ایک اچھا مشورہ

میں نے اک عمر گذاری ہے گردشِ دوراں کے ساتھ لیکن میرے خالق و مالک نے مجھے اس سَیلِ رواں کے ساتھ بہہ جانے سے ہمیشہ بچایا ۔ میں اپنے اللہ الرحمٰن الرحیم کا جتنا بھی شکر بجا لاؤں کم ہے ۔ میرے پرانے قارئین جانتے ہونگے کہ میں نے بینظیر کے جس مسلک کو غلط سمجھا اس کی کھُل کر مخالفت کی ۔ میں اس کا کبھی ووٹر بھی نہیں رہا ۔

میری تمام مسلمان قارئین سے درخواست ہے کہ صرف اپنی بہتری اور اپنی اچھی عاقبت کیلئے کسی بھی مرنے والے کے خلاف کوئی کلمہ لکھنا یا زبان پر لانا تو کیا سوچیں بھی نہیں کیونکہ روح قفسِ عنصری سے پرواز کرتے ہی مرنے والے کا حساب کتاب اللہ کے ہاں شروع ہو جاتا ہے ۔ ایسی صورت میں اس کی اچھائی بیان کرنا یا اس کیلئے مغفرت کی دعا کرنا نیک عمل ہے بشرطیکہ وہ مسلمان ہو بیشک گنہگار ہو مگر اس کی برائی بیان کرنا اپنے گناہوں میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے ۔ اسلئے اب جبکہ کہ بینظیر عالمِ برزخ میں پہنچ چکی ہے اس کی برائیاں بیان نہ کریں ۔

وما علینا الالبلاغ

This entry was posted in پيغام, گذارش on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

4 thoughts on “ایک اچھا مشورہ

  1. خاور

    آپکا یه مشورھ ایک عام بندے کی حد تک تو ٹھیک ہے اور اور اخلاقی طور پر زندھ لوگ ایسا هی کرتےهیں که کسی مرنے والے کو بُرا نہیں کہتے
    مگر
    بے نظیر والے معاملے میں بات ہے دوسری که
    معامله ہے تاریخ کے لکھے جانے کا
    اگر اج کے لوگ ان کے کیے کاموں کو ان کی حقیقت کے طور پر نہیں لکھیں گے تو انے والی نسلوں کے ساتھ بے ایمانی ہو جائے گی ـ
    اور انے والے زمانے کے لکھاری لکھیں گے که اکیسویں صدی کے بلاگر اخلاقیات کے نام پر منافقت کر گئے تهے
    اس وقت اپ لوگ جن کے هاتھ میں قلم ہے اپ وٹنس هیں اس زمانے کی برائیوں اور اچھائیوں کے
    اور شہادت کو چھپاننابهی گناھ ہے باقی جی
    آپ بهی سیانے هیں ـ
    یاد رکهیں که آپکا اج کا لکھا هوا هو سکتا ہے که صدیوں تک رھ جائے تو کیا آپ تاریخ میں بات کو چھپانے والوں میں شامل هونا پسند فرمائیں گے؟؟

  2. وقار علی روغانی

    میرے خیال میں کسی کے مرنے کے بعد اس کے ذاتی کردار کے حوالے سے بات کرنا اچھا نہیں تاہم اس کے ایسے کام جس سے دوسرے لوگ بھی متعلق ہوں اور ان کے بیان کرنے کی ضرورت ہو تو اسے بیان کرنا چاہیئے کیونکہ اس سے کافی مسائل جڑے ہوتے ہیں تاہم میں پھر بھی کہوں گا کہ ذاتی حوالے سے کسی کی برائی کرنا ٹھیک نہیں ۔ تاہم یہ بھی مانا جاتا ہے کہ سیاستدان “کھلی کتاب” کی طرح ہوتے ہیں یا وہ “پبلک پراپرٹی” ہوتے ہیں جنہیں کسی بھی وقت کسی بھی جگہ موضوع بنایا جاسکتا ہے ؛ میرے خیال میں یہ ایک تسلیم شدہ بات ہے اور اس کا برا بھی نہیں مانا جاتا ۔

    پاکستان کی تاریخ کا تجزیہ ہوگا تو بے نظیر صاحبہ سمیت سب مرحومین زیربحث آئیں گے ۔ اس سے مفر نہیں ۔

  3. اجمل Post author

    وقار علی روغانی صاحب
    آپ کا مؤقف درست ہے ۔ ایک رہنماء کا قوم و ملک سے متعلق کردار زیرِ بحث لایا جا سکتا ہے لیکن یہ کہنا دست نہیں کہ اس کو اپنے کئے کا بدلہ مل گیا ۔ بدلہ اللہ نے دینا ہوتا ہے اور وہی جانتا ہے کہ کیا کرنا ہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)