What Am I میں کیا ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

ميرا مقصد انسانی فرائض کے بارے میں اپنےعلم اور تجربہ کو نئی نسل تک پہنچانا ہے ۔ رَبِّ اشْرَحْ لِی صَدْرِی وَيَسِّرْ لِی أَمْرِی وَاحْلُلْ عُقْدة مِنْ لِسَانِی يَفْقَھُوا قَوْلِی



تختۂ کار

محفوظہ برائے December 1st, 2007

پَلوَشہ کا خط

مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 01 Dec 2007

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی صاحبزادی 19 سالہ پلوشہ افتخار چوہدری جسے گھر میں پیار سے پنکی کے نام سے پکارا جاتا ہے نے پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے تمام جج صاحبان کے نام ایک خط میں کہا ہے جس کا متن یہ ہے

مجھ کو آپ پر فخر ہے۔ اس وقت حالات ٹھیک نہیں لیکن یہ ہمارا امتحان ہے۔ ہم کو اس پر فخر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس ملک کی خاطر قربانی کے لئے ہم کو چنا ۔ یہ ایک ایسی قربانی ہے جو ہمیں اپنے لئے نہیں بلکہ اس ملک کی خاطر ایک روایت کے طور پر دینی ہے ۔ ہماری زندگی ایک درخت اور عدلیہ اس کی شاخ ہے ۔ ہمیں اس شاخ کے ساتھ بڑا ہونا ہے ۔ ہم کسی کو یہ اجازت نہیں دے سکتے کہ اس شاخ کے ٹکڑے کردے ۔ اگر ہم اس کی حفاظت نہیں کریں گے تو کون کرے گا ۔

چاہے ہم کو اسکول یا یونیورسٹی جانے کی اجازت نہیں ۔ موبائل فون بند کر دیئے گئے ہیں ۔ کسی سے ملنے کی اجازت نہیں دی جاتی ۔ ہم کو گھروں میں قیدیوں کی طرح بند کر دیا گیا ہے ۔ چاہے ہم سے دہشت گردوں جیسا سلوک کیا جائے لیکن ہم کو اس کی پرواہ نہیں ۔ کیونکہ ہمیں یہ قربانی دینی ہے ۔ آنے والوں کو یہ بتانے میں فخر محسوس کریں گے کہ بے شک اس وقت حالات کتنے ہی سنگین کیوں نہ تھے ہمارے بزرگ کسی کے سامنے دباؤ میں نہیں آئے اور اسی وجہ سے ہم ہمیشہ اپنے سر اٹھاکرچلیں گے ۔ میں آپ تمام کی اس لافانی تحفہ دینے پر شکرگزار ہوں

مجھے امید ہے کہ آپ کی صحت بہتر ہوگی اور آپ میرا خط پڑھیں گے ۔

آپ سب سے محبت کے ساتھ آپ کی پنکی ۔
پَلوَشہ افتخار چوہدری

زمرہ : روز و شب, معاشرہ | تبصرہ کرنے میں پہل کیجیے »