What Am I میں کیا ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

میرا بنیادی مقصد انسانی فرائض کے بارے میں اپنےعلم اور تجربہ کو نئی نسل تک پہنچانا ہے ۔ ۔ ۔ رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي وَاحْلُلْ عُقْدَةِ مِّن لِّسَانِي يَفْقَھوا قَوْلِي



تختۂ کار

محفوظہ برائے February, 2008

مِٹا سکے تو مِٹا لے دنیا

مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 27 Feb 2008

مِٹا سکے تو مِٹا لے دنیا ۔ بنانے والا بنا ہی دے گا ۔

پیر 18 فروری 2008 کو سب نے اللہ کی قدرت کی ایک ہلکی سی جھلک دیکھی ۔ پرویز مشرف اور اس کے حواریوں کی سر توڑ کوششوں کے باوجود اللہ سُبحانُہُ بعددِ خلقِہِ نے آمریت مخالف قوتوں کو لا سامنے کھڑا کیا ۔

آج اللہ کے دِین اور اللہ کے بندوں کو مِٹانے کی جو کوششیں ہو رہی ہیں بہت ہیں اور ہر طرف سے ہیں لیکن یہ کوئی پہلا موقع نہیں بلکہ ازل سے شیطان کے پیروکاروں کا وطیرہ ہے اور جب بھی دِیندار اللہ کے احکامات کو پسِ پشت ڈال کر دنیا کی ظاہری چکاچوند میں گم ہونے لگے اہل شیطان نے دین کو مٹانے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا ۔

شاعرِ مشرق علامہ اقبال جو کہ ایک فلسفی بھی تھے نے یونہی نہیں فرمایا

نورِ خدا ہے کفر کی حرکت پہ خندہ زن
پھونکوں سے یہ چراغ بُجھایا نہ جائے گا

تاریخ متذکرہ بالا خیال کی مثبت پُشت پناہی کرتی ہے ۔ اللہ کا دین کبھی مِٹ نہیں سکتا اور اللہ کے بندے جس دن مِٹ گئے میرا یقین ہے کہ اس کے بعد جلد ہی قیامت برپا ہو جائے گی اور یومِ حساب قائم ہو جائے گا ۔

جب روس نے مشرقی یورپ میں مسلم آبادی والی ریاستوں پر قبضہ کیا تو تمام علماء کو شہید کردیا اور تمام مساجد ختم کر دی تھیں ۔ مسلمانوں کا لباس پہننا اور عربی نام رکھنا ممنوع قرار دے دیا گیا ۔ جس کے متعلق معلوم ہوتا کہ مسلمان ہے اسے قتل کر دیا جاتا یا بقیہ عمر کیلئے قید خانہ میں ڈال دیا جاتا ۔ کامل مُخبری اور سخت گیری کے نتیجہ میں روسی حکومت کے اہلکار مطمعن تھے کہ مسلمان اور اسلام دونوں ختم ہو گئے ۔

اس سلسلہ میں ایک واقعہ ماضی قریب کا ہے ۔ آج سے تین دہائیاں قبل روسی اشتراکی ممالک کا اتحاد [U,S,S,R] دنیا کی ایک بہت بڑی طاقت تھی جسے توڑنے کا تمغہ آج کی بڑی طاقت ریاستہائے متحدہ امریکا [U.S.A] خود اپنے سینے پر سجاتا ہے ۔ درست کہ امریکا نے بھی اپنی سی کوشش کی لیکن بر سرِ پیکار اور در پردہ بھی مسلمان ہی تھے جنہوں نے اس برفانی ریچھ کو واپس برفوں تک ہی محدود کر دیا ۔ افغانستان میں مسلمانوں کے اعلانِ جہاد سے تو سب واقف ہیں لیکن مشرقی یورپ کی ریاستوں میں اسلام کے شیدائی یکدم کہاں سے آ گئے اس سے بہت ہی کم لوگ واقف ہیں ۔

میرے ایک دوست محمد اختر صاحب الیکٹریکل انجیئر تھے ۔ وہ 1974ء میں چیکوسلواکیا ایک خاص قسم کی تربیّت کیلئے گئے ۔ ان کے ساتھ جو واقع پیش آیا وہ اُنہی کی زبانی نقل کر رہا ہوں ۔

“مجھے اور ایک نوجوان انجنیئر کو 1974ء میں تربیت کیلئے چیکوسلوکیا کی ایک فیکٹری میں بھیجا گیا ۔ اس فیکٹری میں ہم دو ہی پاکستانی تھے اور ہمارے خیال کے مطابق صرف ہم دو ہی مسلمان تھے ۔ دوپہر کا کھانا فیکٹری ہی میں ہوتا تھا ۔ ہم دونوں کیفیٹیریا کے ایک کونے میں ایک میز پر بیٹھتے تھے ۔ کیفیٹیریا میں بہت سے مقامی نوجوان ہوتے تھے ۔ ایک ماہ سے زیادہ گذر جانے کے بعد ایک دن میرا ساتھی بیمار ہونے کی وجہ سے فیکٹری نہ جا سکا ۔ اس دن میں نے کیفیٹیریا میں ایک مقامی نوجوان کو عجیب حرکات کرتے دیکھا ۔ وہ اِدھر اُدھر دیکھتا ۔ پھر اچانک میری طرف دیکھتا ۔ پھر اِدھر اُدھر دیکھتا اور پھر اپنے سامنے کی طرف دیکھنے لگ جاتا ۔ ایسا اُس نے کئی بار کیا ۔

