What Am I میں کیا ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

ميرا مقصد انسانی فرائض کے بارے میں اپنےعلم اور تجربہ کو نئی نسل تک پہنچانا ہے ۔ رَبِّ اشْرَحْ لِی صَدْرِی وَيَسِّرْ لِی أَمْرِی وَاحْلُلْ عُقْدة مِنْ لِسَانِی يَفْقَھُوا قَوْلِی



تختۂ کار

تعلیم ۔ انگریزی اور ترقی پر نظرِ ثانی

2,095 بار دیکھا گیا مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ Apr 24 2008

میں نے پچھلے سال 16 مئی کو “تعلیم ۔ انگریزی اور ترقی” پر لکھا تھا جسے القمر آن لائین پر اسی ہفتہ دوہرایا گیا ۔ اس پر ایک ہماجہتی تبصرہ کی وجہ سے یہ تحریر ضروری سمجھی ۔

اعتراض کیا گیا ” آپ نے اپنے اردو کے مضمون میں بے شمار خود بھی انگریزی کے الفاط استعمال کئے ہیں ۔جیسے میڈیکل کالج ۔ ریٹائرڈ ۔ جرنیل ۔ میڈیم ۔ جرمنی ۔ فرانس ۔ جاپان ۔ کوریا ۔ سکول ۔ ٹیسٹ وغیرہ وغیرہ آپ جانتے ہیں یہ سب انگلش الفاظ ہیں ۔ جاپانی اپنی زبان میں جاپان نہیں کہتا؟

میں بھی اسی معاشرہ کا ایک فرد ہوں ۔ ساری زندگی معاشرہ کی جابر موجوں کے خلاف لڑتا قریب قریب تھک گیا ہوں اور اُردو میں انگریزی لکھنا میری مجبوری بن گیا ہے کیونکہ صحیح اُردو لکھوں تو اُردو بولنے والے قارئین کی اکثریت منہ کھولے رہ جاتی ہے اور مجھے برقیے آنے شروع ہو جاتے ہیں کہ “اُردو سمجھ میں نہیں آئی”۔

بہر کیف متذکرہ الفاظ میں چار ممالک کے نام ہیں جو ہند و پاکستان میں ایسے ہی بولے جاتے ہیں ۔ میڈیکل کالج ۔ کُلیہ طِبی ۔ ۔ ریٹائرڈ۔ سُبک دوش ۔ ۔ جرنیل۔ سالار ۔ ۔ میڈیم ۔ وسیلہ یا ذریعہ ۔ ۔ سکول ۔ مدرسہ ۔ ۔ ٹیسٹ ۔ پرَکھ یا کَسوَٹی یا امتحان یا معیار یا تمیز ۔ ۔ ممالک کے نام یہ ہیں ۔ جرمنی ۔ المانیہ ۔ ۔ جاپان ۔ نپوں ۔

سوال کیا گیا کہ ٹیلی ویذن۔ ریڈیو۔گلاس ۔کمپیوٹر ۔ ریل ۔ بس ۔ وغیرہ وغیرہ کی اردو کرکے تو بتائیں کہ ہم ان کی جگہ کون سے الفاظ استمعال کریں ؟ پھر سائینس ۔ میڈیکل ۔ ٹیکنکل ۔ انجنئیرنگ کی دنیا الگ پڑی ہے وہاں کون کون سے الفاظ لگائیں گے ؟”

پہلی بات تو یہ ہے کہ میں مترجم نہیں ہوں ۔ دوسری یہ کہ اعتراض کرنے والے کو پہلے متعلقہ مخزن الکُتب یعنی لائبریری سے رجوع کرنے کے بعد ایسے سوال کرنا چاہیئں ۔ خیر میرے جیسا دو جماعت پاس بھی جانتا ہے کہ ریڈیو کا ترجمہ مذیاع ہے ۔ بس کا ترجمہ رکاب ۔ گلاس کی اُردو شیشہ ہے ۔ پانی پینے والا برتن جسے گلاس کہا جاتا ہے اس کا نام آب خورہ ہے ۔ گلاس انگریزی کا لفظ نہیں تھا ۔ یہ المانی لفظ تھا جو کہ انگریزی میں گلِیس تھا لیکن اس کا مطلب شیشہ ہے ۔ جب شیشے کے آب خورے بننے لگے تو فلاں مشروب کا گلاس یا فلاں مشروب کا گلاس انگریزی میں مستعمل ہوئے کیونکہ مختلف قسم کی شرابوں کے آب خوروں کی شکل مختلف تھی ۔ بعد میں ابتدائیے غائب ہو گئے اور صرف گلاس رہ گیا ۔ اسی طرح کئی لوگ اُردو میں شیشے کی بنی چیز کو شیشہ یا شیشی کہتے ہیں ۔

