What Am I میں کیا ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

ميرا مقصد انسانی فرائض کے بارے میں اپنےعلم اور تجربہ کو نئی نسل تک پہنچانا ہے ۔ رَبِّ اشْرَحْ لِی صَدْرِی وَيَسِّرْ لِی أَمْرِی وَاحْلُلْ عُقْدة مِنْ لِسَانِی يَفْقَھُوا قَوْلِی



تختۂ کار

محفوظہ برائے December, 2007

جمہوریت کا قتل

مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 28 Dec 2007

اِنّا للہِ وَ اِنّا اِلَیہِ رَاجِعُون
یہ سال جو 3 دن بعد ختم ہونے والا ہے ۔ ملک کی 60 سالہ زندگی کا بد ترین سال بن کر رہ گیا ہے ۔ ستم تو فوجی آمر ڈھاتے ہی ہیں مگر پرویز مشرف نے ظُلم میں پاکستان کے دُشمنوں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ۔ اس سال میں ظُلم کے چیدہ چیدہ واقعات یہ ہیں

باجوڑ کے دینی مدرسہ پر میزائل یا بم مار کر 80 سے زائد طلباء اور اساتذہ شہید کئے گئے جن میں 30 طلباء کی عمریں 9 اور 15 سال کے درمیان تھیں ۔ اِنّا للہِ وَ اِنّا اِلَیہِ رَاجِعُون
جنوبی اور پھر شمالی وزیرستان پر فوج کشی اور بمباری جس میں بوڑھوں ۔ بچوں اور عورتوں سمیت سینکڑوں لوگ ہلاک ہوئے ۔ اِنّا للہِ وَ اِنّا اِلَیہِ رَاجِعُون ۔
پاکستان کے چیف جسٹس جناب افتخار محمد چوہدری کی معطلی
کراچی میں 12 مئی کا قتلِ عام ۔ اِنّا للہِ وَ اِنّا اِلَیہِ رَاجِعُون
لال مسجد جامعہ حفصہ آپریشن جس میں سینکڑوں طلباء و طالبات ہلاک ہوئے جن میں زیادہ تر 4 سے 17 سال کی بچیاں تھیں ۔ اِنّا للہِ وَ اِنّا اِلَیہِ رَاجِعُون ۔
کراچی میں بینظیر کے جلوس میں دھماکے جس میں 150 بیگناہ ہلاک ہوئے ۔ اِنّا للہِ وَ اِنّا اِلَیہِ رَاجِعُون
سوات پر فوج کشی جس میں اب تک سینکڑوں شہری اور فوجی ہلاک ہو چکے ہیں ۔ اِنّا للہِ وَ اِنّا اِلَیہِ رَاجِعُون
ایمرجنسی کے نام پر پرویز مشرف کا دوسرا مارشل لاء
پانچ درجن سے زائد سینئر ترین جج صاحبان کو سبکدوش کر کے قید کرنا
وکلاء اور صحافیوں پر بیہیمانہ پولیس تشدد
چارسدہ کی مسجد میں بم دھماکہ جس میں 60 نمازی شہید ہوئے ۔ اِنّا للہِ وَ اِنّا اِلَیہِ رَاجِعُون ۔
پورے ملک میں ڈکیتیوں میں بے پناہ اضافہ

اور کل یعنی جمعرات 27 دسمبر 2007ء کو

سہ پہر کے وقت مسلم لیگ نواز کا جلوس جب شاہراہ اسلام آباد پر کرال چوک کے قریب تھا تو سڑک کے کنارے اُونچی جگہ پر کیو لیگ کےرہنما نواز کھوکر کے گھر کی چھت سے جلوس پر گولیاں چلائی گئیں جس میں 11 آدمی ہلاک اور 3 درجن زخمی ہوئے ۔ اِنّا للہِ وَ اِنّا اِلَیہِ رَاجِعُون ۔ پہلے خبر پھیلی کہ نواز شریف پر فائرنگ کی گئی ہے لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ نواز شریف اس جلوس میں شامل نہیں تھا ۔ اس نے راستہ بدل لیا تھا چنانہ یہ جلوس اس کے ساتھ شامل ہونے کیلئے جا رہا تھا ۔