دوسرے دن پھر میرا ساتھی فیکٹری نہ گیا ۔ اس دن بھی کیفیٹیریا میں وہ نوجوان اُسی میز کے ساتھ بیٹھا تھا اور تین بار وہی حرکت کرنے کے بعد وہ تیزی سے میرے پاس آیا اور اشارے سے میرے پاس بیٹھنے کی اجازت مانگی ۔ میں نے مسکرا کر اُسے بیٹھنے کا اشارہ کیا ۔ بیٹھنے کے بعد اس نے ادھر اُدھر دیکھا اور پھر میرے کان میں کہا “لا اِلٰہَ “۔ میں سمجھا کہ پوچھ رہا ہے ” تم مسلمان ہو ؟” میں نے ہاں میں سر ہلایا تو اس نے مدھم آواز میں کہا “الحمدللہ” ۔ پھر اس نے اشاروں ہی سے پوچھا “تمہارا ساتھی بھی ۔ لا اِلٰہَ “۔ میں نے ہاں میں سر ہلایا تو اس نے نفی میں سر ہلا کر مجھے اشارے سے سمجھایا کہ وہ شراب پیتا ہے ۔ اس کے بعد کے دنوں میں جب بھی کیفیٹیریا میں زیرِ تربیت لوگوں کے علاوہ کوئی نہ ہوتا تو وہ نوجوان میرے پاس آ کر بیٹھ جاتا اور مدھم آواز میں قرآن شریف کی تلاوت کرتا رہتا ۔ ایک دن اس نے مجھے پوری سورت بقرہ سنادی ۔ ایک دن میں نے اشاروں میں اس سے پوچھا کہ “اس شہر میں تم جیسے کتنے ہیں ؟” تو اس نے انگلیوں سے سمجھایا کہ 1200 ۔ میں نے پوچھا “تم کو قرآن پڑھنا کس نے سیکھایا ہے ؟” اس نے سمجھایا کہ ایک بوڑھا استاد ہے ۔ میں نے پوچھا کہ “تم کہاں قرآن شریف پڑھتے ہو ؟” تو اس نے سمجھایا کہ زیرَ زمین اور کسی کو نہیں معلوم ۔ اگر معلوم ہو جائے تو ہمیں جان سے مار دیا جائے گا ۔”

محمد اختر صاحب وفات پاچکے ہیں ۔ ذہین ۔ شریف النفس اور باعمل مسلمان تھے ۔ اُنہوں نے 1947ء میں ہندو اور سکھ طلباء کے مقابلہ میں انجنئرنگ کالج لاہور میں داخلہ لیا اور وہاں سے بی ایس سی الیکٹریکل انجنیئرنگ پاس کی ۔ اللہ انہیں جنت الفردوس میں عمدہ مقام مرحمت فرمائے ۔

زمرہ : تاریخ, روز و شب | 8 تبصرے »

پٹرول مہنگا ہو تو ؟ ؟ ؟

مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 24 Feb 2008

 

سمجھدار قوم مہنگائی سے بچنے کیلئے متبادل ذرائع اپناتی ہیں ۔
ہم ایسا کیوں نہیں کرتے ؟
کیا پنجابی کا یہ مقولہ ہماری قوم کیلئے ہے ؟
پلّے نئیں دھیلہ تے کردی میلہ میلہ

زمرہ : روز و شب, مزاح | 3 تبصرے »

یو ٹیوب پر پابندی ۔ youtube blocked

مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 22 Feb 2008

میرے ڈی ایس ایل آپریٹر نے مجھے مطلع کیا ہے کہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے یو ٹیوب پر پابندی لگا دی ہے اس لئے پاکستان میں اب یو ٹیوب نہیں دیکھا جا سکتا ۔ متعلقہ ای میل نقل ہے ۔ قابلِ اعتراض وڈیو تو یو ٹیوب پر عرصہ سے ہیں ۔ میرا خیال ہے کہ جو  وڈیو 18 فروری 2008ء کے انتخابات میں دھاندلی کی یو ٹیوب پر لگائی گئی ہیں یہ کاروائی اس وجہ سے ہوئی ہے ۔

Dear Valued Customer:

Pakistan Telecommunication Authority (www.pta.gov.pk)
has directed all ISPs of the country to block access
to www.youtube.com web site for containing
blasphemous web content/movies.