ٹیکنیکل سے کیا مراد لی گئی ہے یہ میری سمجھ میں نہیں آیا ۔ ٹیکنیکل جس کا اُردو فنّی ہے کوئی بھی چیز ہو سکتی ہے ۔ سائنسی علوم جن میں طِب یعنی میڈیکل اور ہندسہ یعنی انجنیئرنگ بھی شامل ہیں پاکستان میں کم از کم دسویں جماعت تک اُردو میں پڑھائے جاتے رہے ہیں اور میڈیکل اور انجنیئرنگ کو چھوڑ کر باقی تمام مضامین گریجوئیشن تک اُردو میں پڑھائے جاتے رہے ہیں ۔ اب پاکستان کے ایک شہر اسلام آباد میں ایک اُردو یونیورسٹی ہے اور ہندوستان کے شہر حیدرآباد میں عرصہ دراز سے ایک اُردو یونیورسٹی ہے ۔ ان یونیورسٹیوں میں تمام مضامین اُردو میں پڑھائے جاتے ہیں ۔

لکھا گیا کہ “اُردو زبان مکمل زبان نہیں اس میں انگریزی اردو فارسی ہندی عربی وغیرہ وغیرہ زبانیں شامل ہیں “۔

پہلی بات یہ کہ اُردو فارسی عربی اور تُرکی کا مُرکب تھی ۔ بہت استعمال ہونے والے الفاظ پلاؤ ۔ کباب اور سیخ ترکی سے لئے گئے ہیں ۔ عرب ممالک سے میل ملاپ بڑھا تو عربی کے کئی الفاظ اُردو مین شامل ہوتے گئے ۔ اُردو میں انگریزی کا بیجا استعمال احساسِ کمتری کے نتیجہ میں ہوا ۔ ہندی کوئی زبان نہیں ہے ۔ اُردو کو ہی ہندی کہا جاتا تھا کیونکہ یہ ہند کی زبان تھی ۔ جب ہند کے مسلمانوں نے الگ وطن کا نعرہ لگایا تو کٹّر ہندوؤں نے ردِ عمل کے طور پر اُردو کو سنسکرت رسم الخط میں لکھنا شروع کیا ۔ پاکستان بننے کے بعد اس میں سنسکرت کے الفاظ بھی شامل کئے گئے اور بہت سے اُردو الفاظ کا حُلیہ بگاڑ دیا گیا ۔

اُردو سیکھے بغیر اُردو کو نامکمل کہنا مُستحسن نہیں ۔ اُردو کم از کم انگریزی سے زیادہ وسیع اور جامع ہے ۔ میں اُردو میں روزمرّہ مستعمل کچھ الفاظ اور افعال درج کرتا ہوں ۔ ان کا مُنفرد انگریزی ترجمہ ڈھونڈنے سے احساس ہو جاتا ہے کہ انگریزی وسیع ہے یا کہ اُردو ۔

تُو ۔ تُم ۔ آپ ۔ جناب ۔ جنابعالی ۔ حضور ۔ حضورِ والا ۔ دام اقبال ۔ روح پرور ۔ روح افزاء ۔ روح قبض ۔ روح دِق ۔ روح فرسا ۔ سوہانِ روح ۔ طالبِ خیریت بخیریت ۔ الداعی الخیر ۔ مُتمنّی ۔ آؤ ۔ آئیے ۔ تشریف لائے ۔ قدم رنجہ فرمائیے ۔ خیر ۔ احسان ۔ احسانمند ۔ شکر گذار ۔ متشکّر ۔ ممنون ۔ لیٹ جاؤ ۔ لیٹ جائیے ۔ دراز ہو لیجئے ۔ استراحت فرما لیجئے ۔ کھاتا ہے ۔ کھاتی ہے ۔ کھاتے ہیں ۔ کھاتی ہیں ۔ کھاتے ہو ۔ کھا تا ہوں ۔ کھاتی ہوں ۔ کھاؤ ۔ کھائیے ۔ تناول فرمائیے ۔

