What Am I میں کیا ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

ميرا مقصد انسانی فرائض کے بارے میں اپنےعلم اور تجربہ کو نئی نسل تک پہنچانا ہے ۔ رَبِّ اشْرَحْ لِی صَدْرِی وَيَسِّرْ لِی أَمْرِی وَاحْلُلْ عُقْدة مِنْ لِسَانِی يَفْقَھُوا قَوْلِی



تختۂ کار

محفوظہ برائے November, 2007

احتجاج کے بیسویں دن کی جھلکیاں

مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 26 Nov 2007

زمرہ : خبر, روز و شب | تبصرہ کرنے میں پہل کیجیے »

احتجاج کے اُنیسویں دن کی جھلکیاں

مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 25 Nov 2007

زمرہ : خبر | تبصرہ کرنے میں پہل کیجیے »

دھماکوں کی مزید تفصیل

مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 24 Nov 2007

راولپنڈی پولیس کے ایک اعلٰی افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ دونوں دھماکوں میں تیس افراد مارے گئے ہیں۔ چشم دیدگواہوں کے مطابق حملے کا نشانے بننے والی بس جب کیمپ کے اندر داخل ہوئی تو ایک چھوٹی گاڑی بھی اس کے پیچھے اندر چلی گئی، پھر زوردار دھماکہ ہوا اور بس کو آگ لگ گئی۔ نشانہ بننے والی بس بری طرح جل چکی ہے اور ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا امکان ہے۔ ایک عینی شاہد کے مطابق جس وقت یہ دھماکہ ہوا تو اس وقت گاڑی میں 40 سے زائد افراد سوار تھے اور ہلاک ہونے والے افراد کی لاشیں قابل شناخت نہیں رہیں۔

دھماکے کے بعد جب مختلف ہسپتالوں کی ایمبولنس گاڑیاں وہاں پہنچیں تو موقع پر تعینات فوجی اہلکاروں نے انہیں کیمپ کے اندر جانے کی اجازت نہیں دی اور صرف فوج کی ایمبولنس گاڑیوں کو لاشیں اُٹھانے کی اجازت دی گئی۔

پولیس ذرائع کے مطابق بیالیس تابوت اوجڑی کیمپ میں بھیجے گئے ہیں اور اس واقعہ میں ہلاک ہونے والے کسی شخص کی لاش کو جی ایچ کیو نہیں بھیجا گیا۔

دوسرا دھماکہ جی ایچ کیو کے داخلی دروازے کے پاس ہوا جس میں ایک شدت پسند نے اپنی گاڑی چیک پوسٹ سے ٹکرا دی جس سے شدت پسند سمت دو افراد ہلاک ہوگئے۔

ان دھماکوں کی کوریج کے لیے جب میڈیا کے لوگ وہاں پہنچے تو حساس اداروں کے اہلکاروں نے ان سے کیمرے چھین لیے۔

گزشتہ دو ماہ کے دوران راولپنڈی میں پاکستانی فوج پر پانچ خودکش حملے ہوئے ہیں جن میں ساٹھ سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں ذیادہ تعداد فوجی اہلکاروں کی ہے اور قانون نافذ کرنے والے ادارے تاحال ان حملوں کا سراغ نہیں لگا سکے۔

زمرہ : خبر | تبصرہ کرنے میں پہل کیجیے »

راولپنڈی میں بم دھماکے

مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 24 Nov 2007

آج صبح سویرے راولپنڈی میں دو بم دھماکے ہوئے ۔ پہلادھماکہ فیض آباد کے علاقے میں مری روڈ پر آئی ایس آئی کے دفتر کے پاس حسّاس ادارے کی بس پر ہوا ۔ دھماکے کے بعد بس میں آگ لگ گئی اور بس مکمل طور پر تباہ ہو گئی ۔ اس میں مرنے والوں کی تعداد آئی ایس پی آر کے سربراہ میجر جنرل وحید ارشد نے 15 بتائی ہے جو کہ بہت بڑھ سکتی ہے کیونکہ بس میں 50 سے زائد افراد سوار تھے ۔ متعدد زخمی بتائے گئے ہیں ۔ دوسرا دھماکہ جی ایچ کیو کے قریب فوجی چیک پوسٹ پر ہوا جس میں ایک سیکورٹی اہلکار جاں بحق اور 3 زخمی ہوئے ۔ دھماکے اتنے طاقتور تھے کہ ان کی آواز دور دور تک سنائی دی ۔