The site would remain blocked till further orders from
PTA. Meanwhile, Internet users can write to
youtube.com to remove the objectionable web
content/movies because this removal would enable
the authorities to order un-blocking of this web
site.

We’re sorry for any inconvenience.

Best Regards

Manager
Technical Assistance Center

زمرہ : خبر | 10 تبصرے »

منصوبہ بندی کامیاب بھی اور ناکام بھی

مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 21 Feb 2008

اب تک بی بی سی اردو اور کچھ پاکستانی نجی ٹی وی کے نمائندوں کی رپورٹوں اور بلاگرز کے ذاتی تجربہ کی صورت میں بہت کچھ سامنے آچکا ہے ۔ پھر بھی کچھ لوگوں کا 18 فروری کے انتخابات کو شفاف کہنا حیران کُن ہے ۔ انتخابات میں جس قدر بھی دھاندلی ممکن تھی وہ ہوئی ہے ۔

انتخابات سے پہلے دھاندلی

قاف لیگ سال بھر حکومتی سطح پر حکومتی اہلکاروں اور ذرائع کو استعمال کر کے قومی دولت بے دریغ بہاتے ہوئے انتخابی مُہِم چلاتی رہی ۔ اخباروں میں بڑے بڑے اشتہار چھپوائے جاتے رہے اور ٹی وی چینلز پر لمبے لمبے اشتہار دکھائے جاتے رہے ۔ پنجاب کے ہر شہر میں بڑے بڑے جلسے کئے گئے ۔ تمام سڑکوں کو قاف لیگ کے بینرز سے پُر کر دیا گیا ۔

ملک کے قانون کے مطابق کوئی فوجی کسی سیاسی جلسہ میں شریک نہیں ہو سکتا اور نہ سیاسی تقریر کر سکتا ہے مگر قانوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرتے ہوئے متذکرہ بالا انتخابی جلسوں میں جنرل پرویز مشرف شامل ہو ئے اور سیاسی تقریریں بھی کیں ۔

آئین کے مطابق ملک کا صدر سب کا صدر ہوتا ہے اور کسی ایک سیاسی جماعت کی حمائت نہیں کر سکتا مگر پرویز مشرف متذکرہ بالا سیاسی انتخابی جلسوں میں آئین کی دھجیاں اُڑاتے ہوئے سامعین کو قاف لیگ کو ووٹ دینے کی تلقین کرتے رہے ۔

نواز شریف 10 ستمبر 2007ء کو پاکستان پہنچا تو اسے زبردستی سعودی عرب بھیج دیا گیا اور نومبر کے آخر اس دن آنے دیا گیا جو انتخابات کیلئے نامزدگی کا آخری دن تھا ۔ اس طرح نواز شریف کو اچھے اُمیدوار چننے سے محروم رکھا گیا ۔ یہ بھی انتخابی دھاندلی تھی ۔

پنجاب میں کے 34 میں سے 22 اضلاع میں مقامی حکومتوں نے مسلم لیگ قاف کی کامیابی کے لئے دن رات کام کیا اور قومی دولت استعمال کر کے قاف لیگ کی انتخابی مہم چلائی ۔ ان 22 میں سے کم از کم 14 اضلاع ایسے تھے جہاں مقامی ناظمین کے رشتہ دار قاف لیگ کے ٹکٹ پر انتخابات میں حصہ لے رہے تھے۔

جو لوگ اپنے علاقوں میں نہیں جا سکتے تھے انہوں نے اپنا ووٹ ڈاک کے ذریہ بھیجنا تھا ۔ بجائے اسکے کہ یہ لوگ تخلیے میں ٹھپہ لگاتے بڑے افسران ان کو اپنے دفتر میں بُلا بُلا کر اپنے سامنے سائیکل پر ٹھپہ لگواتے ۔ بیرونِ ملک پاکستانیوں سے قاف لیگ کو ووٹ ملنے کا یقین نہ تھا اسلئے اُنہیں بیلٹ پیپر نہیں بھیجے گئے ۔ انتخابات پر مامور عملہ کے بیلٹ پیپر انہیں دینے کی بجائے حکومتی وڈیروں نے خود ہی ڈال دیئے ۔

منصوبہ بندی کے تحت پورے پاکستان میں ایسے حالات پیدا کئے گئے کہ لوگ نہ تو حکومت مخالف سیاسی جماعتوں کے جلسوں میں جائیں اور نہ ووٹ دینے کیلئے گھروں سے باہر نکلیں ۔ کمر توڑ مہنگائی ۔ آٹا اور گھی کا بحران ۔ دھماکے اور بجلی کا بار بار بند ہونا ۔

