مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 19 Jun 2008
تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ چند صدیاں قبل نعرہ کسی شخص ۔ خاندان ۔ گروہ یا قوم کی شناخت ہوا کرتی تھی ۔ اپنے اس نعرے یا قول کی خاطر فرد ۔ خاندان ۔ گروہ یا قوم اپنی جان تک قربان کر دیتے تھے مگر یہ گوارا نہیں کرتے تھے کہ کوئی کہے “نعرہ کچھ ہے اور عمل کچھ اور”۔ نعرے اب بھی ہیں اور پرانے وقتوں کی طرح حِلم سے نہیں بلکہ ببانگِ دُہل لگائے جاتے ہیں مگر اب ان نعروں کا مقصد عام طور پر اپنے گھناؤنے عمل پر پرہ ڈالنا ہوتا ہے ۔
دورِ حاضر میں نان نہاد ترقی یافتہ دنیا کے سب سے بڑے نعرے ” امن” اور “انسان کی خدمت” ہیں جبکہ یہ نعرے لگانے والوں کے عمل سے ان کا نصب العین دنیا میں دہشتگری اور اپنی مطلق العنانی قائم کرنا ثابت ہوتا ہے ۔ لیکن ہمیں غیروں سے کیا وہ ہمارے سجّن تو نہیں ہوسکتے ۔
آج ہماری قوم کی حالت یہ ہے کہ اللہ کی آیتوں کی بجائے شاعروں کے شعروں پر شاید زیادہ یقین ہے اور شاعر نے کہا ہے ۔ تْجھ کو پرائی کیا پڑی اپنی نبیڑ تو ۔ اسلئے کسی سے کُچھ کہا جائے تو وہ یہی جواب دیتا ہے ۔
ہاں تو بات ہو رہی تھی نعروں کی ۔ افواجِ پاکستان یعنی مملکتِ خداد داد پاکستان کی فوج کا نعرہ ہے
ایمان ۔ تقوٰی اور جہاد فی سبیل اللہ
میں جب وطنِ عزیز میں کسی فوجی علاقہ کے سامنے سے گذرتے ہوئے یہ نعرہ لکھا پڑھتا تھا تو سوچا کرتا تھا کہ جس نعرے پر عمل نہیں کر سکتے وہ لکھا کیوں ہے ؟ لیکن پچھلے دو سال سے تو عمل اس نعرے کے بالکل خلاف ہے جس نے مجھے پریشان کر رکھا ہے ۔ کبھی باجوڑ کے قصبہ ڈماڈولا کے دینی مدرسے کے درجنوں معصوم کم عمر طالب علموں کی لاشیں نظر آکر تڑپاتی ہیں اور کبھی جامعہ حفصہ میں گولیوں اور گولوں سے ہلاک کی جانے والی اور سفید فاسفورس کے گولوں سے زندہ جلائی جانے والی 4 سال سے 17 سال کی سینکڑوں معصوم ۔ یتیم یا لاوارث طالبات کی یاد پریشان کرتی ہے ۔ تو کبھی اپنے وطن میں چلتے پھرتے یا گھر سے اُٹھا کر غائب کئے گئے ہموطنوں کی ماؤں کے نہ رُکنے والے آنسو اور ان کے بلکتے بچوں کے اُداس سپاٹ چہرے خُون کے آنسو رُلاتے ہیں ۔ کہیں بلوچستان آپریشن ہے تو کہیں سوات مالاکنڈ آپریشن ۔
سوچتا ہوں کہ اگر ہمارے فوجی جرنیلوں کو دین اور وطن سے کوئی محبت نہیں تو وہ یہ نعرہ ختم کیوں نہیں کر دیتے ۔ کیا اُنہیں احساس ہے کہ یہ نعرہ لکھ کر اور پھر اس کی خلاف ورزی کر کے وہ دوہرے جُرم کا ارتکاب کر رہے ہیں ؟
زمرہ : ذمہ دارياں, روز و شب, منافقت | 2 تبصرے »
مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 16 Jun 2008
خوش رہنے کے لئے ضروری ہے کہ یا تو ہم ساری دنیا کو تبدیل کر دیں یا ہم اپنی سوچ بدل دیں
دنیا کو تو کوئی بدل نہیں سکتا اس لئے ہمیں اپنے آپ کو درست رکھتے ہوئے یہ توقع چھوڑ دینا چاہیئے
