What Am I میں کیا ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

میرا بنیادی مقصد انسانی فرائض کے بارے میں اپنےعلم اور تجربہ کو نئی نسل تک پہنچانا ہے ۔ ۔ ۔ رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي وَاحْلُلْ عُقْدَةِ مِّن لِّسَانِي يَفْقَھوا قَوْلِي



تختۂ کار

محفوظہ برائے March 29th, 2008

کیا ہو گا ؟ کیسے ہوگا ؟

مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 29 Mar 2008

ہم لوگ ہرروز کہتے اور سوچتے رہتے ہیں کہ “یہ ہو جائے گا ۔ وہ ہو جائے گا ۔ یہ کیسے ہو گا ؟ وہ کیسے ہو گا ؟ پتہ نہیں امریکہ کیا کرے گا ؟ پتہ نہیں ہماری حکومت کیا کرے گی ؟ پتہ نہیں ہمارے مُلک کا کیا بنے گا ؟ ” ایسے وقت ہم بھول جاتے ہیں کہ

سورت ۔ 3 ۔ آل عِمْرَان ۔ آیات ۔ 26 تا 28
کہہ دو ۔ “اے اﷲ ۔ سلطنت کے مالک ۔ تُو جسے چاہے سلطنت عطا فرما دے اور جس سے چاہے سلطنت چھین لے اور تُو جسے
چاہے عزت عطا فرما دے اور جسے چاہے ذلّت دے ۔ ساری بھلائی تیرے ہی دستِ قدرت میں ہے ۔ بیشک تُو ہر چیز پر بڑی قدرت والا ہے ۔
تو ہی رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور تُو ہی زندہ کو مُردہ سے نکالتا ہے اورمُردہ کو زندہ سے نکالتا ہے اور جسے چاہتا ہے بغیر حساب کے [اپنی نوازشات سے] بہرہ اندوز کرتا ہے”۔
مسلمانوں کو چاہیئے کہ اہلِ ایمان کو چھوڑ کر کافروں کو دوست نہ بنائیں اور جو کوئی ایسا کرے گا اس کے لئے اﷲ [کی دوستی میں] سے کچھ نہیں ہوگا سوائے اس کے کہ تم ان [کے شر] سے بچنا چاہو ۔ اور اﷲ تمہیں اپنی ذات [کے غضب] سے ڈراتا ہے ۔ اور اﷲ ہی کی
طرف لوٹ کر جانا ہے

لیکن یہ بھی یاد رکھنا ضروری ہے کہ

سورت ۔ 53 ۔ النَّجْم ۔ آیات ۔ 38 تا 41
کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا ۔
اور یہ کہ انسان کو وہی کچھ ملے گا جس کی اُس نے کوشش کی ہوگی ۔
اور یہ کہ اُس کی ہر کوشش عنقریب دکھا دی جائے گی ۔
پھر اُسے پورا پورا بدلہ دیا جائے گا ۔

زمرہ : دین, روز و شب, معاشرہ | 5 تبصرے »