روشن خیالی . دلیری یا حماقت ؟
مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 05 Mar 2008
میں نے اپنی کل کی تحریر کے آخر میں ایک مشورہ لکھا تھا ۔ اس مشورہ کا ایک پہلو میں نے اُجاگر نہیں کیا تھا جو یہ ہے کہ کسی غیر مرد کے ساتھ اکیلے میں سفر نہیں کرنا چاہیئے ۔ اس سلسلہ میں آج انگریزی اخبار دی نیوز اسلام آباد میں ایک خبر چھپی ہے جو ملاحظہ ہو ۔
ہمارے گھر سے آدھے کلو میٹر کے فاصلہ پر مارگلہ تھانہ ہے ۔ وہاں اسلام آباد کے ایک کالج کی 18 سالہ طالبہ نے پہنچ کر ایس ایچ او کو بتایا کہ وہ اسلام آباد کے سیکٹر جی ۔ 9 میں اپنی سہیلی سے ملنے گئی ۔ سہیلی گھر پر نہ تھی ۔ وہاں اُس کی ملاقات سہیلی کے دوست سے ہوئی جس نے اُسے اپنی کار میں اُس ہوٹل میں پہنچانے کی پیشکش کی جہاں کہ وہ جانا چاہتی تھی ۔ چنانچہ وہ اس لڑکے کے ساتھ چلی گئی مگر بجائے ہوٹل کے وہ اُسے اسلام آباد کے مضافات میں لے گیا اور پستول دکھا کر اُس کی عزت لوٹ لی ۔ میں اس سانحہ کے بعد سیدھی یہاں آئی ہوں ۔ خبر کے مطابق لڑکے کو گذشتہ رات گرفتار کر لیا گیا ہے ۔
اصل بات تو لڑکا لڑکی کے علاوہ صرف اللہ ہی جانتا ہے ۔ اس واقعہ کے متعلق مندرجہ ذیل سوال اہم ہیں
لڑکی اس غیر لڑکے کے ساتھ کیوں گئی ؟
لڑکی سہیلی کے گھر سے واپس اپنے گھر جانے کی بجائے ہوٹل کیوں جانا چاہتی تھی ؟
جب لڑکی نے دیکھا کہ لڑکا صحیح راستہ پر نہیں جا رہا تو اپنے آپ کو بچانے کی کوشش کیوں نہ کی ؟
اسلام آباد کے جس علاقے کی بات ہو رہی ہے اس میں آجکل رات 11 بجے تک بھی رونق ہوتی ہے ۔
