ساحل کی ہوا

ثانیہ رحمان صاحبہ نے سعدیہ سحر صاحبہ کی ایک نظم نقل کی ۔ اسے پڑھنے کے ساتھ ہی میرے ذہن میں کچھ الفاظ اُبھرے تھے جو میں نے وہاں تبصرہ کے خانہ میں لکھ دئیے تھے ۔ میں شاعر تو نہیں ہوں ۔ یونہی الفاظ کا جوڑ توڑ کر لیتا ہوں ۔ وہ الفاظ یہاں نقل کر رہا ہوں

میں جب دیکھتا ہوں ساحل کی ہوا
اِک نئی سحر کا سندیسہ ہے ملتا
کہ اب رُخ بدل چکی ہے بادِ سموم
اب زمیں سے نئی کونپلیں پھوُٹیں گی
جو پہلے کلیاں پھر وہ پھول بنیں گی
میرے وطن پہ ایک بار پھر آئے گی بہار
مسرت کی لہر پھر ہر طرف دوڑ جائے گی

This entry was posted in روز و شب, شاعری on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

1 thought on “ساحل کی ہوا

  1. امید

    اچھی کوشش بلکہ یہ کہنا ذیادہ مناسب ہوگا کہ خوائش ہے

    میرے وطن میں ایک بار پھر آئے گی بہار ۔ ۔ ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)