جمہوریت کا قتل

اِنّا للہِ وَ اِنّا اِلَیہِ رَاجِعُون
یہ سال جو 3 دن بعد ختم ہونے والا ہے ۔ ملک کی 60 سالہ زندگی کا بد ترین سال بن کر رہ گیا ہے ۔ ستم تو فوجی آمر ڈھاتے ہی ہیں مگر پرویز مشرف نے ظُلم میں پاکستان کے دُشمنوں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ۔ اس سال میں ظُلم کے چیدہ چیدہ واقعات یہ ہیں

باجوڑ کے دینی مدرسہ پر میزائل یا بم مار کر 80 سے زائد طلباء اور اساتذہ شہید کئے گئے جن میں 30 طلباء کی عمریں 9 اور 15 سال کے درمیان تھیں ۔ اِنّا للہِ وَ اِنّا اِلَیہِ رَاجِعُون
جنوبی اور پھر شمالی وزیرستان پر فوج کشی اور بمباری جس میں بوڑھوں ۔ بچوں اور عورتوں سمیت سینکڑوں لوگ ہلاک ہوئے ۔ اِنّا للہِ وَ اِنّا اِلَیہِ رَاجِعُون ۔
پاکستان کے چیف جسٹس جناب افتخار محمد چوہدری کی معطلی
کراچی میں 12 مئی کا قتلِ عام ۔ اِنّا للہِ وَ اِنّا اِلَیہِ رَاجِعُون
لال مسجد جامعہ حفصہ آپریشن جس میں سینکڑوں طلباء و طالبات ہلاک ہوئے جن میں زیادہ تر 4 سے 17 سال کی بچیاں تھیں ۔ اِنّا للہِ وَ اِنّا اِلَیہِ رَاجِعُون ۔
کراچی میں بینظیر کے جلوس میں دھماکے جس میں 150 بیگناہ ہلاک ہوئے ۔ اِنّا للہِ وَ اِنّا اِلَیہِ رَاجِعُون
سوات پر فوج کشی جس میں اب تک سینکڑوں شہری اور فوجی ہلاک ہو چکے ہیں ۔ اِنّا للہِ وَ اِنّا اِلَیہِ رَاجِعُون
ایمرجنسی کے نام پر پرویز مشرف کا دوسرا مارشل لاء
پانچ درجن سے زائد سینئر ترین جج صاحبان کو سبکدوش کر کے قید کرنا
وکلاء اور صحافیوں پر بیہیمانہ پولیس تشدد
چارسدہ کی مسجد میں بم دھماکہ جس میں 60 نمازی شہید ہوئے ۔ اِنّا للہِ وَ اِنّا اِلَیہِ رَاجِعُون ۔
پورے ملک میں ڈکیتیوں میں بے پناہ اضافہ

اور کل یعنی جمعرات 27 دسمبر 2007ء کو

سہ پہر کے وقت مسلم لیگ نواز کا جلوس جب شاہراہ اسلام آباد پر کرال چوک کے قریب تھا تو سڑک کے کنارے اُونچی جگہ پر کیو لیگ کےرہنما نواز کھوکر کے گھر کی چھت سے جلوس پر گولیاں چلائی گئیں جس میں 11 آدمی ہلاک اور 3 درجن زخمی ہوئے ۔ اِنّا للہِ وَ اِنّا اِلَیہِ رَاجِعُون ۔ پہلے خبر پھیلی کہ نواز شریف پر فائرنگ کی گئی ہے لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ نواز شریف اس جلوس میں شامل نہیں تھا ۔ اس نے راستہ بدل لیا تھا چنانہ یہ جلوس اس کے ساتھ شامل ہونے کیلئے جا رہا تھا ۔

پھر سورج غروب ہونے کے وقت یعنی 5 بج کر 5 اور 7 منٹ کے درمیان بینظیر بھٹو پر بالکل قریب سے گولیاں چلائی گئیں اور پھر زوردار دھماکہ ہوا ۔ بینظیر کو راولپنڈی جنرل ہسپتال ہسپتال لیجایا گیا جو وہاں سے ڈیڑھ کلو میٹر کے فاصلہ پر ہے جہاں ڈاکڑ پروفیسر مصدق اس کی جان بچانے میں ناکام رہے ۔ اِنّا للہِ وَ اِنّا اِلَیہِ رَاجِعُون ۔ سرکاری مسلک ہے کہ بینظیر خودکُش حملہ کے نتیجہ میں ہلاک ہوئیں جبکہ قُرب و جوار میں موجود لوگوں اور کچھ صحافیوں کے مطابق بینظیر گولیوں سے اور باقی 29 لوگ دھماکے کے نتیجہ میں ہلاک ہوئے ۔ اِنّا للہِ وَ اِنّا اِلَیہِ رَاجِعُون ۔ 100 کے قریب زخمی ہوئے جن میں ناہید خان کی حالت تشویشناک ہے ۔

بلاشبہ میں بینظیر کا حامی کبھی نہیں رہا اور اس کے کئی خیالات کی مخالفت بھی کرتا رہا لیکن بینظیر ہمارے ملک کے دو مقبول ترین رہنماؤں میں سے ایک تھیں ۔ ظُلم ظُلم ہوتا ہے اور اللہ نے ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل قرار دیا ہے ۔ میں اس کی پرزور مذمت کرتا ہوں اور میری ہمدردیاں ان بچوں کے ساتھ ہیں جو ماں سے محروم ہو گئے ۔ بینظیر کا قتل بقول نواز شریف “جمہوریت کا قتل ہے ۔ عوام کی خواہشات کا قتل ہے ۔ عوام کا قتل ہے ۔ ملک کا قتل ہے “۔

جمرات 27 دسمبر کے دونوں واقعات پاکستان کے خلاف ایک گہری سازش معلوم ہوتے ہیں جسے روکنے میں موجودہ خودغرض حکومت بُری طرح ناکام رہی ہے ۔ موجودہ حکومت کی نااہلی اور غلط پالیسیوں نے اس ملک کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے ۔ میری دعا ہے ” اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی ہمارے گناہ معاف فرمائے ۔ ہمیں ان نااہل اور خودغرض حکمرانوں سے نجات دلائے اور ان کی جگہ مُلک و ملت کا درد رکھنے والے حکمران عطا فرمائے”۔

This entry was posted in خبر, گذارش on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

4 thoughts on “جمہوریت کا قتل

  1. اجمل Post author

    ساجد اقبال صاحب
    میں لیاقت علی خان صاحب کے قتل کا بھی شاہد ہوں ۔ نجانے ابھی کیا کچھ دیکھنا ہے ؟

  2. ابوشامل

    شکر ہے فاروق ستار بچ گیا (حالات کی ستم ظریفی دیکھیے ایسے ایسوں کے بچ جانے پر بھی شکر ادا کرنا پڑ رہا ہے :( ) ورنہ کراچی والوں نے پیپلز پارٹی والوں کی کیا ہنگامہ آرائی دیکھی ہوگی جو یہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دکھاتے۔ :twisted:

  3. اجمل Post author

    ابو شامل صاحب
    زندگی موت تو اللہ کے ہاتھ میں ہے لیکن اس کی موت سے بہت سے لوگوں کی غلط فہمی دور ہو جاتی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)