درویش اور کُتا
2,263 بار دیکھا گیا مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ Apr 02 2008
ماضی میں معاشرہ کا ایک اہم پہلو جو نمعلوم کیوں اور کس طرح غائب ہو گیا ۔ وہ ہے حکائت گوئی ۔ سردیوں میں چونکہ راتیں لمبی ہوتی ہیں اس لئے چھُٹی سے پچھلی رات سب لحافوں میں گھُس کر بیٹھ جاتے ۔ پلیٹوں میں خُشک میوہ لیا ہوتا اور ایک بزرگ کہانی سنانا شروع کرتے ۔ یہ بھی ایک ادارہ تھا جو نہ صرف بچوں بلکہ جوانوں کی بھی تربیت غیرمحسوس طریقہ سے سرانجام دیتا تھا ۔ کہانی چاہے جِن کی ہو یا شہزادہ شہزادی کی اسے اتنا دلچسپ بنا کر سنایا جاتا کہ خشک میوہ ہماری پلیٹوں ہی میں پڑا رہ جاتا ۔ ان سب کہانیوں میں قدرِ مشترک اس کا سبق آموز اختتام ہوتا جسے زور دے کر بیان کیا جاتا ۔
نیز ہمارے سکول اور کالج کے زمانہ میں چھوٹی چھوٹی کہانیاں پڑھی اور سنائی جاتی تھیں جو پانچ چھ سال کے بچے سے لے کر بوڑھوں تک میں مقبول ہوتی تھیں اور ہر ایک کو اُس کی عمر کے مطابق محسوس ہوتی تھیں ۔ ان میں سب سے زیادہ مشہور شیخ سعدی صاحب کی گلستانِ سعدی کی کہانیاں تھیں ۔ یہ کتاب فارسی زبان میں تھی اور میں نے آٹھویں جماعت [1951] میں پڑھی تھی ۔ یہی کتاب ایم اے فارسی کے کورس میں بھی تھی ۔ میں نے اس سلسلہ میں اپنے ایک استاذ سے استفسار کیا تو اُنہوں نے بتایا “آپ کیلئے امتحان میں آٹھویں جماعت کی سطح کے سوال ہوتے ہیں اور اُن کیلئے اُن کی تعلیمی سطح کے مطابق”۔ اس کتاب کی دو کہانیاں درویش اور کُتے کی ۔
درویش اور کُتا ۔ پہلی کہانی
ایک درویش کو ایک کُتے نے کاٹ لیا ۔ درد کے مارے درویش کے آنسو نکل آئے ۔ اس کی ننھی بیٹی پوچھنے لگی “بابا ۔ روتا کیوں ہے ؟” وہ بولا “کُتے نے کاٹا ہے”۔ بیٹی بولی “کُتا آپ سے بڑا تھا؟” درویش بولا “نہیں ۔ بیٹی”۔ پھر بیٹی بولی” تو آپ بھی اُس کو کاٹ لیتے”۔ درویش بولا”بیٹی ۔ میں انسان ہوں اسلئے کُتے کو نہیں کاٹ سکتا”۔
آج کتنے انسان ہیں جو اپنے ہر عمل سے پہلے اُسے انسانیت کی کَسوَٹی پر پرکھتے ہیں ؟
درویش اور کُتا ۔ دوسری کہانی
ایک درویش نے ایک کُتا پال رکھا تھا ۔ بادشاہ کا وہاں سے گذر ہوا تو از راہِ مذاق درویش سے پوچھا “تم اچھے ہو یا تمہارا کُتا ؟” درویش نے کہا “یہ کُتا میرا بڑا وفادار ہے ۔ اگر میں بھی اپنے مالک کا وفادار رہوں تو میں اس کُتے سے بہتر ہوں کہ میں انسان ہوں ورنہ یہ کُتا مجھ سے بہتر ہے”۔
آج کتنے لوگ ہیں جو اپنے خالق و مالک کے وفادار ہیں ؟
اللہ ہمیں اصل کو پہچاننے کی توفیق عطا فرمائے ۔

Apr 02 2008 بوقت 2:31 PM
[...] متعلقہ کہانیاں پڑھنے کیلئے یہاں کلِک کیجئے [...]
