مرد عورت اختلاط

9,226 بار دیکھا گیا

مرد اور عورت کا اختلاط ایک ایسا مرض ہے جو اپنی ہولناکی یورپ اور امریکہ میں پھیلانے کے بعد پاکستان میں بھی پاؤں جما رہاہے ۔ آجکل ہمارے ملک کے نام نہاد روشن خیال لوگ مرد عورت کے اختلاط کے گُن گاتے ہیں اور اس اختلاط کی عدم موجودگی کو مُلکی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بیان کرتے ہیں جو کہ حقیقت نہیں ہے کیونکہ پاکستان میں عورتیں ماضی میں معاشرے کا بے کار پرزہ کبھی بھی نہ تھیں ۔ وہ ملکی ترقی میں ہمیشہ شامل رہیں ۔ ایک چھوٹی سی مثال 1947ء کی ہے جب لاکھوں کی تعداد میں نادار ۔ بے سہارا ۔ بیمار یا زخمی خواتین اور لڑکیاں بھارت سے پاکستان پہنچیں تو اس دور کی پاکستانی خواتین اور لڑکیاں ہی تھیں جنہوں نے بیگم رعنا لیاقت علی صاحبہ کی سربراہی میں منظم ہو کر نہ صرف ان کی تیمارداری کی اور ڈھارس بندھائی بلکہ انہیں سنبھالا ۔ بسایا ۔ انہیں اپنے گھر چلانے کے قابل کیا اور ہزاروں کی شادی کا اہتمام بھی کیا ۔ رہیں دیہاتی عورتیں جنہیں یہ روشن خیال قیدی کہتے ہیں وہ پہلے بھی پڑھی لکھی شہری عورتوں سے زیادہ کام کرتی تھیں اور آج بھی زیادہ کام کرتی ہیں گھر میں اور گھر سے باہر بھی ۔ بہرکیف یہ ایک علیحدہ موضوع ہے ۔

اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی نے مطالعہ اور تحقیق کی خُو مجھے بچپن ہی سے بخشی اور میں نے سنِ بلوغت کو پہنچنے سے قبل ہی عورت مرد کے اختلاط کے عمل کا بغور مطالعہ شروع کر دیا ۔ یہ مرض غیرمحسوس طور پر لاحق ہو جاتا ہے اور بظاہر راحت بخش ہوتا ہے ۔ یہی راحت کا احساس انسان کو ایک دن ڈبو دیتا ہے ۔ میں پہلے بھی لکھ چکا ہوں کہ اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی نے لڑکی لڑکے یا عورت مرد کے درمیان ایک خاص قسم کی کشش رکھی ہے ۔ مگر ساتھ ہی حدود و قیود بھی مقرر کر دیں کہ افزائشِ نسل صحیح خطوط پر ہو ۔

آج کی تحریر نہ تو بدکردار عورتوں کے متعلق ہے اور نہ ہی سڑکوں پر اور مارکیٹوں میں گھورنے یا چھڑنے والوں کے متعلق بلکہ شریف زادوں اور شریف زادیوں سے متعلق ہے ۔ جنسی تسکین کی خاطر ایک دوسرے کو ملنے والے لڑکا لڑکی یا مرد عورت کی تعداد بہت کم ہے ۔ اکثریت غیر ارادی طور پر جنسی بے راہروی کا شکار ہوتی ہے ۔ ابتداء عام طور پر تعریف سے ہوتی ہے ۔ بعض اوقات ابتداء جملے بازی سے ہوتی ہے ۔ اختلاط جاری رہے تو بات دست درازی تک پہنچ جاتی ہے اور پھر ایسا لمحہ آنے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے جب دونوں نہ صرف اللہ بلکہ اردگرد کی دنیا کو بھول کر غوطہ لگا جاتے ہیں اور احساس سب کچھ کر گذرنے کے بعد ہوتا ہے ۔ کچھ کو احساس اس وقت ہوتا ہے جب لڑکی یا عورت کا جسم اس کی غلطی کی گواہی دینے لگتا ہے ۔ اس معاملہ میں ہر مرحلہ پر ابتداء عام طور پر لڑکے یا مرد کی طرف سے ہوتی ہے ۔ لیکن کبھی کبھار اس کی ابتداء لڑکی یا عورت کی طرف سے بھی ہوتی ہے ۔