دنیا میں سب سے زیادہ لوگ چینی بولتے ہیں ۔ اس سے کم لوگ عربی بولتے ہیں ۔ اس سے کم انگریزی ۔ اس سے کم ہسپانوی اور اس سے کم اُردو بولنے والے ہیں ۔ باقی زبانیں ان کے بعد آتی ہیں ۔

یہ استدلال درست نہیں ہے کہ “دنیا کے کمپیوٹر کسی بھی زبان میں ہوں مگر ان کے نیچے انگلش زبان ہی کی پروگرامنگ ہوتی ہے”۔

کمپیوٹر کی بُنیادی زبان کے حروف ایک قدیم زبان لاطینی سے لئے گئے ہیں جو بڑے سے بڑے انگریزی دان کو بھی سمجھ نہیں آئیں گے ۔ صرف اُسے سمجھ آئے گی جو اس زبان کا ماہر ہے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جرمنی میں آئین کہا جاتا ہے جلا ہوا یا انگریزی کے آن کو اور آؤس کہا جاتا ہے بجھا ہوا یا انگریزی کا آف ۔ آئین کا نشان یعنی سِمبل ہے جرمن یا انگریزی کا آئی اور آؤس کا نشان ہے اَو ۔ کمپیوٹر صرف یہ دو حرف سمجھتا ہے ۔ باقی جو کچھ لکھا جاتا ہے وہ وسیلہ ہیں ۔

یہ کسی حد تک صحیح قرار دیا جا سکتا ہے کہ وسیلہ انگریزی کو بنایا گیا ہے ۔ وجہ عیاں ہے کہ پچھلی ایک صدی سے انگریزی بولنے والوں کا راج ہے ۔ یہاں عرض کرتا چلوں کہ لوگرتھم جس کا اصل نام کُلیہ خوارزم ہے کمپیوٹر کا پیش رو تھا اور اس سے قبل موتی تختہ جسے آجکل ابیکَس کہتے ہیں بھی کمپوٹر کی بنیاد ہے ۔ کمپیوٹر المانیہ کے مہندسین یعنی جرمن انجنیئرز کی کاوش کا نتیجہ ہے ۔ لوگرتھم مسلمان ریاضی دان یعنی مَیتھے مَیٹِیشِیئن کی دریافت جو کہ خوارزم کے رہنے والے تھے اور ابیکِس اصحابِ شینا یعنی چینیوں کی دریافت ۔

دلیل پیش کی گئی “پاکستان میں نہ تو ہماری زبان مکمل اور نہ ہی ہم نے سائنس اور ریسرچ پر توجہ دی ۔ معمولی اسپرین بنانے کےلئے ہم یورپ کے محتاج ہیں ۔اب ہم کس زبان میں اپنے فارمولے یا کلئے استمعال کریں ۔ہم سب مل کر صرف ایک خالص اردو کا مضمون نہیں لکھ سکتے” ۔

اگر میں یا دوسرے پاکستانیوں نے قوم کیلئے حتی کہ اپنی زبان کیلئے کچھ نہیں کیا تو اس میں اُردو زبان کا کیا قصور ہے ؟ اگر ہم خالص اُردو میں ایک مضمون نہیں لکھ سکتے تو کیا یہ اُردو کا قصور ہے یا کہ ہماری نا اہلی ؟

یہ خیال بھی غلط ہے کہ پاکستانیوں نے سائنسی تحقیق نہیں کی اور کچھ تخلیق نہیں کیا ۔ نظریں غیروں سے ہٹا کر اپنے ہموطنوں پر ڈالی جائیں تو بہت کچھ نظر آ جائے گا ۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسی تحقیق اور تخلیقات کرنے والوں کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا گیا ۔ ایسے بہت سے محسنِ ملت میں سے صرف کچھ زندوں میں چوٹی کے میٹالرجیکل انجیئر “ڈاکٹر عبدالقدیر خان” اور گذر جانے والوں میں چوٹی کے ریاضی دان پروفیسر عبدالرحمٰن ناصر اور مکینیکل انجنیئر پروفیسر سلطان حسین ۔ جن کے ساتھ جو کچھ کیا گیا نامعلوم پوری قوم مل کر بھی اس کا کوئی کفّارہ ادا کر سکتی ہے یا نہیں ۔ جو کچھ پاکستانیوں نے کیا اس کی تفصیل میں جاؤں تو کئی دن صرف لکھنے میں لگیں گے ۔

