What Am I میں کیا ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

ميرا مقصد انسانی فرائض کے بارے میں اپنےعلم اور تجربہ کو نئی نسل تک پہنچانا ہے ۔ رَبِّ اشْرَحْ لِی صَدْرِی وَيَسِّرْ لِی أَمْرِی وَاحْلُلْ عُقْدة مِنْ لِسَانِی يَفْقَھُوا قَوْلِی



تختۂ کار

محفوظہ برائے May 29th, 2008

واقعی ؟

مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 29 May 2008

سُنا ہے کہ ایک اخبار ہے ۔ خبریں ۔ اُس میں خبریں کم اور افواہیں زیادہ ہوتی ہیں ۔ حقیقت اس اخبار کو پڑھنے والے جانتے ہوں گے ۔ مجھے یہ اخبار پڑھنے کا موقع ابھی ہاتھ نہیں لگا ۔ خیر ۔ چھوڑئیے اخبار کو ۔ آمدن بر سرِ مطلب ۔ ۔ ۔

آج صبح کوئی گیارا بجے میرے موبائل کی گھنٹی بجی ۔ اُٹھا کر چابی دبائی اور کان کو لگایا
“کوئی خبر سُنی ہے ؟”
“کیا خبر ؟”
“سنا ہے بادشاہ مستعفی ہو گئے اور گرفتار کر لئے گئے”
“نہیں بھائی ۔ مجھے ابھی خبروں کی فرصت نہیں ملی”
“کچھ پتہ تو کیجئے”

اچھا کہہ کر ٹی وی لگایا ۔ جیو ۔ اے آر وائی ۔ آج ۔ ایکسپریس ۔ مگر ایسی کوئی افواہ بھی نہ پائی گئی ۔

پھر دو ٹیلیفون کھڑکا دئیے اور کہا ” شہر میں بادشاہ کی رُخصتی کی افواہ ہے ۔ میاں ۔ کچھ پتہ تو کیجئے ”
آخر بعد دوپہر ایک ٹیلیفون آیا
“اچھا ہو رہا ہے ”
” اُس کیلئے یا ہمارے لئے ؟”
“سب کیلئے”

اس دوران ٹی وی پر تازہ ترین خبر آئی ” چیئرمین سینیٹ ۔ محمد میاں سومرو کو جرمنی سے واپس بُلا لیا گیا ہے

جون 2008ء کا سورج آرمی ہاؤس پر چڑھے گا یا صدر کے کیمپ آفس پر ۔ کون جانے ۔
سمجھ میں آیا ؟ اگر نہیں تو 60 گھنٹے انتظار کیجئے

زمرہ : خبر | 4 تبصرے »