What Am I میں کیا ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

میرا بنیادی مقصد انسانی فرائض کے بارے میں اپنےعلم اور تجربہ کو نئی نسل تک پہنچانا ہے ۔ ۔ ۔ رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي وَاحْلُلْ عُقْدَةِ مِّن لِّسَانِي يَفْقَھوا قَوْلِي



تختۂ کار

محفوظہ برائے January, 2008

زندگی کی بنیاد

مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 30 Jan 2008

گھر میں پیار محبت کا ماحول زندگی کی بنیاد ہے

کبھی اٹل خواہش کا بھی پورا نہ ہونا بڑی خوش قسمتی ہوتا ہے

بہترین تعلق وہ ہے جس میں باہمی محبت باہمی ضرورت سے زیادہ ہو

بصیرت بغیر عمل کے صرف ایک خواب ہے

اور عمل بغیر بصیرت کے فقط وقت گذارنا ہے

مگر بصیرت کے ساتھ عمل دنیا بدل کر رکھ دیتا ہے

زمرہ : روز و شب, گذارش | 2 تبصرے »

کیا 101 فیصد حاصل کیا جا سکتا ہے ؟

مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 28 Jan 2008

محنت کرنے والے بہت لوگوں کی 90 فیصد سے زیادہ نتیجہ حاصل کرنے کی خواہش ہوتی ہے ۔ لوگوں کو یہ کہتے عام سنا گیا ہے کہ 101 فیصد درست یا یقینی لیکن کبھی کسی نے نہیں بتایا کہ کیسے ؟ انگریزی میں تو اس کا طریقہ دریافت کر لیا گیا ہے جو کہ اُردو والوں کو شہہ دے دی گئی ہے ۔ اب گیند اُردو والوں کے میدان میں ہے ۔

A=1 B=2 C=3 D=4 E=5 F=6 G=7 H=8 I=9 J=10 K=11 L=12 M=13 N=14 O=15 P=16 Q=17 R=18 S=19 T=20 U=21 V=22 W=23 X=24 Y=25 Z=26

K-N-O-W-L-E-D-G-E = 11+14+15+23+12+5+4+7+5 = 96

H+A+R+D+W+O+R+K = 8+1+18+4+23+15+18+11 = 98

A-T-T-I-T-U-D-E = 1+20+20+9+20+21+4+5 = 100

L-O-V-E-O-F-G-O-D = 12+15+22+5+15+6+7+15+4 = 101

زمرہ : پيغام | تبصرہ کرنے میں پہل کیجیے »

رشتہ دار ۔ ہمدرد یا دُشمن ؟

مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 26 Jan 2008

قارئین بالخصوص شادی شدہ جوڑوں کی رہنمائی کی خاطر میں ایک شخص کی آپ بیتی لکھنے لگا ہوں ۔ اس میں نام سب فرضی ہیں ۔

دو سگی بہنیں تھی ہاجرہ اور حفصہ ۔ وہ بچپن سے ایک ہی پلنگ پر اکٹھی سوتی تھیں اور شادی ہونے تک اکٹھی سوتی رہیں ۔ دونوں کی اکٹھی شادی ہوئی جب ہاجرہ کی عمر 16 سال اور حفصہ کی 14 سال تھی ۔ ہاجرہ کی شادی اپنی پھوپھی کے بیٹے سے ہوئی ۔ دونوں بہنوں میں بچپن سے بہت پیار تھا جو شادی کے بعد بھی قائم رہا ۔ ہاجرہ کے ہاں بیٹا پیدا ہونے کے بعد جب حفصہ کے ہاں یکے بعد دیگرے دو بیٹیاں پیدا ہوئیں تو ہاجرہ نے حفصہ سے کہا کہ میں تمہاری ایک بیٹی کو اپنی بہو بناؤں گی ۔ بیس پچیس سال بعد جب ہاجرہ کا بیٹا نعیم تعلیم حاصل کرنے کے بعد ملازم ہو گیا تو اس نے حفصہ سے اس کی بیٹی نعیمہ کا رشتہ مانگا ۔ بیس پچیس سال سے اس رشتہ کا علم رکھنے والی حفصہ نے اپنی بیٹی نعیمہ کا رشتہ دینے سے انکار کر دیا جس کیلئے کچھ لغو قسم کی وجوہات بتائیں ۔ ہاجرہ نے اپنے چھوٹے بھائی صغیر جس پر وہ اپنی جان چھڑکتی تھیں سے مدد مانگی ۔ صغیر نے نہ صرف حفصہ کا ساتھ دیا بلکہ نعیم کی شکل اور اس کے چال چلن متعلق بے بنیاد باتیں کیں جس سے ہاجرہ کو دکھ پہنچا لیکن اس نے خاموشی اختیار کر لی ۔

تین سال بعد نعیم اس شہر میں گیا ہوا تھا جہاں اسکے ماموں صغیر رہتے تھے کہ وہاں ہاجرہ اور حفصہ کے بڑے بھائی یعنی نعیم کے بڑے ماموں کبیر جو ملک سے باہر تھے آ گئے اور علیحدگی میں نعیم سے پوچھا کہ تمہیں نعیمہ کی بجائے کوئی اور لڑکی پسند ہے ؟ نعیم کی نفی پر کبیر نے اپنے چھوٹے بھائی صغیر کو ڈانٹ پلائی کہ تمہارے یہاں ہوتے تمہاری بڑی بہنیں بچھڑنے کو آئیں اور تم نے ان کو ملانے کی کوشش نہ کی ۔ کبیر پھر صغیر کو ساتھ لے کر حفصہ کے پاس دوسرے شہر گئے اور اسے لے کر ہاجرہ کے پاس پہنچے جہاں انہوں نے ہاجرہ کے سامنے حفصہ سے پوچھا کہ نعیم کے ساتھ نعیمہ کی شادی نہ کرنے کی کیا وجوہات ہیں ؟ جو وجوہات حفصہ نے بتائیں کبیر نے لغو یا بے بنیاد کہہ کر رد کر دیں لیکن حفصہ نے کہا کہ حتمی فیصلہ سے وہ اپنے گھر جانے کے بعد آگاہ کریں گی ۔ دراصل رشتہ داروں نے ان سے اپنی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے بڑی ہوشیاری کے ساتھ من گھڑت باتیں ہاجرہ ۔ ہاجرہ کے خاوند اور نعیم کے متعلق بتائی ہوئی تھیں ۔