متذکرہ عمل کا شکار صرف جاہل ۔ اَن پڑھ یا غریب ہی نہیں ہوتے اور نہ ہی صرف غیر شادی شدہ ہوتے ہیں بلکہ پڑھے لکھے ۔ آسودہ حال اور شادی شدہ بھی ہوتے ہیں ۔ ہوتا یوں ہے کہ کسی عام ضرورت کے تحت لڑکا لڑکی یا عورت مرد ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہوتے ہیں ۔ باتوں سے بات کبھی لطیفوں ۔ مذاق یا چوٹوں پر پہنچتی ہے ۔ کبھی کبھی اسی پر جھڑپ بھی ہو جاتی ہے ۔ یہ اس مرض کی ابتدائی علامات ہیں ۔ چاہیئے کہ انسان اسی وقت اپنے آپ کو سنبھالے اور اس راحت یا لذت کے احساس کو ختم کر دے ۔ بالخصوص لڑکی یا عورت کو اس صورتِ حال سے فوری طور پر نکل جانا چاہیئے ورنہ اس مرض کی خطرناکی کا یہ عالم ہے کہ کسی بھی وقت انسان کیلئے ایک گھمبیر مسئلہ بن سکتا ہے جس کے نتیجہ میں کوئی خودکُشی کر لیتا ہے ۔ کوئی عدالت کے کٹہرے میں پہنچ جاتا ہے اور کوئی قتل کر دیا جاتا ہے ۔ ہلاکت یا کچہری سے بچ جانے والی لڑکیاں یا عورتیں گمنامی کی زندگی گذارتی ہیں ۔ ستم یہ ہے کہ دنیا کا کوئی بھی ملک ہو مرد یا لڑکا معاشرہ میں اس سانحہ کے بُرے اثرات سے بچا رہتا ہے ۔

زبردستی بدکاری کے جو واقعات اخبارات اور سینہ گزٹ کے ذریعہ ہمارے علم میں آتے ہیں تحقیق کرنے پر افشاء ہوتا ہے کہ ان کی اکثریت اختلاط کا نتیجہ ہوتی ہے ۔ اس حقیقت سے متعلقہ خاندان کے بزرگ اور وکلاء واقف ہوتے ہیں ۔ ہوتا یوں ہے کہ جب لڑکی یا عورت کو یقین ہو جاتا ہے کہ اس کے گناہ کی سَنَد سب پر عیاں ہونے والی ہے تو وہ اپنی بچت کی کوشش میں اپنے دوست پر زبردستی کا الزام لگا دیتی ہے ۔ دیہات میں ایسا بھی ہوتا ہے کہ اصل مجرم کی بجائے کسی دشمن کا نام لے کر مقدمہ درج کرا دیا جاتا ہے ۔ میرے علم میں کئی واقعات کی اصل کہانی ہے لیکن ان میں سے دو ایسے ہیں جن کے متعلق میں آج بھی سوچتا ہوں کہ ایسا کیسے ہو گیا ؟ کیونکہ ان کے متعلقہ لوگوں کو میں اچھی طرح جانتا تھا ۔ وہ سب تعلیم یافتہ ۔ ذہین ۔ شریف النفس اور سمجھدار لوگ تھے اور ان سے ایسی حرکت کی کسی کو توقع نہ تھی ۔

ایک گھریلو خاتون ۔ نیک خاندان کی بیٹی ۔ پسند کی شادی ۔ نیک خاندان کی بہو ۔ عمر 40 سال سے زیادہ ۔ دو بیٹوں اور دو بیٹیوں [عمریں علی الترتیب 18 ۔ 10 ۔ 16 اور 13 سال] کی ماں ۔ خاوند بہت خیال رکھنے والا ۔ اس عورت کو موسقی اور ناچ کا شوق چُرایا ۔ اسکے خاوند کا بہترین دوست اس فن کا ماہر تھا ۔ وہ ان کے ہاں آتا جاتا تھا ۔ عورت نے اُس سے سیکھنا شروع کیا ۔ کچھ ماہ بعد ایک دن اس کا خاوند گھر آیا تو اس نے انہیں ایسی حالت میں دیکھا کہ کھڑے کھڑے بیوی کو طلاق دے دی ۔ بیوی کو اپنی غلطی کا احساس تو ہوا لیکن دیر بہت ہو چکی تھی ۔