سوال کیا گیا کہ “ہم کس زبان میں اپنے کُلیئے استعمال کریں ؟”

تین دہائیاں قبل مقتدرہ قومی زبان کے نام سے ایک ادارہ بنایا گیا تھا جس کا کام مفید علوم جو دوسری زبانوں بالخصوص انگریزی میں موجود ہیں اُن کا ترجمہ کرنا تھا جو کام اس ادارہ نے خوش اسلوبی سے شروع بھی کر دیا تھا لیکن 1988 میں اس ادارہ کو غیر فعال کر دیا گیا ۔ اُردو میں ترجمہ بہت مشکل نہیں ہے ۔ اللہ کی مہربانی سے عربی اور فارسی میں اکثر تراجم موجود ہیں جہاں سے ایسے الفاظ آسانی سے اپنائے جا سکتے ہیں جن کا اُردو میں ترجمہ نہ ہو سکے ۔

سوال کیا گیا کہ ” آخر انگلش سیکھنے میں نقصان ہی کیا ہے ؟”

میں انگریزی یا المانی یا شینائی یا دوسری زبانیں سیکھنے کا مخالف نہیں اور نہ ہی میں نے اس قسم کا کوئی تاثر اپنی متذکرہ تحریر میں دیا بلکہ میں زیادہ سے زیادہ زبانیں سیکھنے کا حامی ہوں ۔ یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ جو لوگ اپنی زبان اور اپنے مُلک کیلئے کچھ نہیں کر سکے اُنہیں اپنی زبان اور اپنے مُلک کو بُرا یا ادھورہ کہنا زیب نہیں دیتا ۔

16 تبصرے to “تعلیم ۔ انگریزی اور ترقی پر نظرِ ثانی”

  1. MyAvatars 0.2 محمد شاکر عزیز کا کہنا ہے کہ:

    مسئلہ یہ ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کی زبان انگریزی ہے۔ لوگ تعلیم حاصل کرنے کے لیے اسے سیکھتے ہیں پھر انگریزی کے الفاظ ان کی روزمرہ کا حصہ بن جاتے ہیں۔ زبان کو بچانے کے لیے منظم کوششیں نہ ہوں تو کچھ نہیں ہوسکتا۔ اس کے لیے ایک مقتدر ادارہ ہونا چاہیے جو ترجمہ کرے، زبان کے فروغ کا انتظام کرے تب ہی اردو کو اردو بنایا جاسکتا ہے ورنہ یہی حال ہوتا رہے گا۔

  2. MyAvatars 0.2 اظہرالحق کا کہنا ہے کہ:

    انکل جی بہت اچھا لکھا ہے ، اور بہت ہی زیادہ سچا لکھا ہے شاید کچھ لوگوں کو یہ آسانی سے ہضم نہ ہو ، میں چونکہ کمپیوٹر فیلڈ سے ہوں اسلئے ، میں اپنا ایک تجربہ بیان کرتا چلوں ، 1992-1993 میں ، میں نے ایک سافٹ وئیر اردو میں بنایا تھا جس میں اردو مبتہ کو استعمال کر کے اردو کا ایک دفتر (ڈیٹا بیس) بنایا تھا جسے ایک انعام بھی ملا تھا اور اخبارات میں انٹرویو بھی آئے تھے ، مگر جب اسے کمپیوٹر کے “ناخداؤں” کے سامنے پیش کیا تو کہا گیا کہ اردو تو اب مرتی ہوئی زبان ہے ۔ ۔ ۔ اس میں کام کا کوئی فائدہ نہیں ۔ ۔ ۔ مگر میں نے کہا تھا کہ ایک دن یہ ہی زبان ترقی کی زبان ہو گی اور کمپیوٹر پر بھی لکھی پڑھی جائے گی ۔ ۔ تو سب لوگوں نے اسے دیوانے کا خواب کہا تھا ۔ ۔ ۔ مگر آج ۔ ۔ یہ حقیقت ہے ۔ ۔ اردو ۔ ۔ اپنا آپ منوا رہی ہے ۔ ۔ بہت کچھ کہا جا سکتا ہے مگر ۔ ۔ ۔ سچی بات تو یہ ہے کہ

    اردو ہے جسکا نام ہمیں جانتے ہیں داغ
    سارے جہاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے

  3. MyAvatars 0.2 قدیر احمد کا کہنا ہے کہ:

    زبردست !!!!