واپس اپنے شہر پہنچنے پر حفصہ کے گھر میں پھر بحث مباحثہ ہوا ۔ آخر فیصلہ ہوا کہ نعیمہ سے پوچھا جائے تو نعیمہ نے اپنی خالہ ہاجرہ کے حق میں ووٹ دے دیا کیونکہ دوسرے امیدوار غیر تھے اور ان کے متعلق مفصل علم نہ تھا چنانچہ نعیمہ کی سگائی یا منگنی نعیم سے ہو گئی ۔

مزید دو سال بعد نعیم اور نعیمہ کی شادی ہو گئی ۔ وہ دونوں ہنسی خوشی رہ رہے تھے کہ نعیمہ کا بھائی اپنی بیوی کے ساتھ ان کے گھر آیا اور چند دن بعد چلا گیا ۔ اس کے بعد پھر لاوہ پکنا شروع ہوا اور نعیمہ کو دو ہفتہ کیلئے بلایا گیا اس خیال سے کہ اسے واپس نہیں بھیجا جائے گا ۔ وجہ نعیم کا مفروضہ ظلم تھا یعنی وہ نعیمہ کو کھانے کو کچھ نہیں دیتا اسی لئے وہ شادی کے بعد موٹی نہیں ہوئی ۔ نعیمہ کے دونوں بھائی اور چھوٹے ماموں صغیر نعیمہ کو طلاق دلانے کیلئے کوشاں تھے ۔ حفصہ کو جب بہت مجبور کیا گیا تو اس نے تھوڑا وقت مانگ کر علیحدگی میں اپنی بیٹی نعیمہ سے پوچھا کہ سب چاہتے ہیں کہ تم نعیم سے طلاق لے لو اور تمہاری شادی ایک بہت اچھے اور امیر گھرانے میں ایک بہت اچھے لڑکے کے ساتھ شادی کریں گے ۔ نعیمہ نے کہا کہ مجھے طلاق نہیں لینا ۔ نعیم بہت اچھا ہے میں اسی کے پاس واپس جانا چاہتی ہوں ۔ دوسرے ہی دن اس نے اپنے بڑے بھائی سے کہا کہ مجھے بس پر چڑھا دو میں میں واپس اپنے شوہر کے پاس جانا چاہتی ہوں ۔ وہ نعیم کو کہہ کر آئی تھی کہ مجھے دو ہفتے بعد آ کر لے جانا جبکہ ابھی ایک ہفتہ بھی نہ گذرا تھا اور وہ واپس چلی گئی ۔

اس کے بعد سے اللہ کے فضل سے نعیم اور نعیمہ اچھی زندگی گذار رہے ہیں دونوں کے والدین اور ماموں فوت ہو چکے ہیں ۔ اللہ انہیں جنت میں جگہ دے ۔ بڑے ماموں کبیر تو پہلے ہی نعیم اور نعیمہ سے بہت پیار کرتے تھے ۔ متذکرہ بالا واقعہ کے بعد نعیمہ کی امی حفصہ نے نعیم کو ماں کا پیار دیا اور نعیمہ سے زیادہ نعیم کا خیال رکھا ۔

اللہ کا فرمان ہے ۔ مومن تو ایک دوسرے کے بھائی ہیں لہٰذا اپنے بھائیوں کے درمیان تعلقات کو درست کرو اور اللہ سے ڈرو ۔ اُمید ہے کہ تم پر رحم کیا جائے گا ۔ سورت ۔ 49 ۔ الْحُجُرَات ۔ آیت 10

زمرہ : روز و شب, پيغام | 4 تبصرے »

ذمہ دار

مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 24 Jan 2008

ایک ترقی پذیر درمیانے سائیز کے ملک جس کے مشیر آئی ایم ایف اور ورڈ بنک تھے کا مشرقِ بعید کے ایک چھوٹے ملک کے ساتھ کشتی رانی کا مقابلہ ہوا۔ مقررہ وقت میں زیادہ فاصلہ طے کرنے والا فاتح قرار پاتا ۔ چھوٹے ملک نے یہ مقابلہ ایک میل کے فرق سے جیت لیا ۔ ترقی پذیر ملک نے فوری طور پر آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کے ماہرین کو ایک خطیر رقم کے عوض بُلوایا ۔ کمپیوٹر کے ذریعے اعداد و شمار نکالے گئے۔ آخر میں نتیجہ مرتب ہوا کہ فاتح ملک کی ٹیم میں ایک منیجر اور 6 ملاح ہیں جبکہ ہارنے والی ٹیم 6 منیجروں اور ایک ملاح پر مشتمل ہے۔

یہ ایک اہم قومی مسئلہ تھا اسلئے فوری طور پر ملک کے سربراہ کو رپورٹ پیش کی گئی کہ ٹیم میں تبدیلی ضروری ہے ۔ سربراہ نے فیصلہ دیا کہ ایک سے زیادہ ملاح بھرتی کرنا ملک کی معیشت پر بوجھ ہوگا اسلئے ملاح ایک ہی رہنے جائے ۔ منیجر وں کی اکثریت فوجی افسر اور باقی سول بیوروکریٹ ہیں جو عقلمند ہوتے ہیں اور تجربہ کار بھی اور امریکہ سے آئے ہوئے ماہرین کی رپورٹ پر عمل کرنا بھی ضروری ہے اسلئے ایک منیجر کو ترقی دے کر جنرل منیجر بنا دیا گیا ۔ ایک کو منیجر ہی رہنے دیا گیا جبکہ 2 کو ڈپٹی منیجر اور 2 کو اسسٹنٹ منیجر بنا دیا گیا ۔