انتخابات کے دن دھاندلی

پورے پاکستان میں ووٹ ڈالنے کے اکثر مقامات جو پچھلے کئی انتخابات سے مقرر تھے انہیں بدل دیا گیا اور اسے مشتہر نہ کیا گیا نہ ہی حکومتی پارٹی کے کارندوں کے کسی اور سیاسی جماعت کو اس کی خبر دی گئی جس کی وجہ سے کئی لوگ خوار ہو کر بغیر ووٹ ڈالے گھروں کو چلے گئے ۔ اس سلسلہ میں میں نے بھی 2 کلو میٹر پیدل سیر کی ۔

کئی ووٹ ڈالنے کے مقامات پر ووٹروں کی فہرستیں غلط پہنچیں اور کئی پر فہرستیں پہنچی ہی نہیں ۔ کئی جگہوں سے کوئی شخص بیلٹ پیپر لے کر بھاگ گیا ۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسے مقامات پراور ان بیلٹ پیپرز پر ووٹ کس نے ڈالے ؟

کراچی میں ایم کیو ایم نے داداگیری کا آزادانہ استعمال کر کے قومی اسمبلی کی 19 نشستیں حاصل کیں ۔ زیادہ تر پولنگ سٹیشنوں پر کسی دوسری جماعت کے پولنگ ایجنٹ کو آنے نہ دیا گیا ۔ ٹھپہ خفیہ طور پر لگانا ہوتا ہے لیکن ایم کیو ایم کا نمائندہ وہاں کھڑا ہو کر دیکھتا رہتا کہ ووٹر نے ٹھپہ کہاں لگایا ۔ کون ایم کیو ایم کے خلاف ووٹ ڈال کر اپنی جان خطرہ میں ڈال سکتا ہے ؟ مرزا اختیار بیگ کی پریس کانفرنس اس کا صرف ادنٰی نمونہ ہے ۔

لاہور میں کئی علاقوں میں قاف کے مخالفوں کو ووٹ ہی نہ ڈالنے دیئے گئے ۔ کئی جگہوں سے بیلٹ پیپر یا بیلٹ بکس غائب کر دیئے گئے ۔ کئی ووٹروں کو یہ کہہ کر واپس بھیج دیا گیا کہ آپ کا ووٹ ہی نہیں ۔

جن علاقوں میں مسلم لیگ نواز یا پیپلز پارٹی کا بہت زور تھا حکومتی کارسازوں کو دھاندلی کا موقع نہ ملا یا جرأت نہ ہوئی جس کے نتیجہ میں راولپنڈی میں قاف کا ضلعی ناظم اپنے حلقے ہی میں مسلم لیگ نواز کے اُمیدوار سے شکست کھا گیا ۔ مضافات میں یا جہاں چھوٹی چھٹی آبادیوں کو ملا کر ایک حلقہ بنایا گیا تھا وہاں حکومتی تحصیل ناظمین ۔ پولیس اور پٹواریوں نے حکومتی اُمیدواروں کی کامیابی میں بڑا مگر گھناؤنا کردار ادا کیا ۔

پولیس اور پٹواری کا ایک کارنامہ اٹک سے پرویز الٰہی کا جیتنا ہے ۔ 18 فروری کو رات گئے تک اٹک شہر اور شہر سے ملحقہ علاقوں کا نتیجہ آ چکا تھا صرف کچھ مضافاتی علاقے رہ گئے تھے ۔ ان کے نتیجہ میں مسلم لیگ نواز کا اُمیدوار سہیل ساڑھے پانچ ہزار کی برتری سے جیت رہا تھا ۔ صبح بتایا گیا کہ پرویز الٰہی تقریباً دس ہزار کی برتری سے جیت گیا ہے ۔

لاہور میں پرویز الٰہی کے بیٹے مُونس الٰہی کے مقابلہ میں 18 فروی کو رات گئے تک مسلم لیگ نواز کا اُمیدوار بھاری اکثریت سے جیت رہا تھا ۔ دوسرے دن معلوم ہوا کہ مونس الٰہی جیت گیا ہے ۔ اس سلسلہ میں لوگوں کا کہنا ہے کہ کہیں سے ووٹوں سے بھرے ڈبے لائے گئے ۔

اس کی راولپنڈی سے مثال ہے شفیق خان کا صوبائی انتخاب میں اس علاقہ سے جیتنا جس کا تحصیل ناظم اس کا بھائی ہے ۔ اس علاقے کو شامل کرتے ہوئے بڑے قومی اسمبلی کے حلقہ میں انہی کا بھائی غلام سرور خان جو پچھلی حکومت میں وزیر تھا مسلم لیگ نواز کے چوہدری نثار علی سے ہار گیا ۔

زمرہ : تجزیہ | 4 تبصرے »

انتخابات ۔ میرا شیر جیتے ہی جیتے

مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 18 Feb 2008

اس وقت یعنی شام 6 بج کر 55 منٹ پر جبکہ باقی حلقوں کے جزوی نتائج کے مطابق کوئی 61 ووٹ کی سبقت سے آگے ہے تو کو 264 ووٹ کی سبقت سے آگے ہے ۔

