What Am I میں کیا ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

ميرا مقصد انسانی فرائض کے بارے میں اپنےعلم اور تجربہ کو نئی نسل تک پہنچانا ہے ۔ رَبِّ اشْرَحْ لِی صَدْرِی وَيَسِّرْ لِی أَمْرِی وَاحْلُلْ عُقْدة مِنْ لِسَانِی يَفْقَھُوا قَوْلِی



تختۂ کار

محفوظہ برائے March, 2008

یومِ پاکستان

مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 23 Mar 2008

 

بروز ہفتہ 12 صفر 1359ھ اور گریگورین جنتری کے مطابق 23 مارچ 1940 لاہور کے اُس وقت کے منٹو پارک میں جس کا نام پاکستان بننے کے بعد علامہ اقبال پارک رکھا گیا مسلمانانِ ہِند نے ایک متفقہ قرارداد منظور کی جس کا عنوان “قراردادِ لاہور” تھا لیکن وہ قرارداد اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی کے فضل و کرم سے قراردادِ پاکستان ثابت ہوئی ۔ 14 اور 15 اگست 1947ء کی درمیانی رات 11 بج کر 57 منٹ پر پاکستان بننے کا اعلان ہوا ۔ وہ رات ہند و پاکستان میں رمضان 1366ھ کی ستائسویں رات تھی ۔ سُبحان اللہ کتنے مبارک وقت مملکتِ خداداد پاکستان معرضِ وجود میں آئی ۔

مندرجہ بالا واقعہ ثابت کرتا ہے کہ اتحاد و یکجہتی کامیابی کا پیش خیمہ ہوتی ہے جو پچھلی چار دہائیوں سے ہمارے ملک سے غائب رہی ۔ اللہ کرے کہ 18 فروری 2008ء کو اکثریت حاصل کرنے والی جماعتوں کا اتحاد اور یکجہتی ایک مزید عمدہ مثال بن کر اُبھرے اور مستقبل کی دنیا ہماری قوم کی مثال بطور بہترین قوم کے دے ۔ آمین ۔

میری تمام قارئین سے استدعا ہے کہ وہ بھی میری اس دعا میں صدق دِل سے شامل ہوں ۔ اور خلوصِ نیت سے قومی ترانہ گائیں :

پاک سر زمین شاد باد
کشور حسین شاد باد
تو نشان عزم عالی شان
ارض پاکستان
مرکز یقین شاد باد

پاک سر زمین کا نظام
قوت اخوت عوام
قوم ، ملک ، سلطنت
پائندہ تابندہ باد
شاد باد منزل مراد

پرچم ستارہ و ہلال
رہبر ترقی و کمال
ترجمان ماضی شان حال
جان استقبال
سایہ خدائے ذوالجلال

زمرہ : تاریخ, ذمہ دارياں, معاشرہ | 5 تبصرے »

میلادُالنّبِی

مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 21 Mar 2008

مرد کو عورت سے یا عورت کو مرد سے محبت ہو جائے تو عاشق یا عاشقہ محبوبہ یا محبوب کی پسند اور ناپسند کا خیال رکھتا یا رکھتی ہے اور پوری کوشش کرتا یا کرتی ہے کہ کوئی ایسی حرکت یا بات نہ کی جائے جو محبوبہ یا محبوب کو ناپسند ہو اور ہر ایسا فعل کیا جائے جو اُسے پسند ہو ۔

آج پاکستان میں ربیع الاوّل 1429ھ کی 12 تاریخ ہے اور عرب دنیا میں گذشتہ کل تھی ۔ کہا جاتا ہے کہ اس تاریخ کو ہمارے نبی سیّدنا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم کی مبارک ولادت ہوئی ۔ میرا تو عقیدہ ہے کہ سیّدنا محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم کی اطاعت ایمان کا حصہ ہے ۔

