مشورہ کی اہمیت
1,686 بار دیکھا گیا مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ May 26 2008
آپ نے راکٹ يا اُس کی تصوير ديکھی ہو گی ۔ اس کے پچھلے سِرے کے قريب پر [fins] ہوتے ہيں جن ميں سوراخ ہوتے ہيں ۔ جب پہلی بار راکٹ بنايا گيا تو پروں میں يہ سوراخ نہيں تھے ۔ جب راکٹ چلايا جاتا تو نشانے پر نہ جاتا ۔ ماہرین نے ڈیزائین میں کئی تبدیلیاں کیں ۔ پروں کو بہت مضبوط بھی بنایا اور ہر تبدیلی کے بعد راکٹ چلا کر دیکھا لیکن راکٹ کبھی کبھار ہی نشانہ پر گیا ۔
جب ماہرین تجربے کرتے کرتے تھک گئے تو کسی نے اُنہیں مشورہ دیا کہ “آپ پڑھے لکھے لوگ ہیں ۔ اسلئے آپ اپنی تعلیم کی حدود میں رہتے ہوئے سب کچھ کر رہے ہیں ۔ آپ کی ناکامی سے ثابت ہوتا ہے کہ مسئلے کا اصل حل آپ کے تعلیمی دائرے سے باہر ہے ۔ چنانچہ آپ لوگ دوسروے ایسے لوگوں سے تجاویز لیں جن کی تعلیم آپ جیسی نہ ہو یا پھر تعلیم بیشک کم ہو لیکن لمبا تجربہ رکھتے ہوں”۔
اس پروجیکٹ پر پیسہ لگانے والی کمپنی کے سربراہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنے کارخانے کے تمام ملازمین سے تجاویز لیں ۔ چنانچہ اعلان کیا گیا کہ راکٹ کے متعلق ہر شخص کو ایک تجویز دینے کی دعوتِ عام ہے ۔ جو بھی تجویز دی جائے گی اس کے متعلق کوئی سوال پوچھے بغیر اس پر من و عن عمل کیا جائے گا ۔ تجویز کے نتیجہ میں کامیابی ہونے پر تجویز دینے والے کو بیشمار انعام و اکرام سے نوازہ جائے گا اور ناکامی پر کچھ نہیں کہا جائے گا”۔
سب ملازمین اپنی اپنی تجویز دینے کیلئے اپنے اپنے فورمینوں کے دفاتر کے باہر قطار میں لگ گئے سوائے ایک اُدھڑ عمر شخص کے جو 20 سال سے کارخانے کے فرش کی صفائی پر مامور تھا اور ترقی نہ کی تھی ۔ کچھ دن بعد وہ شخص فرش کی صفائی کر رہا تھا کہ اسکے فورمین نے اُس کے پاس سے گذرتے ہوئے تفننِ طبع کے طور پر اُسے کہا “تم نے کوئی تجویز نہیں دی ۔ تم اتنے غریب ہو ۔ اگر تمہاری تجویز ٹھیک نکل آئی تو بقیہ ساری عمر آرام سے گذرے گی اور یہ فرش صاف کرنے سے تمہاری جان چھُوٹ جائے گی”۔ وہ شخص پوچھنے لگا “مسئلہ کیا ہے ؟” جب فورمین نے اُسے سمجھایا تو کہنے لگا “پروں کو سوراخ دار کیوں نہیں بناتے ؟”۔
بظاہر سُوراخ دار پر بغیر سوراخوں والے پروں سے کمزور محسوس ہوئے لیکن فورمین نے یہ تجویز کارخانہ کے سربراہ تک پہنچا دی ۔ چنانچہ کچھ راکٹ سُوراخ دار پروں والے بنا کر چلائے گئے ۔ وہ سب کے سب صحیح نشانہ پر بیٹھے ۔ اس کے بعد مزید راکٹ بنا کر چلائے گئے تو ثابت ہوا کہ کئی سال پرانا مسئلہ حل ہو گیا ۔