دوسرا قصہ ایک لیڈی ڈاکٹر کا ہے ۔ جس ہسپتال میں وہ ملازم تھی وہیں ایک ڈاکٹر سے اس کی عام سی گپ شپ ہو گئی ۔ جس رات لیڈی ڈاکٹر کی ڈیوٹی ہو تی کبھی کبھار وہ ڈاکٹر گپ شپ کیلئے آ جاتا ۔ ایک رات وہ ہو گیا جس کا اختلاط میں ہمیشہ خدشہ رہتا ہے ۔ دو تین ماہ بعد گناہ ظاہر ہونے کا اُنہیں یقین ہو گیا تو اپنی عزت کا جنازہ نکلتا محسوس ہوا ۔ دونوں کے خاندان ایک دوسرے کو نہ جانتے تھے اور نہ ان کی ثقافت ایک سی تھی ۔ بہرحال دونوں نے اپنے گھر والوں پر کسی طرح دباؤ ڈالا ۔ لڑکے کی منگنی اپنی کزن سے ہو چکی ہوئی تھی جسے توڑ کر دونوں کی شادی ہو گئی ۔

اس مرض کو سمجھنے کیلئے مرد و عورت کی نفسیات ۔ علم العضاء اور کچھ دیگر عوامل کا مطالعہ ضروری ہے ۔ بالخصوص عورتوں کے بارے میں ۔ عورت کو اللہ تعالٰی نے محبت کا پیکر بنایا ہے ۔ وہ کسی کو تکلیف میں دیکھ کر دُکھی ہو جاتی ہے اور معمولی سے اچھے سلوک سے خوش ہو جاتی ۔ عورت کی یہی خوبیاں اس کیلئے وبال بھی بن سکتی ہیں ۔ دوسرے لڑکی یا عورت کے جسم میں ایک محرک دائرے کی صورت میں نفسیاتی رد و بدل ہوتا رہتا ہے جو کہ اس کی صنف کے لحاظ سے ضروری ہے ۔ ہر چکر کے دوران ایک ایسا وقت آتا ہے کہ مخالف جنس کی کشش بہت زیادہ ہو جاتی ہے ۔ ایسے وقت میں اگر وہ کسی غیر مرد کے قریب ہو جس سے کہ اس کا اختلاط چل رہا ہو تو اس کی عفت ختم ہونے کا خدشہ ہوتا ہے ۔ اس سے بچنے کا یعنی اپنی عفت و ناموس کو بچانے کا صرف اور صرف ایک ہی طریقہ ہے جو اللہ اور اس کے رسول سیّدنا محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم نے بتا یا ہے کہ مرد عورت یا لڑکا لڑکی باہمی اختلاط سے بچیں اور لڑکی یا عورت غیر لڑکے یا مرد سے سرد مہری سے پیش آئے ۔

دنیاوی لحاظ سے اگر ملنا مجبوری ہو تو عورت یا لڑکی کو چاہیئے کہ کسی بھی مرد یا لڑکے کو علیحدگی میں نہ ملے بلکہ والدہ یا والد یا بڑی بہن یا بڑے بھائی یا خاوند یا بہت سے لوگوں کی موجودگی میں ملے ۔ کئی والدین اپنی بیٹیوں کو اور خاوند اپنی بیویوں کو آزاد خیال بنانے کی کوشش میں اپنے لئے بدنامی کی راہ ہموار کرتے ہیں ۔ والدین اور خاوندوں کو بھی اپنے کردار پر نظرِ ثانی کی ضرورت ہے ۔ یہ نہیں بھولنا چاہیئے کہ لڑکیوں اور عورتوں کی مناسب حفاظت اور ان کو نان نفقہ ۔ لباس ۔ چھت اور دیگر ضروری سہولیات بہم پہنچانا باپ یا بھائیوں یا خاوند یا بیٹوں پر فرض ہے ۔

This entry was posted in تجزیہ, روز و شب, معاشرہ on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

23 thoughts on “مرد عورت اختلاط

  1. شعیب صفدر

    انکل ٹھیک لکھا ہے!!! دونوں واقعات ایسے ہیں جو کم لوگوں کو سمجھ آئیں گے! کسی کی زبانی معلوم ہونے اور خود بندے کے منہ سے سننے میں فرق ہے!! کئی گھروں کی تباہی کی ایک وجہ یہ میل ملاپ ہے!
    ایک نہیں ہر ماہ دو تین ایسے انوکھے قصے سننے کو ملتے ہیں! کبھی لکھوں گا اپنے انداز میں مگر اس سے آگے کے مرحلے!!!

