سوئی کی تلاش
مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 08 Mar 2008
ساٹھ سال قبل جب میں پانچویں جماعت میں پڑھتا تھا تو ایک چھوٹی سی کہانی پڑھی تھی کہ ایک شخص رات کے وقت سڑک پر قُمقَمے کی روشنی میں کچھ ڈھونڈ رہا تھا ۔ ایک راہگیر نے پوچھا “بھئی کیا ڈھونڈ رہے ہو ؟” اس نے جواب دیا ” سُوئی”۔ راہگیر نے کہا “گِری کہاں پر تھی ؟” وہ شخص کہنے لگا “گھر میں”۔ راہگیر کہنے لگا “عجب آدمی ہو ۔ سوئی کھوئی گھر میں اور ڈھونڈ رہے ہو سڑک پر”۔ وہ شخص بولا ” گھر میں روشنی نہیں ہے”۔
ہمارے صدر صاحب اس کا اُلٹ کر رہے ہیں ۔ پاکستان میں دھماکے کرنے کی منصوبہ بندی کرنے والے تو ملک کے باہر ہیں اور صدر صاحب انہیں اپنے مُلک میں تلاش کر رہے ہیں ۔ اس طرح دھماکے کرانے والوں کو کھُلی چھٹی ملی ہوئی ہے ۔
پئے در پئے دھماکوں کے نتیجہ میں صدر صاحب کے معتمدِ خاص اور نگران وزیرِ داخلہ لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ حامد نواز بھی چند دن قبل ایک نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے بول اُٹھے کہ “لوگ کہتے ہیں کہ پاکستان میں دھماکے امریکہ ۔ بھارت اور افغانستان کروا رہا ہے”۔ اس پر امریکی سفیر نے غصہ گِلہ کیا ۔ پھر جب نگران وزیرِ داخلہ نے اپنا بیان واپس لینے کی بجائے ایک اور نجی ٹی وی چینل پر کہا “پاکستان میں ہونے والے دھماکوں میں انڈیا تو بہرحال ملوّث ہے اور شاید امریکہ اور افغانستان بھی اس میں شامل ہیں” تو سرکاری ترجمان نے اسے سرکاری بیان ماننے سے انکار کر دیا ۔
ہمارے صدر صاحب کو بُش نے نمعلوم کونسی گولی کھلائی ہوئی ہے کہ ان پر کسی سچائی کا کوئی اثر ہی نہیں ہوتا ۔
