمد ریاض شاھد

    محترم افتخار صاحب
    آپ کی تحریر ایک درد مند پاکستانی کی تحریر کی ہے۔آپ نے اس تباہی کی کھل کر مذمت کی ہے۔مگر مسلہ یہ ہے کی عالمی طاقتوں کا ایک بہت بڑا کھیل اس علاقے میں کھیلا جا رھا ہے۔ پاکیستان نہ چاہتے ہوے بھی اس کھیل کا حصہ بننے پر مجبور ہے ۔کیونکہ اپنے لوگ فوج کو غاصب سمجھتے ہیں تو اپنے طالبان اسے منافق فوج پکارتے ہیں۔ اصل میں پاک فوج ہی دشمن کا اصل ھدف ہے۔

  2. Faisal

    ریاض‌صاحب میں‌نہیں‌سمجھتا کہ پاک فوج اصل ہدف ہے، اصل ہدف پاکستان ہے نہ کہ پاک فوج۔ یہ دو مختلف باتیں‌ہیں لیکن افسوس کی بات کہ سابقہ حکومتوں‌نے ‌پاک فوج کے مفادات کو ہمیشہ پاکستان کے مفاد بنا کر پیش کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ایک ہم ایک غریب تیسری دنیا کا ملک لیکن ایک امیر اور بڑی فوج کے مالک ہیں۔ اس حالیہ قصے میں‌بھی تو پاکستانی عوام ہی مر رہی ہے، فوج کا نقصان تو کم ہی ہوا اور وہ بھی زیادہ تر نان کمیشنڈ افسر اور جوان ہیں۔ گلےتو بچارے ایف سی والوں کے کٹ رہے ہیں‌یا پولیس کے۔ یہ کچھ نیا بھی نہیں کشمیر میں‌بھی تو پاک فوج نے کئی دہائیوں‌سے یہ ڈرامہ شروع کر رکھا ہے کہ خود دفتروں‌میں‌بیٹھے ہیں‌اور مجاہدین گولیاں‌کھاتے ہیں
    مجھے سمجھ نہیں‌آتی کہ آج تک اس فوج نے کونسا ملک فتح‌کیا ہے سوائے اپنے ملک کے اور کونسی جنگ جیتی ہے اور جو جنگیں‌لڑی ہیں‌ان میں‌سے اپنی کتنی تھیں‌ یا ہیں اور کرائے کے کتنی۔

  3. محمد ریاض شاہد

    محترم پھوپال صاحب کے احترام میں میں مزید بحث سے گریز کرتا ہوں۔

  4. افتخار اجمل بھوپال Post author

    محمد ریاض شاہد صاحب
    نوازش کا شکریہ ۔ آپ بحث بیشک نہ کریں لیکن اپنے خیالات کا اظہار ضرور کریں ۔ ہو سکتا ہے تفصیل آنے پر معلوم ہو کہ آپ اور میں ایک ہی بات دو طرح سے کہہ رہے ہیں ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)