مختصر یہ کہ مسئلہ متنازعہ نہیں ہوتا بلکہ مسئلہ حل کرنے کا رویّہ متنازعہ ہوتا ہے
خوشی کا تعیّن اس سے نہیں ہوتا کہ کسی کے ساتھ کیا ہوا بلکہ اِس سوچ سے ہوتا ہے کہ اُس کے ساتھ کیا ہوا
زمرہ : روز و شب, معاشرہ | 3 تبصرے »
مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 13 Jun 2008
وطنِ عزیز میں ہر طرف ہر جگہ فَن کا مظاہرہ نظر آتا ہے ۔ جسے دیکھو اپنے تئیں فنکار بنا پھرتا ہے ۔ صدر ہو ۔ وزیر ہو ۔ صحافی ہو یا مداری ایک سے ایک بڑھ کر فنکار ہے ۔ لیکن میں اُن چھوٹے چھوٹے لوگوں کی فن کاری کی بات کروں گا جن کا کوئی نام نہیں لیکن وہ اپنے فن پارے سے لمحہ بھر کیلئے بہت سے لوگوں کے چہرے پر مسکراہٹ بکھیر دیتے ہیں ۔
اسلام آباد اور کوہ مری کے درمیان چھَرا پانی کے قریب ایک چھوٹی سی دُکان پر جلی حروف میں لکھا ہے ۔
شاہ جی انڈے شاپ
سڑکوں پر گومتی بسوں ۔ ویگنوں ۔ ٹرکوں پر بھی بہت سے فنکاروں نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا ہوتا ہے ۔ ان فنکاروں میں کبھی کبھی کوئی حقیقت پسند بھی نظر آ جاتا ہے ۔ ملاحظہ ہو ایک شعر ۔
ہر اِک موڑ پر ملتے ہیں ہمدرد مجھے
لگتا ہے میرے شہر میں اداکار بہت ہیں
ہمارے مُلک میں ادا کاروں کی واقعی بہتات ہے ۔ اور کیوں نہ ہو اس مُلک میں جس کا صدر سب سے بڑا اداکار ہے ۔
فن کا ایک اچھوتا مظاہرہ نتھیا گلی کے خُنکی آمیز پہاڑوں پر نظر آتا ہے ۔ نتھیا گلی کے بلند ترین حصے میں ایک ہوٹل کے باغیچہ میں داخل ہوتے ہی پھولوں کی کیاری کے قریب لکھا نظر آتا ہے
آپ کی خوشی اور تفریح طبع کی خاطر ہم نے اپنا بہت سا وقت ۔ محنت اور دولت لگا کر یہ پھُول اُگائے ہیں
آپ خیال رکھیئے اُن زائرین کا جنہوں نے یہاں آ کر ابھی یہ پھُول نہیں دیکھے
آگے بڑھیں تو باغیچہ کے دوسرے سرے پر پھولوں کی کیاریوں کے قریب یہ تحریر نظر آتی ہے
پھُول توڑنا منع ہے ۔ جس نے پھُول توڑا اُسے ایف بی آئی کے حوالہ کر دیا جائے گا تاکہ وہ اُسے دہشتگرد قرار دے کر سزا دے دے
زمرہ : روز و شب, مزاح, معاشرہ | ابھی تک ایک تبصرہ ہوا ہے »
مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 11 Jun 2008
منگل 10 جون اور بدھ 11 جون کی درمیانی رات امریکہ کے زیرِ اثر افغانی اور دوسری فوج نے پاکستان کی سرزمین پر مُہمند کے علاقہ چوپارا میں قائم فوجی چوکی پر حملہ کیا ۔ حملہ میں خودکار اور بھاری اسلحہ استعمال کیا گیا ۔ افغانستان سے 2 ہوائی جہازوں نے پاکستان کی حدود میں داخل ہو کر بہادُو قلعہ اور گولونو قلعہ کے علاقہ پر بمباری بھی کی ۔
اطلاعات کے مطابق ایک میجر [اکبر] سمیت 13 پاکستانی فوجی اس حملہ میں شہید ہوئے اور 40 فوجی لاپتہ ہیں ۔ اس علاقہ میں کل 63 فوجی تھے جن میں سے صرف 10 سے رابطہ ہو سکا ہے ۔
پرویز مشرف کے امریکہ سے یہ ناجائز تعلقات نمعلوم قوم کو کتنا اور نقصان پہنچائیں گے ۔
زمرہ : خبر | 3 تبصرے »