  2. زیک

    شعیب کیا آپ وعدہ کرتے ہیں کہ آئیندہ کسی خاتون کے قریب سے بھی نہیں گزریں گے؟ :razz: :roll:

  3. عادل جاوید چودھری

    انکل آپ کا موضوع اور اس پر تجزیہ بالکل درست ہے۔ آج کل کی بے راہ روی اور بگڑتے ہوئے ماحول کی ایک بڑی وجہ یہی مرد عورت کا بلا روک ٹوک اختلاط ہے۔ اس کی دوسری بڑی وجوہات میں دین سے دوری، مغربی ثقافتی یلغار اور کیبل ٹی وی کی کارستانیاں شامل ہیں۔ آج کل تو ایسے بھارتی حتٰی کہ پاکستانی ڈرامے عام گھروں میں بڑے آرام سے دیکھے جاسکتے ہیں جن کے موضوعات ہی ایسے ہوتے ہیں جو مرد عورت کے کھُلم کھُلا اختلاط کی حمایت پر مبنی ہوتے ہیں اور پتہ نہیں کیا کیا۔۔۔ بندہ اپنے گھر والوں ‌کے ساتھ بیٹھ کر نہیں دیکھ سکتا۔۔ ابھی کل ہی ایک پاکستانی ٹی وی چینل ہم ٹی وی پر ایسا ڈرامہ دیکھنا نصیب ہوا جس میں ہیرو ئیروئن ایسا عمل کر چکے تھے جس کا آپ نے اُوپر ذکر کیا ہے اور پھر انھیں ایسا دکھایا گیا ہے کہ جیسے انھوں نے کوئی بڑا گناہ نہیں کیا۔۔۔ :sad:

  4. اجمل Post author

    شعیب صفدر صاحب
    بہت سے قصے سننے کو ملتے ہیں جن میں اکثر مکمل یا جزوی طور پر من گھڑت ہوتے ہیں ۔ کچھ واقعات صرف اتفاق سے صحیح معلوم ہو جاتے ہیں ۔

    عادل جاوید چوہدری صاحب
    آپ کا کہنا درست ہے ۔ بنیادی وجہ دین سے دوری ہے اور پھیلاؤ میں ٹی وی والوں کا بہت بڑا کردار ہے ۔ میں پچھلے 20 سال سے ٹی وی پر صرف خبریں دیکھتا ہوں وہ بھی جب اہم خبروں کی توقع ہو ۔ ان کے درمیان میں بھی واہیات قسم کے اشتہار آ جاتے ہیں تو مجھے چہرہ دوسری طرف کرنا پڑتا ہے ۔

  5. Pingback: What Am I میں کیا ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ » Blog Archive » روشن خیالی . دلیری یا حماقت ؟

  6. نینی

    مجھے نھیں معلوم کھ میں اس topic پر تبصرۃ کرنے کی اھل بھی ھوں یا نھیں مگر جھاں تحریر کے بھت سے حصوں کو ذھن سھولت سے قبول کرتا گیا وھاں ایسے مراحل بھے آے جھاں تذبذب کی کیفیت محسوس ھوی۔
    سب سے پہلے تو ” مرد اور عورت کا اختلاط ” ایک نا مناسب عنوان لگا۔ اس کا عنوان ھونا چاھیے تھا ” اسلام کے قوائد و زوابط سے ماوراء مرد اور عورت کا اختلاط”۔۔۔

