محاورے جو پہلے سمجھ نہ آئے تھے

10,877 بار دیکھا گیا

ہمیں سکول کے زمانہ میں اُردو اور انگریزی میں بہت سے ضرب المثل پڑھائے گئے تھے جن میں کچھ ایسے تھے جو مشاہدہ یا تجربہ نہ ہونے کی وجہ سے ہماری سمجھ میں نہیں آئے تھے ۔ ان میں سے اُردو کے مندرجہ ذیل اکیسویں صدی میں یعنی پچھلے سات آٹھ سالوں میں سمجھ میں آئے ہیں

اُلٹی گنگا
اُلٹے بانس بریلی کو
اُلٹا چور کتوال کو ڈانٹے
سُنیں سب اُسکی جو ڈُگڈُگی بجائے
آنکھ کے اندھے نام نین سُکھ
چور اُچکا چوہدری ۔ لُنڈی رَن پردان
اُونٹ رے اُونٹ تیری کونسی کل سیدھی
ناچ نہ جانے ۔ آنگن ٹیڑا
کوّا گیا مور بننے ۔ نہ مور بنا نہ کوا رہا
پڑے گرمی مریں غریب ۔ پڑے پالا مریں غریب
[سخت سردی میں گھاس پر رات کے وقت برف سی جم جاتی ہے اسے پالا کہتے ہیں

This entry was posted in روز و شب on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

7 thoughts on “محاورے جو پہلے سمجھ نہ آئے تھے

  1. Nayni

    ہی ہی ہی ہی- چوتھا، چھٹا اور اخری کمال کے ہیں –

    میرا حصہ-

    – ایک منہ دو بات
    – ٹس سے مس نہ ہو نا۔
    -چھاج میں ڈال کر چھلنی میں اڑانا۔
    – ساجھے کا کام اتارے چام۔

  2. Nayni

    اورproverbs—-

    – سانجھ کی ھنڈیا چوراھے پر پھوٹتی ہے-
    – زبردست کا ٹھینگا سر پار-
    -غیر کی بد شگونی کے واسطے اپنی ناک کٹوانا-
    – منبر کو بناے مسجد کو ڈھاے
    ھر کہ امد عمارت نو ساخت

  3. افتخار اجمل بھوپال Post author

    راشد کامران صاحب ۔ السلام علیکم
    “چور اُچکا چوہدری اور لُنڈی رَن پردان” کا مطلب یہ ہے کہ اگر حُکمران لُٹیرا ہو تو مُلک میں جرائم پیشہ مُعتبِر کہلاتے ہیں

    نینی صاحبہ ۔ السلام علیکم
    اضافہ کا شکریہ ۔ میں نے صرف وہمحاورے لکھے ہیں جن کی پہلے سمجھ نہ آئی تھی ۔

  4. باذوق

    آٹے دال کا بھاؤ معلوم ہونا
    یہ محاورہ مجھے اس وقت سمجھ میں آیا جب اکیلے رہنا ختم کر کے بال بچوں‌ کے ساتھ دیارِ غیر میں زندگی بِتانا شروع کیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)