کچھ دن بعد کامیابی کے جشن کا انتظام کیا گیا ۔ تجویز کنندہ اُدھڑ عمر شخص کو حجام کے پاس لیجا کر اُس کے بڑھے ہوئے سر اور داڑھی کے بال ٹھیک کروائے گئے ۔ اس کیلئے عُمدہ سِلے سلائے کپڑے خریدے گئے ۔ جشن والے دن اسے ایک اعلٰی درجہ کے حمام پر نہانے کیلئے لیجایا گیا ۔ تیار ہونے کے بعد اُسے ایک بڑی سی کار میں جشن کی جگہ لایا گیا جہاں کارخانہ کے سربراہان اُس کی انتظار میں تھے ۔ اُسے سب کے درمیان بٹھایا گیا ۔ اُس سے پوچھا گیا کہ یہ بہترین تجویز اُس کے ذہن میں کیسے آئی ۔ اُس نے جواب دیا “آپ لوگوں نے جو ٹائیلٹ پیپر واش روم میں لگایا ہوا ہے ۔ وہ سوراخوں والی جگہ سے کبھی پھٹتا ہی نہیں”۔
یہ جواب احمقانہ سہی لیکن جو کام بڑے بڑے ماہرین بیشمار روپیہ خرچ کر کے بھی نہ کر سکے اس اَن پڑھ شخص کی احمقانہ بات نے کر دیا ۔ اُس شخص کو ایک گھر ۔ ایک کار ۔ کئی جوڑے کپڑے اور جتنا وہ ساری عمر کما سکتا تھا اُس سے دس گنا دولت دی گئی اور پھولوں کے ہار پہنا کر بڑے اعزاز کے ساتھ اُس کو دی گئی کار میں اُسے دیئے گئے نئے گھر میں لیجایا گیا ۔
مشاورت ایک انتہائی اہم اور مفید عمل ہے ۔ مشاورت کو اپنی پسند یا صرف اُن اشخاص تک محدود نہیں کرنا چاہیئے جنہیں اعلٰی تعلیم یافتہ یا ماہرِ فن سمجھا جائے ۔ صرف وہی لوگ اور قومیں ترقی کرتے ہیں جو مشاورت کو عام کرتے ہیں ۔
اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی نے حُکم دیا ہے کہ آپس میں مشورہ کر لیا کرو ۔ اس میں کوئی تخصیص نہیں کی گئی کہ کس سے مشورہ کیا جائے ۔ کاش ۔ میرے ہموطن اور کسی کیلئے نہیں تو اپنے پیدا کرنے والے اور مالکِ کُل کے حُکم کی تابعداری کے ثواب کیلئے ہی اس عمل کو اپنا لیں ۔
سورت ۔ 3 ۔ آلِ عِمرٰن ۔ ایت 159 ۔
اللہ تعالٰی کی رحمت کے باعث آپ اِن پر نرم دِل ہیں اور اگر آپ بد زبان اور سخت دِل ہوتے تو یہ سب آپ کے پاس سے چھٹ جاتے ۔ سو آپ اِن سے درگذر کریں اور اِن کیلئے استغفار کریں اور کام کا مشورہ اِن سے کیا کریں ۔ پھر جب آپ کا پختہ ارادہ ہو جائے تو اللہ پر بھروسہ کریں ۔ بیشک اللہ تعالٰی توکّل کرنے والوں سے محبت کرتا ہے ۔
سورت ۔ 42 ۔ شورٰی ۔ آیت 38
اور اپنے رب کے فرمان کو قبول کرتے ہیں اور نماز کی پابندی کرتے ہیں اور اِن کا [ہر] کام آپس کے مشورے سے ہوتا ہے اور جو ہم نے اِنہیں دے رکھا ہے اس میں سے [ہمارے نام پر] دیتے ہیں ۔

May 26 2008 بوقت 6:10 PM
محترم اجمل انکل جی
السلامُ عليکُم
