غلام قوم کا ضمير اور توحيد
1,707 بار دیکھا گیا مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ May 15 2008
اسی قرآن ميں ہے اب ترکِ جہاں کی تعليم
جس نے مؤمن کو بنايا مہ و پروين کا امير
تن بہ تقدير ہے آج ان کے عمل کا انداز
تھی نہاں جن کے ارادوں ميں خدا کی تقدير
تھا جو ۔ ناخُوب ۔ بتدريج وہی خوب ہوا
کہ غلامی ميں بدل جاتا ہے قوموں کا ضمير
زندہ قوت تھی جہاں ميں يہی توحيد کبھی
آج کيا ہے صرف اک مسئلۂِ علمِ کلام
روشن اس ضؤ سے اگر ظُلمت کو دار نہ ہو
خود مسلماں سے ہے پوشيدہ مسلماں کا مقام
ميں نے اے ميرِ سپہ ۔ تيری سپہ ديکھی ہے
قُل ھوَ اللہُ کی شمشير سے خالی ہے نيام
آہ ۔ اس راز سے واقف ہے مُلا نہ فقيہہ
وحدت افکار کی بے وحدت کو دار ہے خام
يوں محسوس ہوتا ہے کہ علّامہ اقبال نے يہ شعر آجکل کے دور کيلئے لکھے تھے ۔

May 16 2008 بوقت 11:19 AM
اشعار بہت خوب ہیں۔ میں نے کچھ عرصہ قبل اپنے ایک ساتھی سے پوچھا تھا کہ علامہ آج سے 80 سال قبل جو اشعار فرما گئے ایسا لگتا ہے جیسے انہوں نے آج کے لیے لکھے تھے، آخر ایسا کیوں ہے؟ انہوں نے کہا جب تک ہم مسلمانوں کی حرکتیں درست نہیں ہوں گی تب تک علامہ اقبال اور ان کی شاعری زندہ رہے گی۔
اگر آپ کو علامہ کی شاعری چاہیے تو میرے پاس تصویری اور ٹیکسٹ دونوں صورتوں میں موجود ہے، اگر چاہیے تو میں ای میل پر بھیج سکتا ہوں۔ والسلام
May 16 2008 بوقت 8:04 PM
ابو شامل صاحب ۔ السلام علیکم
آپ نے علامہ اقبال کی شاعری کی پیش کش کی ہے ۔ بہت شکریہ ۔ تصویری تو میرے پاس موجود ہے ۔ اگر ٹیسٹ والی بھیج دیں تو مشکور ہوں گا ۔
May 20 2008 بوقت 9:36 AM
آج ہی بھیجتا ہوں آپ کو، چند روز غیر حاضر رہا اس لیے پیغام آج پڑھ سکا۔ تاخیر سے جواب پر معذرت