شفاف انتخابات

آنے والی حکومت آپ کی ہو گی اگر ۔ ۔ ۔

آپ خواہ کتنے ہی لاغر یا بیمار ہوں آپ ووٹ ڈالنے ضرور جائیں

آپ تمام رنجشیں ۔ تمام دوستیاں ۔ تمام لالچ ۔ تمام اثر و رسوخ بھُلا کر ووٹ اس کو دیں جس کا ماضی سب اُمیدواروں میں سے زیادہ دیانت اور بے لوث عوامی خدمت میں گذرا ہو

آپ کو ووٹ ڈالنے کیلئے خواہ کوئی بھی لے کر جائے ووٹ اس کو دیں جس کا ماضی سب اُمیدواروں میں سے زیادہ دیانت اور بے لوث عوامی خدمت میں گذرا ہو

آپ کسی کو نہ بتائیں کہ آپ ووٹ کس کو دیں گے ۔ کوئی پوچھے تو جواب میں کہیں ” آپ بالکل فکر نہ کریں “

اپنے اہلِ خاندان اور دوسرے عزیز و اقرب کو بھی اسی پر آمادہ کریں

This entry was posted in گذارش on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

6 thoughts on “شفاف انتخابات

  1. نعمان

    میں سمجھ رہا تھا کہ شاید آپ ان الیکشنز کے بائیکاٹ کے حامی ہوں گے لیکن یہ پوسٹ پڑھ کر خوشی ہوئی۔

  2. اردوداں

    جمہوریت وہ طرزِ حکومت ہے کہ جس میں
    بندوں کو گِنا کرتے ہیں، تولا نہیں کرتے

    میرے خیال میں انتخابات ‘شفاف’ صرف مغرب کی سربراہی میں ہی ہوتے ہیں، جیسے عراق میں۔
    آپ اور میری رائے کا کیا مطلب، جیسے ایران میں!

  3. shahidaakram

    محترم اجمل انکل جی
    السلامُ عليکُم
    اُمّيد ہے آپ بخير ہوں گے کتنا درُست تجزيہ ہےآپ کا اورکتنا درُست مشورہ ديا انکل جی آپ نے ،ليکن اس کا کيا کيجيۓ کہ ووٹ دينے کے لۓ جن شرائط کا آپ نے ذکر کيا ہے اُن شرطوں پر تو کوئ بھی پُورا نہيں اُترتا بالکُل اُسی طرح جيسے کسی گُناہگار کو پتھر مارنے کے لۓ کہا گيا تھا کہ پہلا پتھر وہ مارے جس نے خُود کوئ گُناہ نا کيا ہو، تواس صُورت ميں ہم اپنا ووٹ سنبھال کر کيُوں نا رکھيں کيا ضرُورت ہے کسی کو بھي دينے کی :lol:
    اپنا خيال رکھيۓ گا
    اللہ حافظ
    شاہدہ اکرم

  4. اجمل Post author

    الف نظامی صاحب
    اتفاق کرنے کا شکریہ

    نعمان صاحب
    شکریہ ۔ کوئی مضائقہ نہیں ۔ زیادہ تر لوگ مجھے غلط ہی سمجھتے ہیں اسی لئے میں کہتا ہوں
    مجھے زمانے کی نظروں سے دیکھنے والو
    کبھی تو اپنی نگاہوں کے بند در کھولو

    اُردو دان صاحب
    آج جسے ہم مغربی دنیا کہتے ہیں اس کے باسی شیطان کے پیروکار اور خود غرض لوگ ہیں ۔ اُنہیں صرف وہی شفاف دکھتا ہے جس سے ان کی مطلب براری ہو ۔

    شاہدہ اکرم صاحبہ ۔ السلام علیکم
    بی بی ۔ بات بے لوث ہونے کی ہے اور اسکے لئے گفتار اور عمل کو یکجا کرنا ضروری ہے

  5. Pingback: What Am I میں کیا ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ » Blog Archive » ہمتِ کرے انسان تو کیا ہو نہیں سکتا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)