مزاج بخير،مشورہ کرنے کے لۓ ضرُوری نہيں کہ سامنے والا پُورا علم رکھتا ہو بعض اوقات کسی نا سمجھ بچے کے دماغ ميں بھی وہ بات آ سکتی ہے جو کسی بہت علميّت کے دعوے دار کو بھی سمجھ ميں نا آئ ہو سو مشورہ کر لينے ميں کوئ حرج نہيں ہونا چاہيۓ کہا تو يہ بھی جاتا ہے نا کہ
„اگر کوئ نا ہو تو ديوار سے ہی مشورہ کر لينا چاہيۓ„
شايد ايسی ہی بات ہے
اللہ حافظ
شاہدہ اکرم
May 27 2008 بوقت 5:32 PM
شاہدہ اکرم صاحب ۔ السلام علیکم
بالکل درست کہا آپ نے
May 27 2008 بوقت 10:43 PM
اجمل چاچو، کچھ لوگ خوامخوہ مشورے بہت دیتے ہیں۔ یعنی ان سے مشورہ لیا بھی نہ جائے تو بڑھ بڑھ کر اپنے مشوروں سے نواز رہے ہوتے ہیں۔ ایسی صورتِ حال میں دل کرتا ہے کہ بندہ مشورہ کسی سے کرے ہی نہ۔۔! آپ ایسے لوگوں کے لیے کیا کہتے ہیں؟ :grin:
* چاچو لکھتے ہوئے کچھ عجیب لگ رہا ہے۔ لیکن عادت ہو جائے گی۔ :razz:
May 28 2008 بوقت 9:10 AM
ماوراء بیٹی ۔ السلام علیکم
جو لوگ بِن مانگے یا بغیر معاوضہ کے مشورہ دیتے ہیں اُن کو آج کی دنیا والے بیوقوف کہتے ہیں جو کہ میں بھی ہوں ۔ ساری عمر نہ مشورہ کا معاوضہ لیا نہ مضمون لکھنے کا ۔
کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو زبردستی مشورہ دیتے ہیں اور اُس چیز کا جس کا خود اُنہیں کوئی علم نہیں ہوتا ۔
ہر مشورہ پر عمل کرنے سے پہلے غور کر لینا چاہیئے لیکن دوسری قسم کے مشورہ پر عمل کرنے سے قبل دس بار غور کرنا چاہیئے ۔
May 29 2008 بوقت 4:52 PM
وعلیکم السلام ، چاچو کہنے کا فائدہ ہوا، آپ نے بیٹی کہہ دیا۔
آپ تو اپنے پر بات لے آئے۔
میں نے تو ان کا کہا تھا جو ہر بات میں ہر وقت مشورے دیتے رہتے ہیں، اور خود کوئی عمل نہیں کرتے۔
May 30 2008 بوقت 8:21 AM
ماوراء صاحبہ ۔ السلام علیکم
ارے بیٹی ۔ میں بیٹی کہتے ہوئے بھی ڈرتا ہوں ۔ ایک بار میں نے ایک انکل کہنے والی کو بیٹی کہہ دیا تو اس کے تیور بدل گئے ۔ ہاں ۔ جو لڑکی مجھے چچا یا ماموں کہے اُس کو میں بیٹی کہنے کی جراءت کر لیتا ہوں ۔
Jul 28 2010 بوقت 9:32 AM
اسلامُ علیکم چاچا جی۔۔
کیسے مزاج ہیں اُمید ہے بخیریت ہوں گے۔۔
بات کچھ یوں ہے کی مشورہ کی اہمیت اپنی جگہ لیکن کچھ معاملات ایسے بھی ہیں جن میں مشورہ ضروری ہوتا ہے لیکن ڈر لگتا ہے کہیں ڈھنڈورا نہ پِٹ جائے ایسی صورتحال میں کیا کئیا جائے۔۔
Jul 28 2010 بوقت 11:49 AM
ننھا بچہ صاحب ۔ و عليکم السلام و رحمة اللہ
ايی صورت ميں کسی ايسے ہمدر شخص سے مشورہ کرنا چاہيئے جس کا ماضی صاف ہو