اگلے سال اُسی چھوٹے ملک سے پھر اس ترقی پذیر مُلک کا کشتی رانی کا مقابلہ ہوا۔ اس مرتبہ محنت پر یقین رکھنے والا وہ چھوٹا ملک پھر جیت گیا اور اس بار ایک کی بجائے 2 میل کے برتری سے ۔ ترقی پذیر ملک کے سربراہ نے پھر آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک سے رابطہ کیا اور اس بار پہلے سے زیادہ عوضانہ پر فوری اور اعلٰی سطحی مشاورت طلب کی ۔ چنانچہ اعلٰی ماہرین کی ایک ٹیم پہنچ گئی اور گہرے مطالع اور زیرک تجزیہ کے بعد اپنی سفارشات میں لکھا کہ کشتی کی ٹیم کو ناکامی سے دوچار کرنے والے یا والوں کا محاسبہ کیا جائے ۔ مُلک کے سربراہ نے اپنے معتمدِ خاص کو اس رپورٹ پر اپنی سفارشات دینے کا کہا ۔ اس نے تجویز کیا ۔ چونکہ کشتی چلانا ملاح کا کام ہے اسلئے جیتنے یا ہارنے کا ذمہ دار بھی وہی ہو سکتا ہے ۔ مُلک کے حاکم نے ملاح کو نوکری سے نکال باہر کیا اور تمام منیجروں کو ترقی دے کر دوسرے بہتر محکموں میں بھیج دیا ۔

زمرہ : روز و شب, مزاح | 4 تبصرے »

شفاف انتخابات

مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 22 Jan 2008

آنے والی حکومت آپ کی ہو گی اگر ۔ ۔ ۔

آپ خواہ کتنے ہی لاغر یا بیمار ہوں آپ ووٹ ڈالنے ضرور جائیں

آپ تمام رنجشیں ۔ تمام دوستیاں ۔ تمام لالچ ۔ تمام اثر و رسوخ بھُلا کر ووٹ اس کو دیں جس کا ماضی سب اُمیدواروں میں سے زیادہ دیانت اور بے لوث عوامی خدمت میں گذرا ہو

آپ کو ووٹ ڈالنے کیلئے خواہ کوئی بھی لے کر جائے ووٹ اس کو دیں جس کا ماضی سب اُمیدواروں میں سے زیادہ دیانت اور بے لوث عوامی خدمت میں گذرا ہو

آپ کسی کو نہ بتائیں کہ آپ ووٹ کس کو دیں گے ۔ کوئی پوچھے تو جواب میں کہیں ” آپ بالکل فکر نہ کریں “

اپنے اہلِ خاندان اور دوسرے عزیز و اقرب کو بھی اسی پر آمادہ کریں

زمرہ : گذارش | 6 تبصرے »

اسلام آباد کی ترقی یا لوٹ مار

مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 20 Jan 2008

بسلسلہ 15 دسمبر 2007ء   ۔ 27 دسمبر کی شام بینظیر بھڎٹو کے قتل اور بعد میں پیدا ہونے والے حالات کی وجہ سے یہ موضوع پس منطر میں چلا گیا تھا جس کیلئے معذرت ۔ 

اسلام آباد میں رہائشی اور کمرشل پلاٹ جو بااثر بیوروکریٹس ۔ فوجی افسروں ۔ سیاستدانوں اور بزنس مینوں کو الاٹ کئے گئے وہ بھی کم نہیں مگر جو لوٹ مار ماڈل ولیج [Model Village] کے نام پر ہوئی اس کا خاکہ پیشِ خدمت ہے ۔

اسلام آباد اور راولپنڈی کے مضافاتی علاقوں میں پولٹری اور سبزیوں کی افزائش کے نام پر اربوں روپے کی 2500 ایکڑ زمین 1970ء سے 1990ء تک کوڑیوں کے بھاؤ فروخت کی گئی تھی ۔ حکومتی قواعد وضوابط کے مطابق اس زمین کا 80 فیصد حصہ سبزیوں کی بھرپور فارمنگ کیلئے استعمال ہوناتھا اور انڈے اور مرغی کی مناسب دستیابی کیلئے برائلر [broiler] اور لےئر [layer] مرغیاں بھی رکھنا تھیں ۔ ان قواعد کے مطابق پورے منصوبے کو 2 برس کے اندر پیداوار میں لانا ضروری تھا ۔ دیوالیہ پن کی صورت میں یا سی ڈی اے کے قواعد کا خیال نہ رکھنے کی صورت میں سی ڈی اے معاہدہ کینسل کرکے کسی بھی فارم کی ملکیت حاصل کر سکتا ہے تھا اور اس سلسلے میں اسے کسی بھی مد میں کوئی واجبات یا ہرجانہ ادا نہیں کرنا ہوتاجبکہ پلاٹ واپس الاٹ کرنے والے ادارے کو مل جاتا ۔

یہ زرعی اراضی جڑواں شہر وں کے لوگوں کیلئے ارزاں نرخوں پر سبزیاں اور پولٹری مصنوعات فراہم کرنے کیلئے دی گئی تھی ۔ لیکن ان بااثر افراد جن میں صدر جنرل پرویز مشرف اور وزیر اعظم شوکت عزیز کے نام بھی شامل ہیں نے اس زرعی اراضی کو یہ اجناس پیدا کرنے کے بجائے یہاں پر زندگی سے لطف اندوز ہونے کیلئے بڑے بڑے محلات اور تفریحی سہولیات قائم کرلیں اور اسکی وجہ سے جڑواں شہروں کو سبزیوں اور پولٹری مصنوعات کی رسد میں کمی ہوئی اور اسکے نتیجے میں عوامی سطح پر مہنگائی بڑھی ۔

