What Am I میں کیا ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

ميرا مقصد انسانی فرائض کے بارے میں اپنےعلم اور تجربہ کو نئی نسل تک پہنچانا ہے ۔ رَبِّ اشْرَحْ لِی صَدْرِی وَيَسِّرْ لِی أَمْرِی وَاحْلُلْ عُقْدة مِنْ لِسَانِی يَفْقَھُوا قَوْلِی



تختۂ کار

محفوظہ برائے February 18th, 2008

انتخابات ۔ میرا شیر جیتے ہی جیتے

مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 18 Feb 2008

اس وقت یعنی شام 6 بج کر 55 منٹ پر جبکہ باقی حلقوں کے جزوی نتائج کے مطابق کوئی 61 ووٹ کی سبقت سے آگے ہے تو کو 264 ووٹ کی سبقت سے آگے ہے ۔

ہمارے حلقہ این اے 48 میں مسلم لیگ نواز کا نمائندہ انجم عقیل5000 ووٹ کی سبقت سے آگے ہے ۔ ابھی سب پولنگ سٹیشنوں کا نتیجہ نہیں آیا

زمرہ : خبر | 9 تبصرے »

اُمیدوار قتل

مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 18 Feb 2008

گذشتہ کل لاہور کے حلقہ پی پی 154 میں مسلم لیگ نواز کا صوبائی اسمبلی کیلئے اُمیدوار آصف اشرف اپنے چچا اور دو ساتھیوں کے ساتھ اپنی کار میں جب اپنے پولنگ آفس کے قریب پہنچے تو اچانگ ایک سے زیادہ لوگوں ان کی کار پر فائرنگ کر کے فرار ہو گئے ۔ ڈرائیور سمیت پانچوں افراد کو شدید زخمی حالت میں ہسپتال پہنچایا گیا مگر جانبر نہ ہو سکے ۔ اِنّا لِلہِ وَ اِنّا اِلَیہِ رَاجِعُون ۔

زمرہ : خبر | 5 تبصرے »

ووٹ کس کو دیا

مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 18 Feb 2008

جب دوسری جنگِ عظیم کے بعد برطانیہ کی حالت پتلی ہو گئی تو مفکرین نے اس دور کے وزیرِ اعظم سر ونسٹن چرچل سے اپنی فکر بیان کی تو سر ونسٹن چرچل نے اُن سے پوچھا ” کیا ہماری عدالتیں عوام کو انصاف مہیا کر رہی ہیں ؟” سب نے متفقہ طور پر ہاں میں جواب دیا تو سر ونسٹن چرچل نے کہا “پھر کسی فکر کی ضرورت نہیں”۔

پاکستان مسلمانوں کیلئے بنایا گیا اور اب بھی مسلمانوں کا مُلک ہے ۔ اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی کا حُکم ہے
“اے ایمان والو ۔ تم انصاف پر مضبوطی کے ساتھ قائم رہنے والے اللہ کے لئے گواہی دینے والے ہو جاؤ خواہ [گواہی] خود تمہارے اپنے یا والدین یا رشتہ داروں کے ہی خلاف ہو، اگرچہ [جس کے خلاف گواہی ہو] مال دار ہے یا محتاج ۔ اللہ ان دونوں کا زیادہ خیر خواہ ہے۔ سو تم خواہشِ نفس کی پیروی نہ کیا کرو کہ عدل سے ہٹ جاؤ اور اگر تم پیچ دار بات کرو گے یا پہلو تہی کرو گے تو بیشک اللہ ان سب کاموں سے جو تم کر رہے ہو خبردار ہے”۔ سورت ۔ 4 ۔ النساء ۔ آیت ۔ 135

ہمارے ملک کے آئین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے 3 نومبر 2007ء کو مُلک کی اعلٰی عدالتوں کے 60 معزّز جج صاحبان کو عوام کو انصاف مہیّا کرنے کی پاداش میں بر طرف کر کے آج تک ان کی رہائش گاہوں پر قید رکھا گیا ہے ۔ اے پی ڈی ایم نے تو انتخابات سے قطع تعلق کیا ہوا ہے جو میرے خیال میں مسئلے کا حل نہیں ہے ۔ میدان میں موجود سیاسی جماعتوں میں ایک جماعت ہے جو 60 معزّز جج صاحبان کی فوری بحالی اور عدلیہ کی انتظامیہ سے آزادی کی علمبدار ہے ۔ وہ ہے مسلم لیگ نواز ۔

اسلئے میرے خاندان اور میرے بہن بھائیوں کے پورے خاندان 17 افراد نے اسلام آباد ۔ راولپنڈی ۔ واہ اور لاہور میں شیر پر ٹھپہ لگایا ہے ۔ اس بار حکومت نے مُلک سے باہر پاکستانیوں کے ووٹ ڈالنے کا کوئی بندوبست نہیں کیا اسلئے ہم بہن بھائیوں کے خاندانوں کے مُلک سے باہر 16 ووٹ ضائع ہو گئے ہیں

زمرہ : آپ بيتی, روز و شب, معاشرہ | 8 تبصرے »