سورت ۔ 3 ۔ آل عمران ۔ آیت 31 و 32 ۔ اے نبی لوگوں سے کہہ دو “اگر تم حقیقت میں اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری پیروی اختیار کرو ۔ اللہ تم سے محبت کرے گا اور تمہاری خطاؤں سے درگذر فرمائے گا ۔ وہ بڑا معاف کرنے والا رحیم ہے”۔ اُن سے کہو “اللہ اور رسول کی اطاعت قبول کر لو”۔ پھر اگر وہ تمہاری یہ دعوت قبول نہ کریں تو یقیناً یہ ممکن نہیں ہے کہ اللہ ایسے لوگوں سے محبت کرے جو اس کی اور اس کے رسول کی اطاعت سے انکار کرتے ہوں ۔

سورت ۔ 4 ۔ النّسآء ۔ آیت 13 و 14 ۔ یہ اللہ کی مقرر کی ہوئی حدیں ہیں ۔ جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا اُسے اللہ ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور ان باغوں میں وہ ہمیشہ رہے گا اور یہی بڑی کامیابی ہے ۔ اور جو اللہ اور اُس کے رسول کی نافرمانی کرے گا اور اس کی مقرر کی ہوئی حدوں سے تجاوز کرے گا اُسے اللہ آگ میں ڈالے گا جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اُس کیلئے رسواکُن سزا ہے ۔

سورت ۔ 53 ۔ النَّجْم ۔ آیات 1 تا 3 ۔ قسم ہے ستارے کی جب وہ گرے کہ تمہارے ساتھی [سیّدنا محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم] نے نہ راہ گُم کی ہے نہ وہ ٹیڑھی راہ پر ہے اور نہ وہ اپنی خواہش سے کوئی بات کہتا ہے

اپنے نبی سیّدنا محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم سے محبت کے اظہار کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ہم ہر ایسے فعل کو ہمیشہ کیلئے چھوڑ دیں جو کہ سیّدنا محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم کو ناپسند تھا اور صرف وہ کام کریں جو اُنہیں پسند تھے ۔ اپنے محبوب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم کا یومِ ولادت منانے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ہم نوافل ادا کریں اور اُن پر درود بھیجیں ۔

سُورت ۔ 33 ۔ الْأَحْزَاب ۔ آیت ۔ 56 ۔ إِنَّ اللَّہَ وَمَلَائِكَتَہُ يُصَلُّونَ عَلَی النَّبِيِّ يَا أَيُّہَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْہِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا
بیشک اللہ اور ا س کے فرشتے نبیِ پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو ۔ تم [بھی] اُن پر درود بھیجا کرو اور سلام بھیجا کرو

اگر آپ کا حلوہ کھانے کو جی چاہے تو پکائیں خود بھی کھائیں اور حتی الوسع ہمسایوں اور رشتہ داروں کو بھی کھلائیں ۔ حلال کا کھانا ہمسایوں اور رشتہ داروں کو کھلانا بھی ثواب کا کام ہے لیکن ایسی بات یا فعل سے بچیئے جس سے اللہ اور اُس کے رسول نے منع فرمایا یا رسول اور اس کے قریبی ساتھیوں نے نہ کیا ہو کہ اتباع اِسی کو کہتے ہیں ۔

اگر مجھ سے پوچھیں تو میں کہوں گا کہ مستحق یعنی بہت کم آمدنی والے لوگوں کو ایک وقت کا کھانا کھلا دیں یا جن میں حلوہ کھانے کی مالی استطاعت نہیں ہے اُنہیں حلوہ پکا کر کھلا دیں [ذیابیطس والوں کو حلوہ نہ کھلائیں] ۔ اور اس کے علاوہ جتنا آسانی سے پڑھ سکیں نوافل پڑھیئے ۔ قرآن شریف کی تلاوت کیجئے اور نبی پر درود بھیجتے رہیئے وہی جو آپ نماز کے دوران پڑھتے ہیں ۔ خیال رکھیئے کہ فجر کی نماز کے بعد سے سورج اچھی طرح نکلنے تک ۔ سورج نصف النہار پر پہنچنے سے لے کر 30 منٹ بعد تک اور عصر کی نماز کے بعد سے مغرب کی نماز تک اوقات میں نوافل نہ پڑھیئے ۔