    برائے مہربانی اپنی بلاگ رول میں میرے بلاگ کا ایڈریس اپ ڈیٹ کر دیجیے ، شکریہ

  4. اجمل کا کہنا ہے کہ:

    محمد شاکر عزیز صاحب
    جیسا کہ میں نے لکھا ہے ادارہ مقتدرہ قومی زبان کے نام سے موجود ہے ۔ اس کا صدر دفتر اسلام آباد کے سیکٹر ایچ 8 ۔ 4 میں پطرس بخاری روڈ پر واقع ہے ۔ اس کے موجودہ سربراہ فتح محمد ملک صاحب ہیں ۔ ای میل پتہ اور ویب سائٹ درج ذیل ہیں
    niapak@apollo.net.pk
    http://www.nla.gov.pk

  5. اجمل کا کہنا ہے کہ:

    اظہرالحق صاحب
    آپ نے بالکل درست کہا ہے ۔ اسے نیم انسانی معاشرے کی خُو یہی ہے ۔ اللہ ہم پر رحم فرمائے اور سیدھی راہ دکھائے

  6. MyAvatars 0.2 میرا پاکستان کا کہنا ہے کہ:

    دراصل جب حکمران ہی انگریزی کو اردو پر ترجیح دینے لگیں‌تو پھر اردو کو یتیم ہونے میں‌زیادہ دیر نہیں‌لگے گی۔ دراصل انگریزی کو عام کرنا غیرملکی طاقتوں کی ایک چال ہے جس کی بنا پر وہ باقی دنیا کو اپنے رنگ میں‌رنگنے کی کوشش کررہے ہیں۔

  7. MyAvatars 0.2 زیک کا کہنا ہے کہ:

    شینا؟

    اردو ترکی، عربی اور فارسی کا مرکب نہیں ہے البتہ ان کے بہت سے الفاط اردو میں شامل ہیں۔ فارسی سے اردو کچھ حد تک متاثر ہے۔ ویسے اردو برِ صغیر کی زبان ہے اور اس کی گرامر وغیرہ ان دوسری زبانوں سے کافی مختلف ہیں۔

    اردو زبان ختم ہونے کے بالکل قریب نہیں ہے کہ ابھی بھی اردو بولنے اور لکھنے والے بہت لوگ ہیں۔ ہاں اردو میں تبدیلیاں ضرور آ رہی ہیں کہ زندہ زبانیں وقت کے ساتھ بدلتی رہتی ہیں۔

    ان میں وہ تبدیلیاں بھی ہیں جو لوگ انگریزی کے عجیب و غریب تڑکے اردو میں لگا رہے ہیں اور ان میں وہ خالص اردوعربی‌دان بھی ہیں جو اردو میں عجیب اور مشکل فارسی اور عربی شامل کرنے کے درپے ہیں۔ اس دوسری قسم کی مثالیں آپ اردو وکیپیڈیا پر دیکھ سکتے ہیں۔

    المانیہ؟ جرمنی کا یہ نام تو شاید لاطینی زبانوں میں ہے۔

  8. MyAvatars 0.2 راشد کامران کا کہنا ہے کہ:

    اجمل صاحب میری ناقص رائے میں‌تو اگر کوئی اس بات پر اعتراض کرے کے آپ نے اپنے مضمون میں انگریزی کے الفاظ کیوں استعمال کیے ہیں‌تو شاید لوگ اس بات کو فراموش کردیتے ہیں‌کے یہ بھی اردو کا اعجاز ہے کے کئی زبانوں‌کے الفاظ نہ صرف یہ کے استعمال ہوجاتے ہیں بلکہ انہیں بولنے میں بھی کوئی دشواری نہیں ہوتی۔۔۔ ویسے بھی مضمون اکثریت کی سمجھ کی خاطر لکھے جاتے ہیں نہ کے قصہ چہار درویش سنانے کے لیے ۔ آپ کے مضامین کی اردو تو بہت مناسب ہے۔۔ اور یہی جدید اردو ہے۔ انگریزی کا میگزین بھی تو عربی کے ماخذین سے آیا ہے تو کیا خالص انگریزی میں میگزین کا استعمال نہیں ہوگا؟‌

