ڈٹھا کھوتیوں غصہ کمیار تے

عنوان پوٹھوہاری زبان کی ضرب المثل ہے جس کا مطلب ہے کہ ایک شخص کمہار سے گدھا مستعار لے کر اس پر سواری کر رہا تھا کہ گر گیا اور گالیاں کمہار کو دینے لگا ۔ اسی طرح اگر روٹی پکانے والا روٹی جلا دے یا ٹھیک نہ پکائے اور گالیاں گندم اُگانے والے کسان کو دی جائیں ۔ کوئی ریاضی کو سمجھے بغیر ہی کہے کہ ریاضی بہت بُرا مضمون ہے یا طب کی تعلیم تو حاصل نہ کرے اور کہے کہ سب طبیب یعنی ڈاکٹر جاہل ہیں یا ظالم ہیں کہ لوگوں کے پیٹ چاک کر دیتے ہیں ۔ یہ سب کہاں کی عقلمندی ہے ؟ اور ایسے شخص کو کون تعلیم یافتہ کہے گا ؟ لیکن دورِ حاضر میں انسانوں کی اکثریت کی یہی عادت ہے جو ستاروں پہ کمندیں تو ڈالنے لگ گئے ہیں لیکن اپنے ذہن کی تربیت کرنے میں معذور دکھائی دیتے ہیں ۔

دورِ حاضر کا انسان عقل کو حیران کرنے والی نئی نئی ایجادات سے اتنا محسور ہو گیا ہے کہ اس نے اپنی عقل سے سوچنا چھوڑ دیا ہے اور ذرائع ابلاغ پر تکیہ کر لیا ہے جو کہ ایک مخصوص طبقہ کے دستِ نگر ہیں اور یہ مخصوص طبقہ آج کی دنیا میں بسنے والوں کا خدا بن بیٹھا ہے ۔ جو خبر ٹی وی ۔ اخبار یا انٹرنیٹ پر آ جائے وہ حرفِ آخر بن جاتی ہے خواہ کتنی ہی غلط ہو اور انہی کچھ سچی کچھ جھوٹی اور کچھ من گھڑت خبروں میں حقائق گم ہو کر رہ جاتے ہیں ۔

بلاشبہ اسلام دشمنی محسوس اور غیر محسوس طور پر شیطان کے پیروکاروں کا اولین ہدف رہا ہے لیکن دنیا میں کمیونزم کا زور ٹوٹنے کے بعد اسلام دشمن قوتوں نے تماتر توجہ اسلام کی بیخ کنی پر لگا دی ۔ اسلام کے پروکاروں کو اصل راستہ سے ہٹانے کیلئے ان میں تفرقہ ڈالنے کی کوششین تو کئی صدیاں قبل ہی شروع کر دی گئی تھیں ۔ پچھلی صدی میں ان کوششوں کو نیا رنگ اور نیا جذبہ عطا کیا گیا ۔ راہ گم کردہ مسلمانوں کو پُرکشش نئے نعرے دیئے گئے جن میں انسانی حقوق ۔ عورتوں کی برابری سرِ فہرست ہیں ۔ حالانکہ اسلام ہی وہ دین ہے جو انسانی حقوق کو اولیں ترجیح دیتا ہے اور جس نے نہ صرف عورتوں کو مردوں کے برابر حقوق دیئے ہیں بلکہ عورت کو ہر ایک کیلئے قابلِ احتران ٹھہرایا ہے ۔ کچھ دُور اُفتادہ علم حاصل کرنے کی دسترس نہ رکھنے والوں کی کچھ سچی اور زیادہ جھوٹی مثالیں بیان کر کے انہیں ہوا دی گئی اور ساری دنیا کے ذرائع ابلاغ پر ہاہا کار مچ گئی ۔ دین اسلام کے علم سے عاری مسلمان پے در پے اس اشتہاربازی کا شکار ہونے لگے ۔

افسوس تو اس بات کا ہے کہ مسلمان کے فرائض و حقوق سے ناواقف مسلمان کہلانے والے خود اپنے ہی دین کے خلاف زبان درازی کرنے لگے ۔ کوئی بیٹا اپنی اس ماں جس کے بطن سے وہ پیدا ہوا تھا کو فاحشہ کہے تو اکثر لوگ اس پر لعنت بھیجیں گے لیکن کچھ اس پر تالیاں بجانے والے بھی ہوں گے ۔ صد افسوس کہ دین اسلام جس کا درجہ ۔ احترام اور اطاعت ماں سے بھی بہت بڑھ کر لازم ہے اس کے خلاف مسلمان زبان درازی کرنے پر اُتر آئے ۔ اور پھر انہیں دعوٰی مسلمانی کا ہے ۔

ایک بلاگر کا دماغ کسی ناگہانی صدمہ کو برداشت نہ کر سکا اور ماؤف ہو کر اپنی مسلمانی پر ہی دشنام طرازی کرنے لگا ۔ اسی پر بس نہیں چند اپنے آپ کو ارسطو اور سقراط سمجھنے والوں کو گویا اپنے حلق کی صفائی کرنے کا موقع مل گیا اور انہوں نے اپنے دل کی حسرتیں جی بھر کر پوری کیں ۔

مثل مشہور ہے کہ کسی نے چاند پر تھوکا اور اپنا ہی منہ گندا ہوا ۔ ان عقلمندوں کو یہ بھی علم نہیں کہ اگر پانی کو آگ کہہ دیا جائے پھر بھی وہ پانی ہی رہے گا آگ نہیں بنے گا ۔

آج کی انفارمیشن ٹیکنالوجی کی دنیا کا تحقیقتی نتیجہ جو ہزاروں سال قبل الہامی کتاب میں موجود تھا یہ ہے کہ “ہم چیزوں کو اس طرح نہیں دیکھتے جس طرح کی وہ ہیں بلکہ اس طرح دیکھتے ہیں جس طرح کے ہم ہیں”

عقلمند اور تعلیم یافتہ انسانوں کو چاہیئے کہ اس اصول کو یاد رکھ کر اپنے باعلم ہونے کا ثبوت دیں ۔ اللہ ہمیں کفر اور شیطان کی پیروی سے بچائے ۔ آمین یا رب العالمین آمین ۔

This entry was posted in روز و شب on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

4 thoughts on “ڈٹھا کھوتیوں غصہ کمیار تے

  1. وقار علی روغانی

    اور جب تک جذباتیت کا غلبہ ہے یہ ملک اسی طرح رہے گا ؛ کچھ بھی تبدیل نہیں‌ ہوگا۔

  2. روسی شہری

    یہ ملک اسی طرح رہے گا ؛ کچھ بھی تبدیل نہیں‌ ہوگ :mrgreen: سچ ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  3. اجمل Post author

    محمد شاکر عزیز ۔ وقار علی روغانی اور روسی شہری صاحبان
    تبدیلی آنے کے دو طریقے ہیں ۔ ایک کہ لوگ اپنے آپ کو بدلیں اور دوسرا کہ کوئی آفت آئے ۔ اللہ کرے کہ آفت آنے سے پہلے لوگوں کو عقل آ جائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)