میلادُالنّبی مناتے ہوئے اپنے ماضی پر ضرور نظر ڈالئے اور مطالعہ کیجئے کہ جس عظیم ہستی کا یومِ پیدائش آپ منا رہے ہیں کیا اُس کی پسند ناپسند پر آپ نے عمل کیا ہے ؟ اگر نہیں تو جھُک جائیے اپنے خالق کے سامنے اور اپنے پچھلے کردار پر شرمندہ ہو کر معافی کی عاجزانہ التجاء کیجئے اور آئیندہ محتاط رہیئے ۔ اللہ ہم سب کو سیدھی راہ پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے ۔

زمرہ : دین, ذمہ دارياں, پيغام | 8 تبصرے »

مرغیوں کی سَستی نقل و حمل

مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 19 Mar 2008

زمرہ : روز و شب | 6 تبصرے »

تتمّہ

مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 18 Mar 2008

میں نے 15 مارچ کو اسلام آباد میں ہونے والے دھماکے کی اطلاع دیتے ہوئے لکھا تھا “ان 10 کے علاوہ 4 زخمی افراد نے پاکستانی ہسپتال جانے سے انکار کیا اور کہا کہ “ہمیں ہمارے سفارتخانہ پہنچا دو”۔ سو انہیں وہاں موجود لوگوں نے ان کے سفارتخانہ پہنچایا ۔ یہ امریکی تھے اور شاید ان میں کوئی برطانوی ہو “۔

مندرجہ بالا فقرہ لکھتے ہوئے میرے ذہن میں تھا کہ وہ لوگ امریکی ایف بی آئی کے ہوں گے ۔ اب یہ بات پوری طرح واضح ہو چکی ہے کہ وہ چاروں کے چاروں امریکی ایف بی آئی کے لوگ تھے ۔ مزید یہ کہ اُنہیں وہاں موجود لوگ امریکی سفارتخانہ نہیں لے کر گئے تھے کیونکہ اُنہوں نے کسی پاکستانی کے ساتھ جانے سے انکار کر دیا تھا ۔ امریکی سفارتخانہ سے گاڑیاں بہت جلد پہنچ گئی تھیں جو اُن کو لے کر چلی گئیں تھیں ۔ یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ اُن چار امریکی زخمیوں کا علاج کہاں ہو رہا ہے ۔ باقی 7 امریکی زخمی جو سروسز ہسپتال اسلام آباد میں تھے کو بھی 15 اور 16 مارچ کی درمیانی رات امریکی سفارتخانہ والے لے گئے تھے ۔

یہ بھی سننے میں آیا ہے کہ لاہور ایف آئی اے کی عمارت کے جس حصہ سے خودکُش بمبار نے ٹرک ٹکرایا اور ماڈل ٹاؤن میں خودکُش بمبار نے جس کوٹھی کو نشانہ بنانا چاہا ان دونوں میں ایف بی آئی والے بیٹھتے تھے ۔ ان باتوں سے یہ تاثر اُبھرتا ہے کہ دو سال قبل جو خبر پاکستان میں گردش کر رہی تھی کہ پورے پاکستان میں ایف بی آئی موجود ہے وہ صحیح تھی ۔

زمرہ : خبر | 8 تبصرے »

معاشرہ ۔ ماضی اور حال

مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 17 Mar 2008

معاشرہ میں خود بخود بگاڑ پیدا نہیں ہوتا بلکہ معاشرہ کے افراد ہی اس کا سبب ہوتے ہیں ۔ ایک دو نہیں سب مجموئی طور پر اس کے حصہ دار ہوتے ہیں ۔ کوئی غلط اقدام کر کے ۔ کوئی اس کی حمائت کر کے اور کوئی اس پر آنکھیں بند یا خاموشی اختیار کر کے ۔ 1970ء تک ریڈیو پر دلچسپ اور سبق آموز ڈرامے ہوتے تھے ۔ ریڈیو پر مزاحیہ پروگرام بھی ہوتے تھے لیکن ان میں بھی تربیت کو مدِ نظر رکھا جاتا تھا ۔ اِن میں نظام دین سرِ فہرست تھا ۔ چوہدری نظام دین کے ٹوٹکے اور نُسخے مزاحیہ لیکن دُور رس تربیت کے حامل ہوتے تھے ۔