  9. MyAvatars 0.2 ابوشامل کا کہنا ہے کہ:

    موضوع تو آپ کا کا خوب ہے لیکن جو بات واضح ہو کر سامنے آ رہی ہے وہ صرف یہ ہے کہ جب تک سرکاری سطح پر اردو کی اصطلاحات ترتیب دے کر انہیں رواج نہیں دیا جائے گا یا اس حوالے سے میڈیا کو اردو اصطلاحات کا پابند بنانے کے لیے سرکاری احکامات جاری نہیں ہوں گے تب تک اردو ایک عام شخص کی زبان نہیں بن سکتی۔ اب آپ یہیں دیکھ لیجیے، جو لوگ مخلصانہ کوششیں کر رہے ہیں انہیں بھی طنز کا نشانہ بنایا جا رہا ہے کہ حضور اردو وکیپیڈیا کو دیکھ لیجیے وہاں کس طرح کی اردو استعمال ہو رہی ہے، کیا بہتر یہ نہیں کہ وہاں آ کر دلائل کے ذریعے اردو کی بہتری کے لیے کام کیا جائے؟۔ بہرحال ساتھ ساتھ خوشی اس امر کی بھی ہے کہ اردو کم از کم کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کی سطح پر حقیقی دنیا سے بہت آگے ہے۔

  10. اجمل کا کہنا ہے کہ:

    افضل صاحب
    اگر عوام کی اکثریت مطلب پرست یا کوتاہ اندیش نہ ہو تو حکمران خراب نہیں ہو سکتے ۔ جہاں تک مغربی دنیا کا معاملہ ہے وہ تو اس کوشش میں بھی ہیں کہ نعوذ باللہ خالق و مالکِ دنیا بھی اُن کی مرضی کا ہو ۔

    زکریا بیٹے
    شینا ۔ کوئی عجیب لفظ نہیں ہے ۔ انگریزوں کا دنیا پر راج ہونے سے قبل یہی نام لیا جاتا تھا ۔ اب کسی نہ کسی پرانی کےاب میں لکھا مل جائے گا اگر انگریزی بولنے والوں نے اُس کی ترمیم نہیں کر دی ۔ جن لوگوں نے بیجنگ کو پیکنگ ۔ ہند کو انڈیا ۔ المانیہ کو جرمنی ۔ نیدرلاند کو ہالینڈ ۔ ہسپانیہ کو سپین ۔ جبل الطارق کو جبرالٹر ۔ چاء کو پہلے ٹاؤ ۔ پھر ۔ ٹی ۔ مصر کو ایجپٹ بنا دیا ۔ کیا وہ اتنے ہی قابل اور ذہین ہے جو اُن کی ہر بات مانی جائے؟
    یہ درست ہے کہ اردو صرف ترکی ۔ عربی اور فارسی کا مرکب نہیں ہے البتہ ان کے بہت سے الفاظ اردو میں شامل ہیں ۔ میں نے تو آویز صاحب کے جملے کا جواب لکھا تھا ۔ کسی زبان کادوسری زبانوں میں سے مناسب الفاظ کا جذب کرنا خوبی گنا جاتا ہے لیکن جس طرح سے کچھ لوگ انگریزی کو اُردو میں گھسی رہے ہیں یہ بڑھائی نہیں بلکہ احساسِ کمتری کا نتیجہ ہے ۔ اپنی زبان کو رد کرنا اگر بے غیرتی نہیں تو نااہلی ضرور ہے ۔
    بنیادی طور پر جرمنی کا نام المانیہ ہی ہے جو کہ لاطینی زبان کا لفظ ہے اور بیسویں صدی کے شروع تک ساری دنیا میں رائج رہا ۔

