اسی قرآن ميں ہے اب ترکِ جہاں کی تعليم
جس نے مؤمن کو بنايا مہ و پروين کا امير
تن بہ تقدير ہے آج ان کے عمل کا انداز
تھی نہاں جن کے ارادوں ميں خدا کی تقدير
تھا جو ۔ ناخُوب ۔ بتدريج وہی خوب ہوا
کہ غلامی ميں بدل جاتا ہے قوموں کا ضمير
زندہ قوت تھی جہاں ميں يہی توحيد کبھی
آج کيا ہے صرف اک مسئلۂِ علمِ کلام
روشن اس ضؤ سے اگر ظُلمت کو دار نہ ہو
خود مسلماں سے ہے پوشيدہ مسلماں کا مقام
ميں نے اے ميرِ سپہ ۔ تيری سپہ ديکھی ہے
قُل ھوَ اللہُ کی شمشير سے خالی ہے نيام
آہ ۔ اس راز سے واقف ہے مُلا نہ فقيہہ
وحدت افکار کی بے وحدت کو دار ہے خام
يوں محسوس ہوتا ہے کہ علّامہ اقبال نے يہ شعر آجکل کے دور کيلئے لکھے تھے