اُس زمانہ میں کئی مووی فلمیں ایسی ہوتیں کہ لوگ اپنے بیوی بچوں سمیت دیکھنے جاتے ۔ ان کو سماجھ فلمیں کہا جاتا تھا ۔ ان میں بُرے کا انجام بُرا دکھایا جاتا اور آخر میں سچے یا اچھے کو کامیاب دکھایا جاتا ۔ اسی طرح کچھ گانے بھی سبق آموز ہوتے تھے جو بہت پسند کئے جاتے جن میں سے چند کے بول اس وقت میرے ذہن میں آ رہے ہیں

سو برس کی زندگی میں ایک پل تو اگر کر لے کوئی اچھا عمل

جائے گا جب یہاں سے کچھ بھی نہ پاس ہو گا

انسان بنو کر لو بھلائی کا کوئی کام

اک دن پڑے گا جانا کیاوقت کیا زمانہ ۔ کوئی نہ ساتھ دے گا سب کچھ یہیں رہے گا

دنیا ایک کہانی رے بھیّا ۔ ہر شئے آنی جانی رے بھیّا

میری نوجوانی کے زمانہ یعنی 1960ء یا کچھ پہلے ایک گانا آیا جو عاشق نے محبوبہ کا حصول نہ ہونے پر گایا تھا

کسی چمن میں رہو تم بہار بن کے رہو ۔ ۔ ۔ خدا کرے کسی دل کا قرار بن کے بن کے رہو
ہمارا کیا ہے ہم تو مر کے جی لیں گے ۔ ۔ ۔ یہ زہر تم نے دیا ہے تو ہنس کے پی لیں گے
تمہاری راہ چمکتی رہے ستاروں میں ۔ ۔ ۔ دیارِ حُسن میں تم حُسنِ دیار بن کے رہو

ایک دہائی بعد شاعروں کا دماغ پلٹا تو اُسی طرح کی صورتِ حال میں یہ گانا آیا

قرار لُٹنے والے تُو قرار کو ترسے ۔ ۔ ۔ میری وفا کو میرے اعتبار کو ترسے
خُدا کرے تیرا رنگیں شباب چھِن جائے ۔ ۔ ۔ بہار آئے مگر تُو بہار کو ترسے

اُس زمانہ میں تعلیم سے زیادہ تربیت پر زور دیا جاتا ۔ تعلیم کا بھی کم خیال نہیں رکھا جاتا تھا اور بامقصد تعلیم کی خواہش کی جاتی تھی ۔ زیادہ تر سکولوں کے اساتذہ سلیبس یا کورس کے علاوہ پڑھاتے تھے اور چلنے پھرنے بولنے چالنے کے آداب پر بھی نظر رکھتے تھے ۔ عام سلیبس کے علاوہ طُلباء کو معلوماتِ عامہ ۔ ابتدائی طبی امداد اور ہوائی حملہ سے بچاؤ کے کورسز کرنے کی ترغیب دی جاتی ۔ میں نے دو معلوماتِ عامہ کے دو ابتدائی طبی امداد کے اور ایک ہوائی حملہ کے بچاؤ کا امتحان آٹھویں سے دسویں جماعت تک اے گریڈ میں پاس کئے تھے ۔ ابتدائی طبی امداد اور ہوائی حملہ سے بچاؤ کی عملی تربیت دی جاتی تھی جو میں نے آٹھویں ۔ نویں اور اور دسویں کی گرمیوں کی چھٹیوں میں حاصل کی ۔