دھماکوں کے بعد سیکورٹی فورسز نے ان علاقوں کو گھیرے میں لے لیا ۔ وقوعہ کی جگہ دونوں طرف قناتیں لگا کر مری روڈ بند کر دی گئی ہے کسی صحافی کو جائے وقوعہ کے قریب نہیں جانے دیا گیا ۔ جی ایچ کیو کے گرد کا علاقہ تو پہلے سے ہی عام آدمی کیلئے ممنوعہ ہے ۔ حملے کی خبر سن کر بڑی تعداد میں صحافی وہاں پہنچ گئے جنہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور ان کا سامان بھی چھینا گیا۔

زمرہ : روز و شب | تبصرہ کرنے میں پہل کیجیے »

پہلا نتیجہ

مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 23 Nov 2007

دولت مشترکہ نے پاکستان میں جمہوریت کی بحالی اور قانون کی بالادستی تک اس کی رکنیت معطل کر دی ہے۔ اس کے علاوہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کمشنر لویز آربر نے حلف نہ لینے والے ججوں کی فوری بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔ دولت مشترکہ نے پاکستان کی رکنیت معطل کرنے کا فیصلہ یوگنڈا میں تنظیم کے ایک اجلاس میں کیا جہاں اس تنظیم کے ترپن رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کی ایک کمیٹی نے کہا کہ پاکستان کو اس وقت تک تنظیم سے باہر رکھا جائے گا جب تک وہاں جمہوریت بحال اور قانون کی بالادستی قائم نہیں ہو جاتی۔ دولت مشترکہ کے سیکرٹری جنرل ڈان مکنن نے کہا کہ ترپن رکنی تنظیم نے یہ فیصلہ متفقہ طور کیا۔

برطانیہ کے وزیر خارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ نے کہا کہ تنظیم نے یہ فیصلہ غُصّے میں نہیں بلکہ افسوس کے ساتھ لیا ہے۔ انہووں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان جلد ہی دوبارہ تنظیم کا رکن بن جائے گا۔

دولت مشترکہ نے 12 نومبر کو لندن میں ایک اجلاس میں پاکستان کو 22 نومبر تک مہلت دی تھی کہ صدر مشرف فوجی وردی اتار دیں، ہنگامی حالت کو ختم کر کے آئین بحال کریں، عدلیہ کی آزادی یقینی بنائیں اور میڈیا پر عائد پابندیاں ختم کریں۔

اس سے قبل اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کمشنر لویز آربر نے کہا تھا کہ پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف کو لازماً ان ججوں کو بحال کرنا چاہئے جنہیں ایمرجنسی کے نفاذ کے وقت برطرف کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ایسا نہ کرنے کی صورت میں پاکستان میں جمہوریت ایک فریب ہوگا جہاں جج مکمل طور پر حکومت کے تابع ہو جائیں گے۔ آربر نے یہ بیان اس روز دیا جب پاکستان میں پی سی او کے تحت حلف لینے والے ججوں پر مشتمل سپریم کورٹ کے ایک بنچ جنرل پرویز مشرف کے بحیثیت صدر انتخاب کے خلاف آخری درخواست بھی نمٹا دی تھی۔

پاکستان کی دولت مشترکہ کی رکنیت اس سے پہلے انیس سو ننانوے میں معطل کی گئی تھی جب جنرل پرویز مشرف نے اقتدار سنبھالا تھا۔ اس کے بعد سن دو ہزار چار میں پاکستان کی رکنیت بحال ہوئی تھی۔

زمرہ : خبر | 2 تبصرے »