Apr 04 2008 بوقت 6:13 PM
آپ نے جو حکایت پہلے بیان کی ھے وہ میں نے اپنے سکول کے دور میں اپنے ماموں جی سے سنی تھی- میں نے ہمیشہ تو نہیں مگر اکژ مواقع پر اس پر عمل کر کے بہت فایدہ اور سکون حاصل کیا-
اس پر عملدرآمد کی بھی حتی المقدور کوشش کروں گی- 
دوسری حکایت آج آپ سے سن لی
اتنی اچھی حکایت وہ بھی گرمیوں کے آغاز میں بغیر خشک میوہ جات کے سنانے کا بہت بہت شکریہ- :grin:
Apr 05 2008 بوقت 9:49 AM
نینی صاحب
:اگر آپ دونوں حکایات کے سبق پرنظر رکھیں تو آپ عقلمند بن سکتی ہیں ۔ ارے ارے رونا نہیں ۔ میں نے کب کہا کہ آپ عقلمند نہیں ہیں ۔
اس کا مطلب ہے کہ آپ کے ماموں عقلمند آدمی ہیں
Apr 06 2008 بوقت 2:41 AM
مُحترم اجمل انکل جی
السلامُ عليکُم
مزاج بخير،آپ کے بلاگ کی خُوبصُورتی ہی يہی ہے کہ انسان کُچھ نا کُچھ سيکھ کر ہی اُٹھتا ہے قصّے کہانيوں کی باتيں بھی اب قصّہ ء پارينہ بن چُکی ہيں نا گرميوں کی راتوں ميں کچے صحن ميں چھڑ کاؤ کے بعد مٹي کي سوندھی سوندھی خُوشبُو کے درميان بچھی چارپائيوں پر سُنی گئ کہانياں يا سرديوں کی طويل راتوں ميں خُشک ميوہ کھاتے ہُوۓ کہانياں کہنے والے بھی نا رہے اور نا ہی سُننے والے رہے،ليکن بہت پيارا زمانہ تھا وہ يا ہميشہ گُزرا ہُوا وقت ہی انسان کے لۓ کشش رکھتا ہے اب تو بچے سوپ اور قسط وار سلسلے وار کہانيوں کی قسطيں ديکھنے کے عادی ہيں ورنہ مُجھے ياد ہے ميری امّی روزرات کو چھوٹی بہن يا بھائ کو سُلاتے ہُوۓ نماز اور آخری سيپارے کی سُورتيں ياد کرواتی تھيں اور اگلے دن سُنتے ہُوۓ انعام کے طور پر گھر کی بنی ہُوئ بادام ،پستہ اور مونگ پھلی سُوجی کا مزے دار حلوہ ملا کرتا تھا اور حضرت آدم عليہ السلام سے لے کر سارے نبيوں کی کہانياں اتنے حسين پيرايے ميں سُناتی تھيں نماز با ترجمہ اور قُرآن پاک بھی اتنے پيارے طريقے سے پڑھايا کہ سوچ آتی ہے کہ شايد ہم تو اپنے بچوں کے ساتھ ويسا طريقہ اختيار نا کرپاۓ ، آپ نے وہ سب کُچھ ياددلا ديا جب صرف ايک ہی بات پيغام کی صُورت يا درس کی صُورت ملی تھی کہ بس ہرحال ميں اللہ کے شُکر گُزار بندے بنو ہر تکليف کو اللہ کا انعام سمجھ کر خُوش رہنا سيکھو،آپ کی دُعا ميں تہہ دل سے شامل ہُوں کہ اللہ تعاليٰ ہميں ہمارے اصل کو پہچاننے کی حقيقت ميں توفيق عطا فرماۓ ،آمين
خير انديش
شاہدہ اکرم
Apr 07 2008 بوقت 12:51 PM
شاہدہ اکرم صاحبہ ۔ السلام علیکم
ہماری قوم کی مثال ہے ” کوّا چلا ہنس کی چال ۔ نہ ہنس بنا نہ کوّا رہا”
اور جو چند نہیں بدلے اُن کو عجیب عجیب القابات دیئے جاتے ہیں ۔
Apr 12 2008 بوقت 8:41 AM
[...] درویش اور کُتا [...]