شاید 1959ء کا واقعہ ہے جب میں انجنیئرنگ کالج لاہور میں پڑھتا تھا ۔ میں اپنے ایک استاذ کے گھر مشورہ کیلئے گیا تو وہاں ایک صاحب اپنے بیٹے سمیت موجود تھے ۔ چند منٹ بعد وہ چلے گئے تو محترم اُستاذ نے فرمایا “ان صاحب کا بیٹا ہمارے کالج میں دوسرے سال میں ہے ۔ یہ کہہ رہے تھے کہ “میں نے بیٹے کو یہاں بھیجا تھا کہ پڑھائی کے ساتھ ساتھ یہ انسانیت بھی سیکھ لے گا ۔ یہ انجنیئر تو شاید بن جائے گا لیکن انسان بننے کی بجائے جانور بنتا جا رہا ہے ۔ اتنے اعلٰی معیار کے کالج میں پہنچ کر اس دماغ آسمان پر چڑھ گیا ہے اور اسے بڑے چھوٹے کی تمیز نہیں رہی”۔

میرے سکول کالج کے زمانہ میں اساتذہ کی تنخواہیں بہت کم ہوتی تھیں ۔ اساتذہ کی اکثریت گو زیادہ پڑھی لکھی نہیں ہوتی تھی لیکن اپنے فرائض سے نہ صرف واقف ہوتے تھے بلکہ انہیں بخوبی نبھاتے بھی تھے ۔ وہ اپنے طُلباء سے دلی لگاؤ رکھتے تھے اور اپنے آپ کو اُن کا سرپست سمجھتے تھے ۔ طُلباء اور ان کے والدین بھی اساتذہ کی تعظیم کرتے تھے جس کا بچوں پر مثبت اثر پڑتا تھا ۔ والدین کو استاذ سے کوئی شکائت ہوتی تو علیحدگی میں اس سے بات کرتے اور بچے کو خبر نہ ہوتی ۔ استاذ بھی والدین کو طالب علم کی شکائت اسکے سامنے کی بجائے علیحدگی میں کرتے ۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ بُرے لوگ اُس زمانہ میں بھی تھے لیکن آج کی طرح اکثریت ہم چُناں دیگرے نیست مطلب ہم جیسا کوئی نہیں والی بات نہ تھی ۔ کم پڑھے اور اَن پڑھ لوگ پڑھے لکھے کی عزت کرتے تھے خواہ وہ ان سے چھوٹا ہو اور پڑھے لکھے مؤدبانہ طریقہ سے بات کرتے تاکہ دوسرے کو معلوم ہو کہ وہ تعلیم یافتہ ہے ۔

آج میں دیکھتا ہوں کہ پڑھا لکھا اکڑ میاں بنا پھرتا ہے اور دوسرے کو حقیر جانتا ہے ۔ تُو تُو کر کے بات کرتا ہے ۔ بڑی گاڑی والا پرانی یا چھوٹی گاڑی والے کو حقیر سمجھتا ہے ۔ میریئٹ یاکے ایف سی سے نکلنے والا باہر کھڑے پر حقارت کی نظر ڈالتا ہے ۔ متعدد بار میرے ساتھ ایسا ہوا کہ میں عام سے لباس میں تھا اور میرےساتھ بدتمیزی کی کوشش کی گئی اور جب میں نے انگریزی بولی تو صاحب بہادر یا محترمہ کی زبان گُنگ ہو گئی ۔ [وضاحت ۔ انگریزی بولنے کا مطلب ہے کہ ایک تعلیم یافتہ ۔ مدبّر اور مہذّب انسان کی طرح بات کی ۔ یہ فقرہ انجنیئرنگ کالج سے لے کر اب تک میرے دوستوں میں اِن معنی میں مستعمل ہے]

یہ کمپیوٹر کے دور کا معاشرہ جس میں جھوٹ اور ظُلم کی بہتات ہے اس کے سُلجھنے کی شاید کسی کو اُمید ہو مجھے تو مایوسی ہی مایوسی نظر آتی ہے ۔ وجہ یہ کہ چالیس پچاس سال قبل جو جانتا تھا وہ بھی دوسرے کی بات غور سے سنتا تھا کہ شاید کوئی نئی بات سیکھ لے ۔ آج کے دور میں اکثر لوگ شاید یہ سمجھتے ہیں کہ ان سے زیادہ کوئی نہیں جانتا اسلئے دوسرے ان کو کچھ نہیں سِکھا سکتے بلکہ دوسروں کو اُن سے سیکھنا چاہیئے ۔

زمرہ : تاریخ, معاشرہ | 2 تبصرے »