    عورت اور مرد میں خدا نے کشش رکھی ھے۔ صحیح فرمایا گیا ۔ اس جال سے بچنا ھی کامیابی ھے ۔ گناہ کے ھر کام میں کشش رکھی گی ھے ۔ایک تاجر کی لیے سود کی رقم میں کشش ھے اور سرکاری ملازم کے لیے رشوت میں۔ کیا تاجر کو سود سے بچنے کے لیے تجارت چھوڑ دینی چاھیے ؟ کیا سرکاری ملازم کو رشوت سے بچنے کے لیے ملازمت؟؟؟۔۔۔تو مرد و عورت کے ملاپ سے ھونے والے گناہ سے بچنے کے لیے مرد و عورت کے اختلاط پہ پابندی کیوں ؟؟ ۔۔۔ زرورت تو اس امر کی ھے کہ ہم معاملات زندگی سرانجام دیتے وقت اسلامی حدود و قیود کو مقدم رکھیں۔ یہ ہی اصل آزماٰش ھے۔ عورت مرد ملیں مگر ایسے کہ عورت اسلامی لباس میں ھو اور مرد کی نگاہیں نیچی ھوں اور دلوں میں خوف خداوندی ھو۔
    بیٹیوں اور بیٹوں دونوں کی تربیت ان خطوط پہ کی جاے کہ انھیں صحیح اور غلط کی از خود پہچان ھو ۔
    معاشرے کے انحطاط کی وجہ مرد اور وعورت کا اختلاط نہیں بلکہ وہ عوامل ہیں جو اس اختلاط کا نا جائز فائدہ اٹھانے پر اکساتے ہیں۔ جن میں سرفہرست میڈیا ہے جس کے زیر اثر نہ عورت سکارف میں محفوظ ھے اور نہ مرد نیچی نگاھیں کر کے۔

    حکم خداوندی ہے کی نیکی اور بھلاٰی کے کاموںمیں ایکدوسرے سے تعاون کرو اور بدی اور بے حیایی کے کاموں سے ایک دوسرے کو روکو ۔

    یہ حکم مرد اور عورت کی تخصیص کیے بغیر ھے ۔ چناچہ میں فراخ دلی سے اپنی تصیح کروانا آپ سب سے پسند کروں گی۔

    ( اف اردو لکھنا بہت مشکل ھے :lol: )

  7. شعیب صفدر

    جب میں نے لکھا سنے کو ملتے ہیں تو مطلب وہ قصے جو کیس کی شکل میں میں کورٹ میں چلا رہا ہوں یا وہ جن میں میرے دوست وکیل ہیں!! دراصل ہم (ہم جماعت جو اب وکالت کر رہے ہیں( کہیں اور مصروف ہوتے ہیں تو ایک دوسرے کے کیس چلا لیتے ہیں! نئے وکیل کے پاس کون سے کیس ذیادہ ہوتے ہیں!! فیملی کیس!!!

  8. Pingback: What Am I میں کیا ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ » Blog Archive » تبصرہ کا جواب

  9. اجمل Post author

    شعیب صفدر صاحب
    میں نے ایک عام سی بات کہی تھی ۔ جو وکلاء فیملی کیسز لیتے ہیں ان کے علم میں ایسے واقعات ہوتے ہیں ۔ اس کا ذکر تو میں نے اپنی تحریر ہی میں کر دیا تھا ۔

  10. سیفی

    “اس معاملہ میں ہر مرحلہ پر ابتداء عام طور پر لڑکے یا مرد کی طرف سے ہوتی ہے ۔ لیکن کبھی کبھار اس کی ابتداء لڑکی یا عورت کی طرف سے بھی ہوتی ہے”
    ————–
    آپ کی اس بات سے میں اختلاف کروں گا۔ قرآن میں جب بھی مجرموں کا ذکر آیا ہے ان میں پہلے مرد پھر عورت کا ذکر کیا گیا ہے۔ جیسے “السارق و السارقتہ” چوری کرنے والا مرد اور چوری کرنے والی عورت۔

    مگر جب بدکاری کی بات آئی تو قرآن کا انداز یہ ہے ” الزانیتہ والزانی۔۔۔۔۔۔ فالجلدو” یعنی بدکارعورت اور بدکار مرد۔

    علماء نے اس کے بارے میں لکھا ہے کہ باقی سب گناہوں میں مرد پہل کرتا ہے۔ مگر بدکاری ایسا گناہ ہے کہ اس میں پہل عورت کی طرف سے ہوتی ہے۔ ایک مرد کتنا ہی بدنظر کیوں نہ ہو جب تک عورت کی طرف سے اسے شہ نہ ملے گی وہ گناہ کا ارتکاب نہیں‌کر سکتا۔ (یاد رہے بالجبر اور چیز ہے۔ یہ بالرضا کے بارے ہے(