ہمارے حلقہ این اے 48 میں مسلم لیگ نواز کا نمائندہ انجم عقیل5000 ووٹ کی سبقت سے آگے ہے ۔ ابھی سب پولنگ سٹیشنوں کا نتیجہ نہیں آیا

زمرہ : خبر | 9 تبصرے »

اُمیدوار قتل

مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 18 Feb 2008

گذشتہ کل لاہور کے حلقہ پی پی 154 میں مسلم لیگ نواز کا صوبائی اسمبلی کیلئے اُمیدوار آصف اشرف اپنے چچا اور دو ساتھیوں کے ساتھ اپنی کار میں جب اپنے پولنگ آفس کے قریب پہنچے تو اچانگ ایک سے زیادہ لوگوں ان کی کار پر فائرنگ کر کے فرار ہو گئے ۔ ڈرائیور سمیت پانچوں افراد کو شدید زخمی حالت میں ہسپتال پہنچایا گیا مگر جانبر نہ ہو سکے ۔ اِنّا لِلہِ وَ اِنّا اِلَیہِ رَاجِعُون ۔

زمرہ : خبر | 5 تبصرے »

ووٹ کس کو دیا

مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 18 Feb 2008

جب دوسری جنگِ عظیم کے بعد برطانیہ کی حالت پتلی ہو گئی تو مفکرین نے اس دور کے وزیرِ اعظم سر ونسٹن چرچل سے اپنی فکر بیان کی تو سر ونسٹن چرچل نے اُن سے پوچھا ” کیا ہماری عدالتیں عوام کو انصاف مہیا کر رہی ہیں ؟” سب نے متفقہ طور پر ہاں میں جواب دیا تو ور ونسٹن چرچل نے کہا “پھر کسی فکر کی ضرورت نہیں ۔

پاکستان مسلمانوں کیلئے بنایا گیا اور اب بھی مسلمانوں کا مُلک ہے ۔ اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی کا حُکم ہے ” اے ایمان والو! تم انصاف پر مضبوطی کے ساتھ قائم رہنے والے اللہ کے لئے گواہی دینے والے ہو جاؤ خواہ [گواہی] خود تمہارے اپنے یا والدین یا رشتہ داروں کے ہی خلاف ہو، اگرچہ [جس کے خلاف گواہی ہو] مال دار ہے یا محتاج ۔ اللہ ان دونوں کا زیادہ خیر خواہ ہے۔ سو تم خواہشِ نفس کی پیروی نہ کیا کرو کہ عدل سے ہٹ جاؤ اور اگر تم پیچ دار بات کرو گے یا پہلو تہی کرو گے تو بیشک اللہ ان سب کاموں سے جو تم کر رہے ہو خبردار ہے “۔ سورت ۔ 4 النساء ۔ آیت ۔ 135

ہمارے ملک کے آئین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے 3 نومبر 2007ء کو مُلک کی اعلٰی عدالتوں کے 60 معزّز جج صاحبان کو عوام کو انصاف مہیّا کرنے کی پاداش میں بر طرف کر کے آج تک ان کی رہائش گاہوں پر قید رکھا گیا ہے ۔ اے پی ڈی ایم نے تو انتخابات سے قطع تعلق کیا ہوا ہے جو میرے خیال میں مسئلے کا حل نہیں ہے ۔ میدان میں موجود سیاسی جماعتوں میں ایک جماعت ہے جو 60 معزّز جج صاحبان کی فوری بحالی اور عدلیہ کی انتظامیہ سے آزادی کی علمبدار ہے ۔ وہ ہے مسلم لیگ نواز ۔

اسلئے میرے خاندان اور میرے بہن بھائیوں کے پورے خاندان 17 افراد نے اسلام آباد ۔ راولپنڈی ۔ واہ اور لاہور میں شیر پر ٹھپہ لگایا ہے نے شیر پر پر ٹھپّہ لگایا ہے ۔ اس بار حکومت نے مُلک سے باہر پاکستانیوں کے ووٹ ڈالنے کا کوئی بندوبست نہیں کیا اسکئے ہم بہن بھائیوں کے خاندانوں کے مُلک سے باہر 16 ووٹ ضائع ہو گئے ہیں

زمرہ : آپ بيتی, روز و شب, معاشرہ | 8 تبصرے »

انتخابات کے دن اور اسکے بعد ؟ ؟ ؟

مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 17 Feb 2008

نعمان صاحب نے مشورہ دیا ہے کہ صبح اگر جلدی ووٹ ڈال دیا جائے تو بہت آسانی رہتی ہے اور ووٹر اطمینان سے اپنا ووٹ ڈال لیتا ہے ۔ دوپہر تک عموما رش بھی بڑھتا جاتا ہے اور سیاسی کارکنوں کی تعداد بھی بڑھتی جاتی ہے جو ووٹر کو آخری وقت تک لبھانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کسی کسی پولنگ اسٹیشن پر بدنظمی یا لڑائی جھگڑا بھی ہوجائے تو اس سے بھی بچت ہوجاتی ہے ۔