اس 499 با اثر ترین افراد کی فہرست میں زیادہ تر طاقتور جرنیل ، بیوروکریٹس، تاجر ، خفیہ ایجنسیوں کے عہدیدار شامل ہیں جن میں سے کچھ نے پلاٹ حاصل کرنے کے بعد سی ڈی اے کو دی گئی قیمت سے کہیں زیادہ داموں پر اسی وقت بیچ دیئے ۔ صدر اور وزیر اعظم کے علاوہ اس فہرست میں موجودہ چیئرمین سینٹ محمد میاں سومرو ۔ سابق چیئر مین سینیٹ اور ایوان بالا کے موجودہ قائد ایوان وسیم سجاد، ڈی جی آئی ایس آئی میجرجنرل اسدنواز خان ۔ ڈاکٹر انور عزیز ۔ بریگیڈیئر سجاول خان ۔ رفعت جمیل نشتر ۔ محمد شجاعت عظیم(وزیر اطلاعات طارق عظیم کے بھائی) ۔ پیپلزپارٹی کی رہنما ناہید خان ۔ میجر جنرل ایس علی حامد ۔ مسز زیبا فصیح بخاری[میجرجنرل فصیح الدین بخاری کی بیوی] ۔ سعدیہ حفیظ پیرزادہ ۔ ڈی جی آئی ایس آئی میجر جنرل رشیداحمد خان ۔ اعجاز شفیع ۔ بریگیڈیئر سجاول خان ملک ۔ ملیحہ لودھی ۔ شیر علی جعفر ۔ امبرین ہارون ۔ مسز یامینہ مٹھا [میجر جنرل مٹھا کی بیوی] ۔ میجر جنرل ایم اشرف خان ۔ بریگیڈیئر محمد حسین ۔ بریگیڈیئر صادق قریشی ۔ میجر جنرل فرحت علی بخاری ۔ میجر جنرل عطاء الرحمن ۔ سیف الرحمٰن اور دیگر کے نام شامل ہیں ۔ اس میں علامہ اقبال کے صاحبزادے جسٹس(ر) جاوید اقبال کا نام بھی شامل ہےجس نے نذیر محمد شیخ سے 1999ء میں سبزیوں کے کاروبار اور پولٹری شروع کرنے کیلئے2.72 ایکڑ کا پلاٹ خریدا تھا۔

ایک صاحب میاں ریاض الدین کو 26.5 ایکڑ رقبہ کا پلاٹ دیا گیا تھا جنہوں نے بعد میں یہ پلاٹ خواجہ فرخ مجید کو فروخت کر دیا ۔ ایک اور صاحب غلام عباس کو 18 ایکڑ رقبہ کا پلاٹ دیا گیا تھا ۔

آئی ایس آئی نے بھی اپنے نام پر یہ زرعی فارمز الاٹ کرائے ۔ [کیوں ؟؟؟]

زیادہ لوگوں نے یہ فارمز اپنی بیویوں یا بیٹیوں کے نام پر الاٹ کروائے اسلئے ان کی شخصیت صرف سی ڈی اے کے مکمل ریکارڈ کے مطالعہ اور مزید تحقیقات ہی سے پتہ چل سکتی ہے ۔

زمرہ : معلومات | ابھی تک ایک تبصرہ ہوا ہے »

مصیبتیں تنہا نہیں آتیں

مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 18 Jan 2008

شائد آٹھویں جماعت میں محاورہ پڑھا تھا ۔ مصیبتیں تنہا نہیں آتیں ۔ جب سے پرویز مشرف کی اصلی جمہوریت آئی ہے اور بالخصوص پچھلے ایک سال میں اس محاورے کا مطلب سمجھ میں آ گیا ہے ۔ شائد کوئی سمجھے کہ میں بم دھماکوں یا دہشتگردوں کی بات کرنے لگا ہوں تو غلط ہے کیونکہ ہر بم دھماکے کے بعد پرویز مشرف اور اس کے اہلکار دہشتگردوں کو بے نقاب کرنے ۔ ان کے ساتھ آہنی ہاتھ سے نبٹنے اور انہیں کیفرِ کردار تک پہنچانے کا دعوٰی کرتے ہیں ۔ اسلئے مجھے کوئی فکر نہیں کہ شائد کبھی وہ دن آ جائے جب پرویز مشرف اور اس کے اہلکاروں کے ہاتھ عوام کی گردنیں دبا دبا کر آہنی بن جائیں اور دہشتگردوں کو بے نقاب کرنے کے قابل ہو جائیں ۔ مجھے آٹے اور گھی کی بھی فکر نہیں کیونکہ جب ٹماٹر مہنگے ہوئے تھے تو ہمارے شہنشاہ نے فرمایا تھا کہ مہنگے ہیں تو نہ کھائیں ۔

مُلا کی دوڑ تو پھر بھی مسجد تک ہوتی ہے ۔ میری دوڑ ایک ماہ سے بیڈ روم ۔ باتھ روم اور ڈائیننگ روم تک ہی رہتی ہے یا پھر بازار میں موم بتیاں ڈھونڈتا پھر رہا ہوتا ہوں اور ساتھ ساتھ گاتا جاتا ہوں
میں پورے اسلام آباد میں ڈھونڈتا پھر رہا ہوں تُجھے
موم بتی تو کہاں ہے مجھ کو آواز دے مجھ کو آواز دے

ایک ہفتہ سے میری دوڑ عام طور پر بستر یا کرسی تک ہی رہتی ہے ۔ مجھے اپاہج نہ سمجھ لیں ۔ اللہ کے فضل سے میرے نین پرین سب فرسٹ کلاس ہیں ۔ صرف قدرتی گیس کا پریشر کم ہونے کی وجہ سے گیس ہیٹر سے جُڑ کے کرسی پر بیٹھنا پڑتا ہے ۔ چپاتی توے پر پکنے کی بجائے سوکھ جاتی ہے اسلئے دو چپاتیاں چبانے کیلئے ڈائیننگ روم کی کرسی پر دو گھنٹے بیٹھنا پڑتا ہے ۔ غروبِ آفتاب سے طلوع تک کئی بار بجلی غائب ہو جاتی ہے اسلئے بیڈ روم میں بستر پر ہی دراز رہنا پڑتا ہے ۔ پانچ چھ روز قبل ایمرجنسی لائٹ خریدنے گیا ۔ ایمرجنسی لائٹ جو تین ماہ قبل 500 روپے کی تھی وہ 1200 روپے کی ہو گئی ہے لیکن اسلام آباد میں نہیں مل رہی ۔