پھر سورج غروب ہونے کے وقت یعنی 5 بج کر 5 اور 7 منٹ کے درمیان بینظیر بھٹو پر بالکل قریب سے گولیاں چلائی گئیں اور پھر زوردار دھماکہ ہوا ۔ بینظیر کو راولپنڈی جنرل ہسپتال ہسپتال لیجایا گیا جو وہاں سے ڈیڑھ کلو میٹر کے فاصلہ پر ہے جہاں ڈاکڑ پروفیسر مصدق اس کی جان بچانے میں ناکام رہے ۔ اِنّا للہِ وَ اِنّا اِلَیہِ رَاجِعُون ۔ سرکاری مسلک ہے کہ بینظیر خودکُش حملہ کے نتیجہ میں ہلاک ہوئیں جبکہ قُرب و جوار میں موجود لوگوں اور کچھ صحافیوں کے مطابق بینظیر گولیوں سے اور باقی 29 لوگ دھماکے کے نتیجہ میں ہلاک ہوئے ۔ اِنّا للہِ وَ اِنّا اِلَیہِ رَاجِعُون ۔ 100 کے قریب زخمی ہوئے جن میں ناہید خان کی حالت تشویشناک ہے ۔

بلاشبہ میں بینظیر کا حامی کبھی نہیں رہا اور اس کے کئی خیالات کی مخالفت بھی کرتا رہا لیکن بینظیر ہمارے ملک کے دو مقبول ترین رہنماؤں میں سے ایک تھیں ۔ ظُلم ظُلم ہوتا ہے اور اللہ نے ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل قرار دیا ہے ۔ میں اس کی پرزور مذمت کرتا ہوں اور میری ہمدردیاں ان بچوں کے ساتھ ہیں جو ماں سے محروم ہو گئے ۔ بینظیر کا قتل بقول نواز شریف “جمہوریت کا قتل ہے ۔ عوام کی خواہشات کا قتل ہے ۔ عوام کا قتل ہے ۔ ملک کا قتل ہے “۔

جمرات 27 دسمبر کے دونوں واقعات پاکستان کے خلاف ایک گہری سازش معلوم ہوتے ہیں جسے روکنے میں موجودہ خودغرض حکومت بُری طرح ناکام رہی ہے ۔ موجودہ حکومت کی نااہلی اور غلط پالیسیوں نے اس ملک کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے ۔ میری دعا ہے ” اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی ہمارے گناہ معاف فرمائے ۔ ہمیں ان نااہل اور خودغرض حکمرانوں سے نجات دلائے اور ان کی جگہ مُلک و ملت کا درد رکھنے والے حکمران عطا فرمائے”۔

زمرہ : خبر, گذارش | 4 تبصرے »

معذرت

مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 24 Dec 2007

میں معذرت خواہ ہوں کہ عید الاضحٰے سے ایک دن پہلے شدید بیمار ہو جانے کی وجہ سے آج ہی کمپوٹر چلایا ہے اسلئے کسی کا بلاگ یا اپنے بلاگ پر تبصرہ نہ دیکھ سکا اور نہ کسی کی ای میل دیکھ کر جواب دے سکا ۔ اب میں انشاء اللہ آہستہ آہستہ سب کام کروں گا کیونکہ ابھی پوری طرح صحتیاب نہیں ہوا ۔

زمرہ : آپ بيتی | 11 تبصرے »

انوکھا اُستاذ

مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 24 Dec 2007

پاکستان بننے سے پہلے کے بھی مُجھے سارے اساتذہ ياد ہيں اور ميں اب تک اُن کو ياد کر کے دعائيں ديتا رہتا ہوں ۔ وہ تھے اُردو کے ہدائت حسين ۔ حساب کے بھگوان داس ۔ انگريزی کی مِسِز گُپتا ۔ تينوں بہت مُشفق اور محنت سے پڑھانے والے ۔ پاکستان بننے کے بعد اسلاميہ مڈل سکول اور مُسلم ہائی سکول ميں جنہوں نے مُجھے پڑھايا ۔ انگريزی کے نبی بخش ۔ نذير احمد قريشی ۔ ظہور احمد ۔ رياضی کے نور حسين ۔ آُميد علی ۔ طفيل قريشی ۔ ہدائت اللہ ۔ سائنس کے ہدائت اللہ ۔ تاريخ جغرافيہ کے سبغت اللہ قريشی ۔ دينيات کے مولوی عبدالحکيم جو بعد ميں رُکن قومی اسمبلی مُنتخب ہوئے ۔ گارڈن کالج ميں رياضی کے خواجہ مسعود ۔ انگريزی کے وِکٹر کے مَل اور برک ۔ کيمياء کے نسيم اللہ اور ڈاکٹر ٹَيبی ۔ طبيعات کے مسعود انوراور ملِک محبوب الٰہی ۔ انجيئرنگ کالج کے ڈاکٹر احمد حسن قريشی ۔ ڈاکٹر اکرام اللہ ۔ ڈاکٹر مُبشّر حسن ۔ عنائت علی قريشی ۔ سلطان حسين ۔ عبدالرّحمٰن ناصر ۔ چوہدری محمد رشيد ۔ مختار احمد ۔ ايم ۔ ايچ قريشی ۔ ظفر محمود خلجی ۔ وليم آرتھر ميلرز ۔ غرضیکہ سب ہی بڑی محنت سے پڑھاتے تھے ۔ بعد ميں جب بھی کبھی ان ميں سے کسی سے ملاقات ہوئی بہت اچھی طرح پيش آئے ۔ اِن ميں سے سوائے ايک اُستاذ کے ميرے دل ميں اب بھی سب کيلئے بڑی عزت ہے ۔

