What Am I میں کیا ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

ميرا مقصد انسانی فرائض کے بارے میں اپنےعلم اور تجربہ کو نئی نسل تک پہنچانا ہے ۔ رَبِّ اشْرَحْ لِی صَدْرِی وَيَسِّرْ لِی أَمْرِی وَاحْلُلْ عُقْدة مِنْ لِسَانِی يَفْقَھُوا قَوْلِی



تختۂ کار

پس ثابت ہوا کہ ۔ ۔ ۔

750 بار دیکھا گیا مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ Nov 09 2007

مندرجہ ذیل حقائق بالخصوص ان قارئین کیلئے جنہیں حکومت نے نجی ٹی وی چینلز کو بلاک کر کے حقائق جاننے سے محروم کر دیا ہے ۔

جنرل پرویز مشرف نے 2 نومبر کو امریکی اور برطانوی حکومتوں کے اہلکاروں سے ٹیلیفون پر بات چیت کی اور پھر 3 نومبر کو ایمرجنسی کا نام دے کر مارشل لاء نافذ کر دیا ۔

جب ساری دنیا کے عوام اور ان کی اپوزیشن پارٹیوں احتجاج کیا تو ان کی حکومتیں احتجاج کرنے پر مجبور ہوئیں بالخصوص امریکہ اور برطانیہ احتجاج کرنے پر مجبور ہوئے ۔

پرویز مشرف نے اس خیال سے کہ امریکی احتجاج صرف “گونگلوآں تو مِٹی چاڑنا اے” احتجاج مسترد کر دیا ۔ [معذرت ۔ اس پنجابی ضرب المثل تشریح لمبی ہے اس لئے جو قاری نہ سمجھ سکیں کسی بڑی عمر کے پنجابی سے پوچھ لیں]

یقینی بات ہے کہ امریکہ کے سلسلہ میں بینظیر بھٹو نے بھی پاؤں دبایا ہو گا ۔

بدھ 8 نومبر صدر بُش نے پرویز مشرف کو ٹیلفون کرنے کے بعد بتایا “میں نے بے تکلف پرویز مشرف کے ساتھ بات کی اور اسے کہا کہ وردی اُتارے کیونکہ آرمی چیف اور صدر دونوں عہدے رکھنا درست نہیں اور الیکشن کے شیڈول کا اعلان کرے

بُش کا ٹیلیفون آنے کے 3 گھنٹے کے اندر اسلام آباد میں پرویز مشرف کی بنائی ہوئی سیکیورٹی کونسل کا ہنگامی اجلاس شروع ہو گیا جس کے اختتام پر پرویز مشرف نے اعلان کیا کہ اسمبلیوں کے انتخابات 15 فروری 2008 تک کسی ایک ہی دن ہوں گے اور عدالتِ عظمٰی جب صدر کے انتخابی نتائج کے اعلان کی اجازت دے گی تو وہ وردی اُتار دیں گے ۔

اس اعلان کے فوراً بعد وائٹ ہاؤس سے نیگرو پونٹے نے پرویز مشرف کے اعلان پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اپنا مؤقف دہرایا کہ پرویز مشرف نام نہاد دہشتگردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کا قریبی دوست ہے

متذکرہ بالا اور اس سے قبل کے کئی دوسرے واقعات سے پوری طرح سے ثابت ہو گیا ہے کہ

پرویز مشرف امریکہ کے بل پر ہے
گر امریکہ کی پُشت پناہی نہیں
تو پرویز مشرف کچھ بھی نہیں

اپنی رائے دیجیے

درج ذیل خانوں میں آپ اردو لکھ سکتے ہیں ۔ انگریزی لکھنے کے لیے Control اور Space کے بٹن ایک ساتھ دبائیے

اہم اطلاع :- غیر متعلق اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے ۔ مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق ۔رکھتا ہے ۔ مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں

XHTML: ان ٹیگز کے استعمال کی اجازت ہے: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)