بجلی آتی کم اور جاتی زیادہ ہے اور ایک ہفتہ سے ایک ماڈرن سٹائل اپنایا ہے کہ ہر 15 سے 25 منٹ بعد بجلی 2 سے 10 منٹ کیلئے غائب ہو جاتی ہے ۔ یہ روزانہ کے ان 30 منٹ سے کئی گھنٹوں کے متعدد بلیک آؤٹس کے علاوہ ہے جو ایک ماہ سے جاری ہیں ۔ اس پرویزی ماڈرنائیزیشن کی بدولت پانی بھی بہت کم مل رہا ہے چنانچہ اپنے مکان کے پانی کا تین ماہ کیلئے 800 روپیہ ادا کرنے کے باوجود پچھلے دو ہفتے سے روزانہ پانی کا ٹینکر خریدنا پڑ رہا ہے ۔ اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی کا مخفف ہے اِیسکو ۔ اسلام آباد کے لوگ کہتے ہیں اِیسکو یعنی کھِسکو ۔

اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی کی بجلی کی چکا چوند کی مہربانی سے ہمارا ریفریجریٹر تین دن قبل خراب ہو گیا ۔ اللہ کا شکر ہے کہ اچھا مکینک مل گیا اور کل ٹھیک کر گیا کیونکہ اس کی بکنگ زیادہ تھی ۔ بجلی کی چکا چوند نے میرے کمپیوٹر کو بھی نہ بخشا اور ڈیفنڈر اور اینٹی وائرس سمیت کئی فائلیں اُڑ گئیں ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ مُہلک قسم کی ٹروجن ہارس کوئی چار درجن فائلوں میں گھُس گئی اور میرے لئے نہ صرف کام کرنا مشکل ہو گیا بلکہ نئی اینٹی وائرس انسٹال کرنا ہی مشکل ہو گیا ۔ اللہ کا کرم ہوا کہ ایکسٹرنل ہارد ڈسک سے اینٹی وائرس انسٹال کرنے میں کامیاب ہو گئے ۔

کوئی تحریر لکھ کر شائع کرنا ہو یا تبصرہ کرنا ہو یا تبصرے کا جواب لکھنا ہو تو درمیان میں بجلی غائب ہو جاتی ہے ۔ اُس وقت جو میرا حال ہوتا ہے وہ خودکُش بم حملہ میں مرنے والے سے بھی زیادہ ہوتا ہے کیونکہ وہ تو یکدم مر کر ہر تکلیف سے بے نیاز ہو جاتا ہے اور میں ہر دن کئی بار مر کے جیتا ہوں ۔ بعض اوقات جب بجلی آتی ہے تو مجھے بھول ہی جاتا ہے کہ میں کیا لکھنا چاہ رہا تھا ۔ قارئین الگ میری ریپُوٹیشن خراب کر رہے ہونگے کہ نہ ہماری دلچسپ تحاریر پر تبصرہ کرتا ہے اور نہ اپنے بلاگ پر ہمارے پُرمغز تبصروں کے جواب دیتا ہے

زمرہ : آپ بيتی, خبر | 8 تبصرے »

صنفِ مخالف کی کشش

مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 16 Jan 2008

مندرجہ ذیل مضمون میری 17 دسمبر 2007 اور 14 جنوری 2008 کی تحاریر کی تیسری اور آخری قسط ہے ۔

اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی نے تمام مخلوقات کے جوڑے بنائے ہیں ۔ اگر ان میں کوئی باہمی کشش نہ ہوتی تو یہ نظام چل نہ پاتا ۔ دیکھا جائے تو پوری کائنات کے نظام کے چلنے کی بنیاد ہی باہمی کشش ہے ۔ اس کشش کا متوازن ہونا پائیداری کیلئے ضروری ہے ۔ بات کریں حضرتِ انسان کی تو یہ کشش ازل سے ہے اور جس دن یہ ختم ہو گی میرا خیال ہے کہ اس وقت یا اس کے بہت جلد بعد قیامت وقوع پذیر ہو جائے گی ۔ اس کشش کا عدم توازن یا تجاوز ارتعاش یا انتشار کا باعث بنتا ہے

میں سوچتا ہوں کہ اگر مجھ میں عورت کی کشش نہ ہوتی تو میں نہ شادی کرتا نہ میرے بچے ہوتے ۔ میں صرف کماتا ۔ سیروسیاحت اور مہم جوئی کرتا اور اس کے علاوہ اپنے کمرہ میں بند نئی سے نئی ایجاد کیلئے سرگرم ہوتا ۔ شائد یہ عمل عجیب محسوس ہو کہ صنفِ مخالف کی کشش کا قائل ہونے کے باوجود میں نے کبھی کسی لڑکی کو دیکھنے کی کوشش نہیں کی اور اس کے نتیجہ میں اب تک بہت گلے شکوے سننا پڑتے ہیں ۔ عزیز و اقارب خواتین کہتیں ہیں “مانا کہ تم بلندیوں کی طرف نظر رکھتے ہو لیکن کبھی زمین پر بھی نظر ڈال لیا کرو جس پر ہم جیسے غریب چل رہے ہوتے ہیں”۔ یہ شکائت اس دور سے ہے جب میں پیدل یا بائیسائکل پر ہوتا تھا اور اب بھی ہے کہ کار پر ہوتا ہوں ۔ میں کہہ دیتا ہوں کہ اگر اِدھر اُدھر دیکھوں گا تو کسی گاڑی سے ٹکرا جاؤں گا ۔ ایک بار ایک محترمہ [کزن] نے کہا “باتیں مت بناؤ ۔ میں تمہارے سامنے سے گذری تھی”۔ میں نے بھی نہلے پر دیہلا لگا دیا “باجی ۔ میں نظر نیچی رکھ کر چلتا ہوں کہ کسی غیر عورت کو دیکھ کر گناہگار نہ ہو جاؤں”۔