    والسلام
    سیفی

  11. افتخار اجمل بھوپال Post author

    سیفی صاحب
    پہلی بات تو یہ ہے کہ میں نے اپنے مُلک میں اپنے معاشرہ کی بات کی ہے ۔ جس کے حساب سے میری تحریر بالکل درست ہے ۔ اگر اُس معاشرہ کی بھی بات کی جائے جب قرآن شریف نازل ہوا تو مجھے آپ کا استدلال درست نہیں لگتا ۔
    ایک واقعہ ہے کہ عمر ابن الخطاب رضی اللہ عنہ کی خلافت کے زمانہ میں ایک خاتون رات کے وقت گلی میں جا رہی تھی کہ اندھرے میں ایک مرد نے اُسے گرا لیا ۔ اسی اثناء میں ایک اور شخص آ گیا جس نے خاتون کو بچایا ۔خلیفہ نے خاتون کو بری کیا اور مرد کو سزا کا حُکم سُنایا

  12. سیفی

    ًمحترم اجمل صاحب۔ السلام علیکم

    آپ کی عمر، تجربہ اور علم کے اعتبار سے آپ کی رائے احقر کے لئے بہت قابلِ احترام ہے مگر آپ نے جو واقعہ لکھا ہے وہ میری تحریر کے آخرمیں قوسین میں‌لکھے گئے جملے کی مد میں آتا ہے۔

    وگرنہ قرونِ اولیٰ سے اخریٰ تک علماء اس پر متفق ہیں کہ عورت کی پہل اور منشاء کے بغیر بدکاری (بالرضا) ممکن نہیں۔

    والسلام مع الاکرام
    سیفی

  13. افتخار اجمل بھوپال Post author

    سیفی صاحب ۔ السلام علیکم
    چلیئے میں ہار مان لیتا ہوں ۔ میرا استدلال فلسفیانہ نہیں بلکہ اپنے مطالعہ اور مشاہدہ کیبناء پر ہے جو کہ ناقص ہو سکتا ہے

  14. سیفی

    السلام علیکم

    افتخار انکل آپ بھی کمال کرتے ہیں۔ بھلا آپ کو ہرانا کہیں میرا مقصد ہو سکتا ہے۔ آپ کا تجربہ اور علم میری عمر سے بھی زیادہ ہوگا۔ اور بزرگوں کا تجربہ ہرگز ایسی چیز نہیں کہ اس کو بےکار یا لغو گردانا جائے۔

    میں تو بس اتنا عرض کررہا تھا کہ میرے مطالعے میں یہ چیز آئی ہے۔ جو آپ کے مشاہدے سے مطابقت نہیں رکھتی۔

    آپ کے بلاگ پر میرا آنا ہی اس بات کی دلیل ہے کہ آپ کی باتیں میرے لئے کتنی اہم اور سودمند ہیں۔

    والسلام
    نیازمند
    سیفی

  15. محمد نوید رحمت

    نہایت ہی نازک مسئلے پہ آپ نے قلم اٹھایا ہے اور واقعی یہ ہمارے معاشرے کا المیہ ہے کہ ہم اس اختلاط کے ان دیکھے جال میں پھنستے جا رہے ہیں۔ بعض اوقات ارادی اور بعض اوقات غیر ارادی طور پر۔ اور جب آنکھ کھلتی ہے تو پچھتاوے کے سوا کچھ نہیں رھتا۔ ہمارے پاس غوروفکر اور وجدان کی وہ قوت ہی نہیں کہ ہم قانون قدرت کا مشاہدہ کرسکیں۔ ہم میں سے ہر ایک جانتا ہے کہ کس عمل سے کیا رد عمل ہو گا مگر حیف اکژیوں محسوس ہوتا ہے کہ ہم کچھ سمجھنا ہی نہیں چا ہتے جبکہ رب کعبہ ہر ایک کو اپنی قدرت کی نشانیاں دکھاتے ہیں۔

  16. ہمت علی

    سلام
    اپ کی بات درست ہے
    میرا خیال ہے کہ پاکستانی معاشرہ اور یورپی معاشرہ میں 19 20 ہی کا فرق رہ گیا ہے

  17. dua

    احایث سے بھی ثابت ہے کہ جب ایک نامحرم مرد اور عورت تنہائی میں ملتے ہیں تو ان کے درمیان تیسرا شیطان ہوتا ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)