چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس افتخار حسین چودھری کی سربراہی میں سہ رکنی فل بنچ نے رجسٹرار لاہور ہائیکورٹ کے درخواست پر کارروائی کرتے ہوئے پی سی او کے تحت حلف نہ لینے والے جسٹس ایم اے شاہد صدیقی سے سرکاری رہائشگاہ خالی کرانے پر ہونے والے مظاہروں پر قابو پانے میں ناکامی پر چیف سیکرٹری پنجاب، کیپٹل سٹی پولیس چیف اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کو توہین عدالت کے نوٹس جاری کر دیے ہیں۔ درخواست میں کہا گیا تھا کہ 5 نومبر کی رات بعض شریر عناصر ٹولٹن روڈ پر جمع ہوئے اور آدھی رات کے وقت نعرے لگائے جس سے علاقے کا سکون برباد ہوگیا۔ ان افراد نے ججوں کی گاڑیوں سمیت دیگر گاڑیوں کو روکا اور الیکٹرنک میڈیا علاقے میں ان کارروائیوں کی کوریج کرتا رہا حالانکہ میڈیا کو اس علاقہ میں داخلے کی اجازت نہیں ہے۔
ادھر جمعرات کو رات گئے پولیس نے جسٹس ایم اے شاہد صدیقی کی سرکاری رہائشگاہ پر ان کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنے والے دو خواتین وکلاء سمیت دس افراد دس افراد کو حراست میں لے کر ان کے خلاف خلاف ریس کورس تھانے میں اندیشۂ نقص امن اور پولیس کے کام میں بے جا مداخلت سمیت دیگر الزامات کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔ وکلاء، طلبہ اور سول سوسائٹی کے ارکان نے ان گرفتاریوں کے خلاف پولیس سٹیشن کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے۔ اس سے قبل سابق ججوں کی بیگمات، وکلاء اور سول سوسائٹی کے ارکان نے جمعرات کی دوپہر جسٹس صدیقی کی رہائشگاہ کے باہر بھی مظاہرہ کیا تھا ۔
جسٹس ایم اے شاہد صدیقی دل میں تکلیف کے باعث مقامی ہسپتال میں زیر علاج ہیں جبکہ وکلاء ، طلبہ اور سول سوسائٹی کے ارکان سرکاری رہائش گاہ خالی کرنے کے نوٹس کے اجراء کے بعد سے جسٹس صدیقی سے اظہارِ یکجہتی کے لیے ان کے گھر باہر جمع ہوتے رہے ہیں۔