ہر چیز کا طریقہ اور سلیقہ ہوتا ہے جس کے بغیر مضبوط معاشرہ کا قائم ہونا بہت مشکل ہوتا ہے ۔ عورت مرد کی باہمی کشش کے زیرِاثر تجاوزات آج کی بات نہیں ۔ صرف اس کی مقدار اور پھیلاؤ گھٹتے بڑھتے رہے ہیں اور مختلف معاشروں میں بھی مختلف ہوتے ہیں ۔ میں نے اس فعل یا عمل کا بہت مطالعہ کیا اور اس میں ملوث ہونے والے کئی لڑکوں کے ساتھ تبادلہ خیال بھی کیا ۔ مجھے اس کی صرف ایک ہی وجہ نظر آئی اور وہ ہے کہ ہر لڑکا جب ایک خاص عمر کو پہنچتا ہے تو وہ خواہش کرتا ہے کہ لڑکیاں اس کی طرف متوجہ ہوں ۔ یہی جذبہ لڑکیوں میں بھی پایا جاتا ہے ۔ ایک خاص عمر کو پہنچ کر لڑکیوں کے دل میں لڑکوں کی ستائش حاصل کرنا چُٹکیاں لینے لگتا ہے ۔ اسی وجہ سے کئی لڑکے لڑکیاں بار بار آئینہ دیکھتے ہیں کہ وہ کیسے لگ رہے ہیں ۔ اس خواہش کے زیرِ اثر کچھ لڑکے لڑکیاں غلط راہ پر چل پڑتے ہیں جسے وہ وقتی شغل میلہ قرار دیتے ہیں ۔ اسی شغل میلے میں چند بے راہروی اختیار کر لیتے ہیں ۔ فرعون نے اپنی اسی خواہش کے تحت لڑکوں کے قتل اور خوبصورت لڑکیوں کے زندہ رکھنے کا حکم دیا ۔ کلوپٹرا کی حکومت آئی تو اس نے ہر خوبصورت مرد کو اپنے قریب رکھا ۔

ایک کُلیہ ہے معاشیات کا طلب اور رسد کا جو اس معاملہ میں بڑا معاون ثابت ہو سکتا ہے کہ صنفِ مخالف کی توجہ بھی مل جائے اور بدتہذیبی بھی نہ ہو لیکن اس کیلئے کچھ محنت بھی کرنا پرتی ہے ۔ ظاہر ہے کہ بغیر محنت کے تو کچھ نہیں ملتا ۔ کوئی نوالا منہ بھی ڈال دے تو چبانا اور نگلنا خود ہی پڑتا ہے ۔ لڑکا اگر سَستی قسم کی بڑھائی کی بجائے اپنے اندر ایسی بڑھائی پیدا کرے جو ہمیش ہو تو وہ ایک لڑکی نہیں بلکہ کئی لڑکیوں کو متوجہ کر سکتا ہے لیکن نیت لڑکی کی توجہ حاصل کرنے کی بجائے اپنے اندر اچھائی پیدا کرنے کی ہو ۔ کیونکہ معاشیات کا کلیہ کہتا ہے کہ طلب زیادہ ہو تو رسد کم ہو جاتی ہے اور اس کے برعکس رسد زیادہ ہو تو طلب کم ہو جاتی ہے ۔

عام طور پر لڑکے ان طریقوں سے لڑکیوں کو متوجہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ بال بنا کر ۔ سردیوں میں صرف قمیض پہن کر ۔ مہنگی خوشبو لگا کر ۔ خطرناک طریقہ سے سائیکل یا موٹر سائیکل چلا کر [آجکل کار] ۔ گانا گا کر ۔ قیمتی گھڑی پہن کر جسے بار بار وہ ننگا کرتے ہیں ۔ باڈی بلڈنگ کر کے ۔ مجھے ایسے لڑکوں کی عقل پر ہی شک رہا ۔ ان چیزوں پر میں نے لڑکیوں کو ہنستے تو دیکھا ہے لیکن متاثر ہوتے نہیں دیکھا ۔ گو کچھ لڑکیاں اداکاروں یا کھلاڑیوں پر دل نچھاور کر دیتی ہیں اور بعد میں پچھتاتی ہیں ۔ شادی شدہ مردوں کے اس عمل میں ملوث ہونے کا سبب احساسی کمتری یا احساسِ محرومی ہوتا ہے ۔ مرد ہی نہیں کچھ شادی شدہ عورتیں بھی یہ حرکات کرتی ہیں ۔ اس کی وجہ خاوند کی بے توجہی یا خاوند کا غلط چال چلن ہوتا ہے ۔ جن عورتوں کے خاوند سالہا سال ان سے دور رہتے ہیں ان میں سے بھی چند اس راہ پر چل پڑتی ہیں ۔

بلاشُبہ چہرے یا جسم کی ظاہری خوبصورتی بہت کشش رکھتی ہے مگر یہ دائمی نہیں ہوتی ۔ کچھ عرصہ بعد وہی چہرہ وہی جسم اپنی کشش کھو دیتا ہے یا عام سا لگنے لگتا ہے ۔ سیرت ایک ایسی خوبی ہے جسے قائم کیا جائے تو وقت کے ساتھ ساتھ اس کی کشش بڑھتی جاتی ہے ۔ سیرت کے کئی پہلو ہیں ۔ محنت سے پڑھنا ۔ صاف ستھرا رہنا ۔ لڑکی ۔ خواتین یا بزرگوں سے بات کرتے ہوئے نظریں نیچی رکھنا ۔ بے لوث خدمت یعنی کسی مادی لالچ اور امیر غریب یا چھوٹے بڑے کی تمیز کے بغیر ۔ ہمیشہ سچ بولنا اور سچ کا ساتھ دینا ۔

میں اس دنیا کی مخلوق نہیں ہوں اگر کوئی مجھے اس معاشرے کے حساب سے دیکھے تو میں اُجڈ شخص ہوں ۔ میں ہمیشہ صنفِ مخالف سے کتراتا رہا ہوں ۔ اپنے خاندان میں سوائے دو کے سب لڑکیاں یا مجھ سے بہت بڑی ہیں یا بہت چھوٹی ۔ دوسری لڑکیاں رشتہ دار ہوں یا غیر ہوں جوانی میں ان کے ساتھ میرا رویہ بڑا خشک ہوتا تھا ۔ میرے کچھ قریبی ہمجماعت کبھی کبھار کہہ دیتے “یار اجمل ۔ تم ہم سب کے ساتھ اتنے نرم لہجہ میں بات کرتے ہو ۔ لڑکیوں کے سامنے تمہیں کیا ہو جاتا ہے ؟”کمال یہ ہے کہ میرے خشک رویئے کے نتیجہ میں کسی لڑکی نے میرے ساتھ کبھی بُرا سلوک کرنا تو درکنار کبھی ماتھے پر بل بھی نہ ڈالے ۔ اس خشک رویئے کے باوجود لڑکیاں مجھ سے بات کرنے کی کوشش کرتیں ۔ عشق کو میں ہمیشہ دماغ کا خلل سمجھتا رہا ہوں ۔ لڑکیوں کے پیچھے پھرنا یا صرف دیکھنے کی خاطر ان پر نظریں ڈالنا میری نظر میں ایک انتہائی گھٹیا فعل رہا ۔ بلا تفریق امیر و غریب یا لڑکی لڑکا ہر کسی کی خدمت کرنا میں اپنا فرض سمجھتا رہا ہوں ۔ میں ساری عمر میں زر تو نہ اکٹھا کر سکا لیکن مجھ پر اللہ سُبحانہُ والحَمْدُللہ بعَدَدِ خَلْقِہِ کی بہت کرم نوازی رہی کہ ہر کسی نے مجھے عزت دی ۔