ہمارا خاندان ہمیشہ سے صبح پولنگ شروع ہوتے ہی پولنگ سٹیشن پہنچ جاتا رہا ہے اور پندرہ بیس منٹ میں ہم ووٹ ڈال کر گھر کی راہ لیتے رہے ہیں ۔

ووٹ صرف اُس کو دیجئے جس کے صحیح کام نہ کرنے پر آپ اُس کا محاسبہ کر سکیں

ایسے شخص کو ووٹ نہ دیجئے جو منتخب ہو جانے کے بعد قومی دولت یعنی آپ سے مختلف ذرائع سے وصول کیا ہوا ٹیکس ذاتی یا بیکار کاموں میں استعمال کرے

ووٹ اُس کو دیجئے جس کے منتخب ہو جانے کے بعد آپ اُس سے ملاقات کر کے قومی مسائل پر تبادلہ خیال کر سکیں

ایسے شخص کو ووٹ نہ دیجئے کہ منتخب ہو جانے کے بعد اس کے پاس آپ کو ملنے کا وقت ہی نہ ہو

زمرہ : ذمہ دارياں, گذارش | تبصرہ کرنے میں پہل کیجیے »

انتخابات سے پہلے ؟

مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 16 Feb 2008

انتخابات کھیل تماشہ نہیں اور نہ ہی چھٹی آرام کرنے کیلئے دی جاتی ہے ۔ ملک کے 15 کروڑ عوام جن میں بوڑھے ۔ جوان ۔ بچے ۔ عورتیں ۔ لڑکیاں ۔ مرد اور لڑکے سب شامل ہیں کی قسمت کا اختیار کسی کے ہاتھ میں دینا ہے ۔ کویا نہ صرف اپنے ماں ۔ باپ ۔ بہن ۔ بھائی ۔ خاوند یا بیوی ۔ بیٹا ۔ بیٹی بلکہ خود اپنی گردن بھی کسی کے ہاتھ میں دینا ہے ۔ اسلئے یاد رکھیئے کہ :

خواہ کتنے ہی لاغر یا بیمار ہوں آپ ووٹ ڈالنے ضرور جائیں

تمام رنجشیں ۔ تمام دوستیاں ۔ تمام لالچ ۔ تمام اثر و رسوخ بھُلا کر ووٹ اس کو دیں جس کا ماضی سب اُمیدواروں میں سے زیادہ دیانت اور بے لوث عوامی خدمت میں گذرا ہو

ووٹ ڈالنے کیلئے خواہ کوئی بھی لے کر جائے ووٹ اس کو دیں جس کا ماضی سب اُمیدواروں میں سے زیادہ دیانت اور بے لوث عوامی خدمت میں گذرا ہو

کسی کو نہ بتائیں کہ آپ ووٹ کس کو دیں گے ۔ کوئی پوچھے تو جواب میں کہیں ” آپ بالکل فکر نہ کریں “

اپنے اہلِ خاندان اور دوسرے عزیز و اقارب کو بھی اسی پر آمادہ کریں

زمرہ : ذمہ دارياں, گذارش | 3 تبصرے »

کچھ بات تنزل کی

مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 15 Feb 2008

میرے ایک نئے قاری عدنان زاہد صاحب نے فرمائش کی کہ میں 1965ء اور 1971ء کے بارے کچھ لکھوں گویا اپنے بوڑھے ہونے کا حق ادا کروں ۔ 1965ء اور 1971ء کی جنگوں کے دوران میں نے عوام ردِ عمل میں بہت فرق دیکھا لیکن اب تو دنیا ہی بدل چکی ہے ۔ اس کا صحیح اندازہ لگانے کیلئے دو پرانے ذاتی تجربے جن پر جوان نسل کو شاید یقین نہ آئے ۔

میں 1957ء میں گرمیوں کی چھٹیاں گذارنے کیلئے پلندری ۔ آزاد جموں کشمیر گیا ۔ وہاں میری واقفیت پنجاب رجمنٹ کے ایک کمپنی کمانڈر سے ہو گئی ۔ وہ پلندری کوٹلی روڈ پر کسی جگہ تعینات تھا مجھے پہاڑوں کی سیر کا شوق تھا جس کا میں نے اظہار کیا ۔ اس نے کہا کہ کسی دن ہماری کوئی جیپ پلندری سے خالی جا رہی ہوئی تو وہ مجھے اس کے پاس لیجائے گی ۔ کچھ دن بعد صبح سویرے جیپ آئی اور میں چلا گیا ۔ وہاں پہاڑوں پر پھرتے اور شکار کرتے رہے ۔ شام کو جیپ نے پلندری سے راشن لینے جانا تھا ۔ اس پر میری واپسی تھی لیکن پلندری سے لاسلکیہ [wireless] پیغام آیا کہ راوپنڈی سے راشن نہیں آیا چنانچہ جیپ نہ گئی اور مجھے وہیں خیمے میں پتھریلی زمین پر رات گذارنا پڑی ۔ دوسرے دن جیپ گئی اور میں بھی ۔ [آج یہ حال ہے کہ کمپنی کمانڈر کی گاڑیاں ان کے مہمانوں کو ملتان سے راولپنڈی اور مری تک کی سیر کراتی ہیں]