    بوجوہ وکی پیڈیا کو میں مستند اور آزاد ویب سائیٹ نہیں سمجھتا ۔

    راشد کامران صاحب
    آپ کا خیال درست ہے ۔ حوصلہ افزائی کا شکریہ

    ابو شامل صاحب
    آپ کا خیال درست ہے ۔ ہر ملک میں اپنا جھنڈا ۔ اپنی ثقافت اور زبان بہت اہم سمجھے جاتے ہیں اور ان پر خاص توجہ دی جاتی ہے ۔ بدقسمتی میں ان تینوں کی مٹی پلید ہے اور وجہ صرف احساسِ کمتری ہے ۔ اگر پڑھے لکھے اُردو بولنے والے ہی اس طرف خلوصِ نیت سے توجہ دیں تو حکومت کو سرپرستی پر مجبور کیا جا سکتا ہے ۔ جج صاحبان کے معاملہ میں وکلاء کی تحریک ایک عمدہ مثال ہے ۔
    عجب بات تو یہی ہے کہ اعتراض کرنے والے صاحب کو اُردو کی وسعت کا علم ہی نہیں ۔

  11. MyAvatars 0.2 زیک کا کہنا ہے کہ:

    مگر شینا جینی زبان کا لفظ نہیں ہے۔ نہ ہی المانیہ جرمن کا۔ ہسپانیہ بھی لاطنیی زبان میں کہتے ہیں نہ کہ سپینش میں۔ ملکوں اور علاقوں کے نام مختلف زبانوں میں مختلف ہوتے ہیں۔ عربی میں پاکستان نہیں باکستان ہوتا ہے۔ ضروری نہیں کہ ہم عربی یا انگریزی یا لاطینی ہی کے نام اپنائیں۔

  12. اجمل کا کہنا ہے کہ:

    زکریا بیٹے
    جس زبان کے بھی یہ لفظ ہیں بیسویں صدی کے اوائل تک یہ بُلائے جاتے رہے ہیں ۔ دو صدیاں پہلے مختلف زبانوں میں ناموں میں تلفظ کے لحاظ سے فرق ہو جاتا تھا لیکن بنیادی طور پر نام وہی رہتے تھے ۔ تلفظ تبدیل ہونے کی وجہ عام طور پر وہ حرف یا آواز متعلقہ زبان میں موجود نہ ہونا ہوتی ۔ انگریزوں نے فتوحات کے بعد نام بدلنے کی رسم ڈالی ۔

  13. MyAvatars 0.2 شاہدہ اکرم کا کہنا ہے کہ:

    محترم اجمل انکل جی
    السلامُ عليکُم
    اُمّيد ہے آپ بخيرہوں گے،ہميشہ کی طرح بہترين بلاگ ہے انکل ، زبان ہمارے لۓ ايک مُقدس چيز کی طرح ہوتی ہے بالکُل اُسی طرح جيسے اپنے مُلک کے لۓ ہم پيار کے جزبات رکھتے ہيں اسی طرح کی مُحبت ہميں اپنی زبان سے بھی ہوتی ہے ليکن جس طرح ايک حديث ہے کہ „علم حاصل کرو خواہ اُس کے لۓ چين بھی جانا پڑے„ تو ظاہر ہے چين جائيں گے تو اپنی زبان کے ساتھ اُن کی زبان بھی سيکھنا ہوگی ايسے ميں کُچھ نا کُچھ الفاظ تو مُشترک ہو ہی جائيں گے ويسے بھی اُردُو کو ايک لشکری زبان يُونہی تو نہيں کہا گيا گو ميری معلُومات آپ سب محترمين کے مُقابلے ميں انتہائ کم اور ناقص ہيں ليکن بالکُل اُسی طرح جيسے مُختلف مُمالک ميں ساتھ رہنے والوں کے رہن سہن يا عادات و اطوار ميں مُماثلت ہو جاتی ہے توزبانوں ميں الفاظ کی شمُوليت ايک عام بات ہوگی ليکن جہاں تک انگلش سيکھنے يا انگلش کے الفاظ کي ہماری زبان ميں شامل ہونے کی بات ہے تو واقعی انکل جيسا کہ آپ نے لکھا اکثر کئ ايسے الفاظ ہوتے ہيں جن کا مُتبادل جب اُردُو ميں بتاياجاتا ہے تو سامنے والا پريشان ہوجاتا ہے ليکن اس ميں دوش انگلش کا تو نا ہُوا اب ديکھيں دوش بھی تو شايد ہماری زبان کا لفظ نہيں ہے بہر حال آپ جس طرح زبان کے لۓ اور ہمارے جيسے لوگوں کی سمجھ کے لۓ کام کر رہے ہيں اُس پر دُعاگو ہُوں کہ اللہ تعاليٰ آپ کو جزاۓ خير دے اور صحت اور تندرُستي والي طويل زندگي عطا کرے،آمين
    اپنا خيال رکھيۓ گا
    خير انديش
    شاہدہ اکرم