زمرہ : روز و شب, معاشرہ, معلومات | 2 تبصرے »

کیا صرف پاکستانی گھورتے ہیں ؟

مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 14 Jan 2008

یہ میری 17 دسمبر 2007ء کی تحریر کا دوسرا باب سمجھ لیجئے ۔ میرا مشاہدہ ہے کہ پاکستانیوں کو جتنی اپنے ہموطنوں سے شکائت رہتی ہے کسی اور قوم کو نہیں ۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ سب پاکستانی بُرے ہیں بلکہ پاکستانیوں کی اکثریت کسی وجہ سے احساسِ کمتری میں مبتلا ہے اور ایسے لوگوں کو غیر کے سامنے اچھا بننے کا ایک ہی طریقہ سمجھ آیا ہے کہ اپنوں کو بُرا کہیں ۔ اس طرح وہ دوسرے لفظوں میں اپنے آپ کو بُرا کہہ رہے ہوتے ہیں ۔

ہمارے ہموطنوں میں قباحت یہ ہے کہ ٹکٹِکی لگا کر دیکھتے ہی چلے جاتے ہیں جو معیوب سمجھا جاتا ہے ۔ اگر لفظ گھورنا کی بجائے بُری نظر سے دیکھنا کہا جائے تو ایسا یورپ اور امریکہ میں بھی ہوتا ہے حالانکہ ان ملکوں میں جنسی آزادی انتہاء کو پہنچ چکی ہے ۔ یورپ اور امریکہ میں کسی لڑکی یا عورت کو گھورنے یا غلط نظروں سے دیکھنے کے علاوہ اور بھی بہت کچھ ہوتا ہے یعنی کسی عورت یا لڑکی میں کشش محسوس ہوئی تو موقع پا کر اس کا بھوسہ لے لیا ۔ یہ عمل زبردستی بھی کیا جاتا ہے ۔ میں یورپ کے ایک شاپنگ سنٹر میں کچھ خریدنے کیلئے اس کی تلاش میں تھا ۔ دوپہر کے کھانے کا وقت تھا اور بہت کم لوگ موجود تھے ۔ میں نے دیکھا کہ ایک کونے میں ایک مرد گاہک نے ایک سیلز وومن کا بھوسہ لینے کی کوشش کی وہ ایکدم پیچھے ہٹ گئی تو اس نے آگے بڑھ کر اسے دبوچ کر بھوسہ لینے کی کوشش کی ۔ عورت نے اپنے آپ کو چھڑانے کی پوری کوشش کی ۔ اتنی دیر میں میں قریب پہنچ گیا ۔ جونہی مرد نے مجھے دیکھا وہ عورت کو چھوڑ کر بھاگ گیا ۔

اطالوی چُٹکی لینے میں مشہور ہیں ۔ یہ میرا مشاہدہ بھی ہے ۔ کئی ملکوں میں مرد یا لڑکا گذرتے گذرتے کسی عورت یا لڑکی کے ساتھ کچھ کر جاتا ہے جس پر عام طور پر لڑکی یا عورت مسکرا دیتی ہے لیکن کبھی کبھی لال پیلی ہو جاتی ہے ۔ ایک بار پیرس ۔ فرانس میں ایک عورت نے پیچھے بھاگ کر مرد کو تھپڑ لگایا ۔ 1980ء یا اس کے آس پاس کا واقعہ ہے کہ طرابلس ۔ لبیا میں ایک سوڈانی عورت گوشت کی دکان پر کھڑی تھی کہ ایک یورپین مرد نے ناجانے کیا کیا کہ عورت نے تیزی سے پلٹ کر اُسے دو چار دوہتھڑ مارے ۔ قبل اس کے کہ کوئی یورپین کو پکڑنے کا سوچتا وہ بھاگ کر مارکیٹ سے باہر نکل گیا ۔

یورپ اور امریکہ میں لڑکیاں اور عورتیں بھی لڑکوں یا مردوں سے اس سلسلہ میں پیچھے نہیں ۔ میں امریکہ میں صرف 20 دن رہا اور اس دوران اس قسم کے 2 واقعات دیکھنے کو ملے ۔ البتہ یورپ میں ایسے بہت سے واقعات دیکھنے میں آئے ۔

زمرہ : روز و شب, معاشرہ, معلومات | 23 تبصرے »

چند تبصرے

مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 12 Jan 2008

پریوینشن آف الیکٹرانک کرائم آرڈیننس پر بی بی سی اُردو سے نقل کئے چند تبصرے

جيو اور باقی چينلزکی بندش کے بعدانٹرنيٹ ہی واحد معلوماتی ذريعہ بچا تھا۔ ٹی وی چينلز تو آج کل صرف بسکٹ اور صابن کی تعريف کرتے نظر آتے ہيں ليکن اب لگتا ہے کہ بی بی سی اردو کا اگلا موضوع ہوگا کہ بينگن کا بھرتاکس طرح بنتا ہے۔ کيوں کہ سائبرکرائمز ميں لفظ ’ناپسنديدہ‘ وہ تمام موضوعات اور الفاظ ہو سکتے ہيں جو لوگ اپنے تبصروں ميں صدر اور حکومت کے خلاف استعمال کرتے ہيں۔ پاکستان سائبرکرائم آرڈيننس سے پہلے باقی اسلامی مالک کی طرح بيہودہ ويب سائيٹز بلاک کرے جو نوجوان نسل ميں بيہودگی کو فروغ دے رہی ہيں۔
مشوانی [تجویز کنندہ 11 لوگ]