صحیح یاد نہیں 1964ء یا 1965ء کا واقعہ ہے میں ان دنوں ایک پراجیکٹ میں چیئرمین پاکستان آرڈننس فیکٹریز ۔ میجر جنرل اُمراؤ خان کے سیکرٹری کے فرائض انجام دے رہا تھا ۔ ایک اجلاس میں کوئی جنرل صاحب جی ایچ کیو سے آئے ہوئے تھے ۔ اجلاس کے جتم ہونے کے بعد بھی بیٹھے رہے اور جنرل اُمراؤ خان سے گویا ہوئے “اپنے بعد ہمیں بھی اس شرف کا موقع دیجئے گا”۔ جب وہ چلے گئے تو جنرل اُمراؤ خان مجھ سے مخاطب ہوئے “دیکھا ۔ جنرل صاحب مجھ سے سِنیئر ہوتے ہوئے بھی کیا کہہ رہے تھے ؟” میں نے جواب دیا “جی ۔ مجھے سمجھ نہیں آئی”۔ تو کہنے لگے “ان بیچاروں کو کھُلی جیپوں پر سفر کرنا ہوتا ہے جن کے شاک ابزاربر نہیں ہوتے ۔ مجھے یہاں آرامدہ کار ملی ہوئی ہے ۔ اس کی طرف اشارہ کر رہے تھے”۔ [ آج ایک ایک جنرل کے پاس پانچ پانچ اعلٰی قسم کی گاڑیاں ہیں ۔ دو صاحب بہادر کے پاس ہوتی ہیں ۔ ایک میں بیگم صاحبہ گھومتی ہیں ۔ ایک میں بچے اور ایک گھٹیا والی میں نوکر ۔ اولالذکر چار گاڑیاں ایئرکنڈیشنڈ ہوتے ہیں]

جنگ 1965ء اور جنگ 1971ء کی مکمل تفصیل سے مضمون بہت طویل اور بوجھل ہو جائیگا ۔ اسلئے میں دونوں کے دوران صرف اپنی معلومات اور تجربہ کے مطابق عوام ۔ فوج اور حکومت کا کردار بہت مختصر بیان کروں گا ۔

جنگ 1965ء
اچانک 5 اور 6 ستمبر کی آدھی رات کے بعد بھارتی فوج نے واہگہ سرحد عبور کر کے لاہور کی طرف پیش قدمی شروع کر دی ۔ 7 ستمبر کو سیٹیلائیٹ ٹاؤن راولپنڈی میں یہ حال تھا کہ صاحبِ حیثیت لوگ مختلف اطراف میں سفر پر روانہ ہونا شروع ہو گئے تھے ۔ شاید ان کی منزل اپنے آبائی شہر ۔ قصبے یا گاؤں تھے ۔ بازار سے اشیاء خوردنی غائب ہونا شروع ہو گئیں ۔ لاہور میں باٹا پور اور جلو جو واہگہ سے نزدیک تھے وہاں کے لوگوں کو پاکستانی فوج نے نکال لیا ۔ وقت بہت کم تھا اسلئے سب صرف اپنی جانیں لے کر نکلے ۔ بدقماش لوگوں نے ان کے گھر لوٹنے شروع کر دیئے ۔

ان دنوں امیر محمد خان نواب کالا باغ مغربی پاکستان کے گورنر تھے ۔8 ستمبر کوانہوں نے بڑے کارخانہ داروں اور تاجروں کو گورنر ہاؤس بلا کر صرف اتنا کہا “اپنے مال منڈیوں میں پھینک دو یا پھر اپنی خیر مناؤ”۔ 9 ستمبر کو تمام دکانیں کھُلی تھیں اور ہر چیز پہلے سے ارزاں مل رہی تھی ۔ کمال تو یہ ہے کہ ہمیشہ دودھ میں پانی ملا کر بیچنے والا بھی خالص دودھ بیچنے لگ گیا تھا ۔ باٹا پور اور جلو کے مکانوں سے جو سامان چوری ہوا تھا وہ اگلی رات کے دوران واپس پہنچ گیا ۔