  14. اجمل کا کہنا ہے کہ:

    شاہدہ اکرم صاحبہ ۔ السلام علیکم
    وہ الفاظ جو زبان میں موجود نہ ہوں انہیں زبان میں جذب کرنا اچھی بات ہے لیکن اردو میں موجود الفاط کی جگہ دوسری زبان کے الفاظ بولنا مناسب نہیں ۔

  15. MyAvatars 0.2 اردو اور ترقی | اُردوجہاں کا کہنا ہے کہ:

    [...] اجمل صاحب کی یہ تحریر پڑھنے کے بعد میرا ارادہ تھا کہ وہاں تبصرہ کیا جائے، [...]

  16. MyAvatars 0.2 حیدرآبادی کا کہنا ہے کہ:

    السلام علیکم! معذرت کہ کافی دیر سے تبصرہ کر رہا ہوں۔ اردو میں‌ انگریزی متبادل الفاظ کی شمولیت کا یہ مسئلہ ابھی پچھلے دنوں (ہندوستانی) حکومت کے قائم کردہ سرکاری تعلیمی ادارے کے ایک حکم پر اردو اخبارات میں خوب زور و شور سے اچھالا گیا ہے۔ اردو کے بہت سارے تکنیکی الفاظ کو انگریزی میں کر دینے کا اعلان کیا تھا اس ادارے نے۔ مثلاً ” آلۂ حرارت” کو تھرمامیٹر وغیرہ وغیرہ۔
    یہ حقیقت بھی ہے کہ وہ اردو جو ہم نے ستر کی دہائی میں اپنے بزرگوں سے سنی تھی وہ آج سننے میں نہیں آتی۔ بہت سے الفاظ کھو گئے ہیں اور بہت سے نئے شامل ہوئے ہیں۔ ہم جب کالج میں پڑھتے تھے تو صرف ایک لفظ سے مفہوم ادا کر لیتے تھے ، یعنی ‫:
    کیا اسٹائل ہے یار ‫!
    ہمارے والد صاحب نے بلا کر سمجھایا تھا کہ اردو میں بولا کرو اور پھر اسی ایک لفظ “اسٹائل” کے اتنے اردو مترادف سمجھائے مثلاً : انداز ، طریقہ ، طرز ، رنگ ، رہن سہن ، شان ، اسلوب ، نمونہ ، قسم ۔۔۔۔ اور پھر یہ الفاظ جس جس جملے میں مختلف طریقے سے استعمال ہوتے ہیں ، ان کے بارے میں بھی تفصیل سے بتایا۔
    فلم “مغل اعظم” دیکھئے گا ، اس میں جو اردو استعمال ہوئی ہے آج اس کو “آثار قدیمہ” سمجھا جاتا ہے اور سنا ہے کہ اس پر کوئی طالب علم پی۔ایچ۔ڈی کا تھیسس لکھ رہا ہے۔

    میرے خیال میں یہ مسئلہ صرف اردو کا نہیں ، ہر زبان کا ہے۔ کلج کے دنوں میں تو خود ہمیں انگریزی میں شیکسپئر کو پڑھنے میں دقت اس لئے بھی ہوتی تھی کہ اس وقت کی جو اخباری انگریزی کے ہم واقفکار تھے ، وہ انگریزی ملٹن اور شیکسپئر کو سمجھنے میں کام نہیں آتی تھی۔ بالکل یہی مسئلہ ہندی زبان میں بھی محسوس کیا جا رہا ہے۔

اپنی رائے دیجیے

درج ذیل خانوں میں آپ اردو لکھ سکتے ہیں ۔ انگریزی لکھنے کے لیے Control اور Space کے بٹن ایک ساتھ دبائیے

اہم اطلاع :- غیر متعلق اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے ۔ مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق ۔رکھتا ہے ۔ مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں

XHTML: ان ٹیگز کے استعمال کی اجازت ہے: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)