اب سانس بھی آہستہ اور محتاط ہو کر لیں ورنہ گہری سانسوں پر بھی آرڈیننس جاری کر دیا جائے گا۔
محمد ریاض خان ۔ ٹو رانٹو ۔ کینیڈا [تجویز کنندہ 3 لوگ]

صدر صاحب تو منتخب پارلیمان کی موجودگی میں آرڈیننس جاری کرتے رہے ہیں۔ اس لیے منتخب پارلیمان کی غیر موجودگی میں پہلے سے ہی متنازعہ نیا قانون نافذ کرنا تو ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ تاہم ان کی روشن خیالی کا بھانڈا بیچ چوراہے کے ضرور پھوٹ چکا ہے۔ یاد رکھیں کہ صدر پرویز مشرف ایسے تمام معلوماتی ذرائع پر پابندی لگائیں گے جس سے ان کے اقتدار اور ان کی چھتری تلے پرورش پانے والی ق لیگ کے لیے خطرہ ہو گا۔ کیونکہ بازی ہارے ہوئے لوگوں کا ہمیشہ سے یہی چلن رہا ہے۔
محمد نعیم فاروقی ۔ لاھور ۔ پاکستان [تجویز کنندہ 3 لوگ]

ناپسندیدہ، غیراخلاقی یا بے ہودہ ۔ اس جملے ميں لفظ ناپسندیدہ کی تعريف متعين کی جائے ورنہ يہ ہر ايک کے گلے میں پھندہ فٹ کرنے کے لیے کافی ہوگا۔ قطع نظر اس کے کتنے لوگوں کی انٹرنيٹ تک رسائی ہے پھر بھی قوانين تو ہمہ گير ہونا چاہیے۔ ويسے ايک اور قانون کی زيادہ ضرورت ہے جس کے تحت لفظ ’رٹائرمنٹ‘ کی تعريف متعين کر دی جائے۔
سیّد ضیاء [تجویز کنندہ 5 لوگ]

پاکستان جہاں انٹر نیٹ کی صنعت ابھی ترقی کے مراحل پر ہے اس قسم کے آرڈیننس کا مقصد ڈوبتی ہوئی کشتی میں ایک اور سوراخ کرنے کے مترادف ہے۔ لگتا یوں ہے کہ گورنمنٹ کو صرف کچھ موضوع چاہیے جس پر ارڈینینس نافذ کیا جائے۔ قوم کا کیا جاتا ہے ان کی بلا سے۔ یہ سب کچھ صرف الیکٹر ونک میڈیا کو کنٹرول کرنے کی ایک اور سازش ہے۔
عمر حیات کالس ۔ تھلہ متھرانی ۔ کوٹلی آزاد کشمیر [تجویز کنندہ 5 لوگ]

سائبر کرائمز کی روک تھام کے لۓ کوئی قانون تو ہونا چاہيے ليکن نگراں حکومت کو صرف انتخابات کے انعقاد پر اپنی توجہ مرکوز رکھنی چاہيے، قانون سازی اس کا مينڈيٹ نہيں ہے۔ ہاں اگر يہ کچھ کرنا ہی چاہے تو آٹے کی فراہمی اور قيمتوں پر کنٹرول کرنے جيسا بنيادی کام ہی کر لے تو بڑی بات ہوگی۔ آٹا ، بجلی اور گيس غائب ہے اور چلے انٹرنيٹ پر غور کرنے۔۔۔۔
محمد خالد جانگڈا ۔ کراچی ۔ پاکستان [تجویز کنندہ 10 لوگ]

دو دفعہ ريٹائرڈ جنرل مشرف اپنے اقتدار پر مسلط رہنے کی ہر ہر تدبير کو پاکستانی مفاد قرار ديتے ہيں مگر 16 کروڑ عوام کے مفاد کا انکو بالکل خيال نہيں ہے۔ ان کا يہ قانون انکی اپنے اقتدار سے چمٹے رہنے کے خونی کھيل ميں کسی تصويری ثبوت سے بچنے کی تدبير کے علاوہ کچھ نہيں۔ آجکی دنيا ميں اليکٹرونک کی ہيجان خيز ترقی کو روکنا کسی مشرف کے بس کام نہيں۔ آمر کا اس طرح اليکٹرونک صحافت کو باندھنا تو نظر آتا ہے مگر اب عوام کو الو بنانا آسان نہيں۔ ايسا کرنے والوں کو منہ کی کھانی پڑے گی۔
چاند بٹ جرمنی [تجویز کنندہ 4 لوگ]

اس سے ڈکٹیٹرشپ کے نقصانات مزید اجاگر ہو رہے ہیں۔ عوامی رائے کو نظر انداز کر کر کے ان حضرات نے ملک کو تباہی کے دھانے پر لاکھڑا کیا ہے۔ کاش! یہ ابھی بھی ہوش کے ناخن لیں، بصورت دیگر جتنا نقصان پہلے سے ہوسکتا ہے اللہ نہ کرے کہ ہم اس سے بڑے نقصان سے دوچار ہو جائیں۔
ریاض شاہد ۔ لاہور ۔ پاکستان [تجویز کنندہ 2]

جس ملک ميں خواندگی کی شرح چالیس فیصد سے کم ھو، جہاں چالیس فیصد سے زيادہ لوگ خط افلاس سے نيچے زندگی گزار رھے ھوں، جہاں انٹرنٹ تک رسائی ہی بہت محدود تعداد لوگوں کی ھو، وھاں ايسی باتيں کرنا بےوقوفی سے زيادہ کچھ نہيں۔ انٹرنیٹ پر وھی جائيگا جو آٹا نہ ڈھونڈ رھا ھو اور يہ بھی ياد رکھنے کی بات ھے کہ انٹرنیٹ بجلی سے چلتا ھے۔
ظھور ۔ رياض ۔ سعودی عرب [تجویز کنندہ 2]

زمرہ : گذارش | تبصرہ کرنے میں پہل کیجیے »