حکومتی کارندے عام آدمی بن گئے یعنی انہیں ملنا آسان ہو گیا ۔ محاذ پر فوجیوں نے بھارتی یلغار کا بے جگری سے مقابلہ کیا اور ان کی پیش قدمی روک دی ۔ 9 ستمبر کو لاہور شہر میں خبر پھیلی کہ فوجی محاذ پر بغیر کھائے پیئے لڑ رہے ہیں ۔ لاہوریئے پلاؤ اور مرغ قورمے کی دیگیں پکوا کر محاظ پر پہنچنے شروع ہو گئے ۔ پوری قوم ایک ہو گئی ۔ جہاں سے فوجی ٹرک گذرتے لوگ ان کی آؤ بھگت کرتے ۔ پاکستان آرڈننس فیکٹریز میں کیا افسر کیا مزدور دن رات کام کرتے رہے ۔ میں سب سیکٹر کمانڈر تھا ۔ پہلے چار دن اور تین راتیں میں بالکل نہ سویا تھا ۔ اللہ جانے میں کیسے کام کرتا رہا ۔ سب کا یہی جذبہ تھا ۔ رات کو میں اپنے علاقہ کے کئی لوگوں کو زبردستی گھر بھیجتا ۔ وہ مجھ سے جھگڑتے کہ صاحب اس ہمارے ملک کو ہماری ضرورت ہے ۔ ہم کام کرتے مر نہیں جائیں گے ۔ ہوائی حملہ کا سائرن بجتا تو سب اپنا کام کرتے رہتے حالانکہ کام چھوڑ کر خندقوں میں پناہ لینے کی ہدائت تھی ۔

ہمارے ملک کے صحافیوں اور شاعروں نے اپنی کی سی حُب الوطنی میں ایسی فرضی کہانیاں لکھیں اور ایسے سُلا دینے والے نغمے لکھے جنہوں نے قوم کو افسانوی دنیا میں پہنچا دیا ۔ سینے سے بم باندھ کر ٹینکوں کے آگے لیٹنے ۔ سبز کُرتے والے کا بم کو ہاتھ سے پرے دھکیلنا اور گانا “جنگ کھیڈ نئیں ہوندی زنانیاں دی” اس کی مثالیں ہیں ۔

جنگ 1971ء
اس جنگ تک لوگ بدل چکے تھے ۔ فرائض کی کوئی بات نہ کرتا اور حقوق پر بہت زور تھا ۔ ورکرز کو کام کرنے کیلئے کہتے تو جواب ملتا “افسر کام کریں جن کے پاس دولت ہے ۔ ہم غریبوں کو کیوں مروانا چاہتے ہیں ۔ ہمارے بچے پیچھے بھوکے مریں گے” ۔ یہ سب اس پروپیگنڈا کا نتیجہ تھا جو پیپلز پارٹی نے الیکشن جیتنے کیلئے استعمال کیا تھا ۔ جنگ کے دوران ایک اہم دفاعی کام کے سلسلہ میں مجھے راولپنڈی سے کراچی جانا پڑا ۔ جب میں کراچی پہنچا تو کراچی کینٹ سٹیشن پر پنجاب جانے والی ٹرین خالص کراچی والے مردوں عورتوں اور بچوں سے کھچا کھچ بھری کھڑی تھی اور سارے پلیٹ فارم پر مزید سینکڑوں مرد عورتیں اور بچے اگلی ٹرین کے انتظار میں بیٹھے تھے ۔ میں جب ریلوے سٹیشن سے باہر نکل کر اپنے دفتر کی گاڑی ڈھونڈ رہا تھا تو ایک صاحب نے پوچھا “صاحب ۔ آپ آ رہے ہیں یا کہ جا رہے ہیں ؟” میں نے جواب دیا “جناب ۔ میں پنجاب سے آیا ہوں”۔ اس پر وہ صاحب حیران ہو کر یہ گردان کرتے چلے گئے “کمال ہے ۔ سب جا رہے ہیں اور یہ آ رہے ہیں”۔

کراچی میں میرا قیام ٹرانزٹ کیمپ میں فوجی افسروں کے ساتھ تھا ۔ وہ پریشان تھے کہ اُنہیں سیدھا محاذ پر لڑنے کیلئے کیوں نہیں بھیجا جا رہا ۔ کسی کو کوئٹہ سے کراچی کسی کو کراچی سے کوئٹہ اور دوسرے شہروں کو اور کسی کو دوسرے شہروں سے کراچی کیوں بھیجا جا رہا ہے ؟ بریگیڈوں کے بریگیڈ مختلف شہروں کے ٹرانزٹ کیمپوں میں کیوں پڑے ہیں ؟

سرکاری اہلکاروں کا رویہ بھی کچھ اچھا نہ تھا ۔ اشیاء صرف مہنگی ہو گئی تھیں ۔ مزدوروں کو کام نہ کرنے کا بہانہ مل گیا تھا کہ ہوائی حملہ ہو جائے گا ۔ سارا سارا دن ادھر اُدھر کھڑے وقت ضائع کرتے رہتے ۔ صرف افسران اور سٹاف کے لوگ کام کرتے ۔

زمرہ : تاریخ, معاشرہ | 2 تبصرے »