انجنيئرنگ کالج لاہور سے بی ايس ای انجنيئرنگ پاس کرنے کے بعد ميں نے دسمبر 1962 ميں پولی ٹيکنِک انسٹيٹيوٹ راولپنڈی ميں ملازمت شروع کی اور اللہ کی مہربانی اور اپنی محنت سے دو تين ماہ ہی ميں سينِئر اساتذہ اور پرنسپل صاحب کا منظورِ نظر بن گيا ۔ انسٹيٹيوٹ ميں پہلے سے ايک صاحب جو ميرے اُستاذ رہ چُکے تھے عارضی بندوبست کے تحت ملازم تھے ميں اُن کا احترام اپنے ساتھی کی بجائے اپنے اُستاذ کے طور پر ہی کرتا تھا ۔

ايک دن صبح سويرے انسٹيٹيوٹ پہنچ کر ميں اپنے دفتر کی طرف جا رہا تھا کہ پرنسپل صاحب کے دفتر کے پاس سے گذرنے کے بعد راستہ ميں اپنے سابق اُستاذ سے ملاقات ہوئی ۔ ميں نے سلام و نياز پيش کئے ۔ چلتے وقت اُنہون نے مجھ سے پوچھا ۔ آپ پرنسِپل صاحب سے مل کر آ رہے ہيں ؟ ميں نے کہا ۔ نہيں ميں پرنسپل صاحب سے نہيں ملا ۔ ميری پہلی کلاس ہے اس لئے جلدی ميں ہوں ۔ ميں اپنے دفتر پہنچا اور نوٹس اور کتاب لے کر کلاس روم ميں چلا گيا ۔ 40 منٹ بعد کلاس ختم ہوئی تو ايک سينيئر اُستاذ ميرے دفتر ميں آئے اور پوچھا کہ آپ صبح دير سے آئے تھے ؟ ميرے نہيں کہنے پر وہ کہنے لگے کہ ميں پرنسپل صاحب کے پاس بيٹھا تھا کہ آدھا گھينٹہ قبل آپ کے سابق اُستاذ تشريف لائے اور بولے ” آپ نے اجمل بھوپال کو تو نہيں ديکھا ؟” اور ميرے جواب کا انتظار کئے بغير پرنسپل صاحب کی طرف رُخ کر کے کہا ”سَر ۔ ميں صبح سے اجمل بھوپال کو ڈھونڈ رہا ہوں ليکن نہيں ملے ۔ وہ چھُٹی پر تو نہيں ؟”

ميں آج پہلی بار اس واقعہ کا ذکر کر رہا ہوں ۔ اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی کی قُدرت ديکھئے کہ وہ صاحب اپنی اس غَلَط حرکت سے ميرا تو کچھ نہ بگاڑ سکے البتہ خود وہ کم از کم ميری اور ايک اپنے سے سينئر اُستاذ کی نظروں ميں گِر گئے ۔ يہ حقيقت ہے کہ جو انسان حَسَد کا شکار ہو جائے اُس کا ضمير مر جاتا ہے ۔ اللہ ہميں حَسَد کرنے اور جھوٹ بولنے سے بچائے ۔ آمين

زمرہ : آپ بيتی | 2 تبصرے »

عیدالاضحٰے مبارک

مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 20 Dec 2007

اللہُ اکبر اللہُ اکبر لَا اِلَہَ اِلْاللہ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ لَہُ الّمُلْکُ وَ لَہُ الْحَمْدُ وَ ھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیٍ قَدِیر
اللہُ اکبر اللہُ اکبر لا اِلہَ اِلاللہ و اللہُ اکبر اللہُ اکبر و للہِ الحمد
اللہُ اکبر کبِیرہ والحمدُللہِ کثیِرہ و سُبحَان اللہِ بکرۃً و أصِیلا

سب قارئین اور ان کے اہلِ خانہ کو عیدالاضحٰے مبارک ۔ جنہوں نے حج کیا ہے انہیں حج مبارک ۔ اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی ان کا حج قبول فرمائے ۔ اللہ الرحمٰن الرحیم سب کو اچھی صحت عطا فرمائے اور خوشی اور خوشحالی نصیب کرے ۔ برائیوں سے بچائے اور نیکی کی راہ پر ثابت قدم کرے ۔ بُرے حاکموں سے نجات دلائے اور باعمل مسلمان حاکم نصیب فرمائے جو اپنی جیبیں بھرنے کی بجائے عوام کی خوشحالی کیلئے کوشاں ہوں اور اپنی کرسی مضبوط کرنے کی بجائے قوم اور ملک کو مضبوط کریں ۔ آمین یا رب العالمین ۔

زمرہ : پيغام | 7 تبصرے »

تمام انسان برابر ہیں سوائے ۔ ۔ ۔

مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 19 Dec 2007

تمام انسان برابر ہیں سوائے اس کے کوئی تقوٰی کی وجہ سے اعلٰی ہو ۔

راشد کامران صاحب کے ایک تبصرہ “بر صغیر ۔ جہاں‌ ہر عمل اور ہر بات صرف اپنی یا اپنی ذات کی بڑائی دکھانے کے لیے کی جاتی ہے ۔ ۔ ۔ یہ سلسہ تبھی تھمے گا جب ہم “تقوی”‌ کے عزت کا میعار بنائیں” نے مجھے یہ مضمون لکھنے پر مائل کیا ۔ ‌

تقوٰی کے متعلق محققین علماء نے کتابیں لکھی ہیں جن کا احاطہ کرنا مجھ جیسے دو جماعت پاس کے بس کی بات نہیں ۔ میں تو اتنا جانتا ہوں کہ تقوٰی کے معنی ہیں چھوڑ دینا اور دین اسلام کے تحت تقوٰی کا مطلب ہوا کہ ہر اس چیز اور عمل کو چھوڑ دینا جس کا تعلق اللہ کے ساتھ نہ ہو ۔ دوسرے طریقہ سے بیان کریں تو تقوٰی کا مطلب ہے کہ ہر وہ چیز اور عمل چھوڑ دینا جس کے چھوڑنے کا اللہ نے کہا ہے اور ہر اس چیز اور عمل کو اپنا لینا جس کا تعلق اللہ کی خوشنودی سے ہو ۔

مسلمان ہونے کے ناطے ہمارا فرض ہے کہ ہم اللہ کی اطاعت کریں ۔ اطاعت اس طرح کی نہیں جیسی ہم بازاروں مین اور دفتروں مین کرتے ہیں کہ سامنے تو بیت اچھے اور پیچھے کسی کی پرواہ نہیں ۔ ہاں اگر ہم یہ یاد رکھیں اللہ ہر وقت دیکھ رہے ہیں اور فرشتے ہمارے عمل کی مکمل سند تیار کر رہے ہیں جس کیلئے ہماری پیشی ہو گی اور ہر غلط کام کی سزا بھُگتنا پرے گی تو پھر ہم کبھی بھول کر بھی کوئی ایسا کام نہیں کریں گے جو اللہ کے حکم کے خلاف ہو یا جس سے اللہ کی خوشنودی حاصل نہ ہو ۔ ایسا کرنے والا آدمی ہی متقی ہے اور متقی بہادر اور مطمئن ہوتا ہے ۔

قرآن شریف سے پہلے کی الہامی کتب یعنی زبور ۔ تورات اور انجیل میں بہت تحریفات کی جا چکی ہیں لیکن ابھی بھی ان میں کچھ باتیں صحیح حالت میں موجود ہیں ۔ آج لوگوں کی اکثریت کا یہ حال ہے کہ بمطابق انجیل “انہیں دوسروں کی آنکھ کا تنکا تو نظر آتا ہے لیکن وہ اپنی آنکھ کے شہتیر کو نہیں دیکھ سکتے”۔ تورات میں ہے “ہم چیزوں کو اس طرح نہیں دیکھتے جس طرح کی وہ ہیں بلکہ اس طرح دیکھتے ہیں جس طرح کے ہم ہیں”۔ ہمارے ہاں ایک محاورہ عام استعمال ہوتا ہے “آئینہ میں اپنی ہی شکل نظر آتی ہے”۔

اگر دوسروں کے اندر عیب تلاش کرنا اور دوسروں کے عیب گننا چھوڑ کر اپنی اصلاح پر توجہ دی جائے تو انسان تقوٰی کی منزل کو پہنچ سکتا ہے ۔

زمرہ : روز و شب, معاشرہ | تبصرہ کرنے میں پہل کیجیے »