احتجاج کس لئے اور کیسے ؟

14,801 بار دیکھا گیا

امریکہ نے احتجاج کیا ۔ برطانیہ نے احتجاج کیا ۔ فرانس نے احتجاج کیا ۔ اور کئی ملکوں نے احتجاج کیا ۔ ملک کے اندر سول سوسائٹی کے علمبرداروں نے اور پھر بینظیر نے احتجاج کیا ۔ سب نے صرف جمہوری قسم کے انتخابات کا انعقاد یا زیادہ سے زیادہ ایمرجنسی [دراصل مارشل لاء] کے خاتمہ کا مطالبہ کیا ۔

صرف وکلاء صاحبان اور نواز شریف کو اصل ہدف کا خیال آیا اور اُنہوں نے سب سے اہم اور ناگزیر مطالبہ کیا ۔ آخر نواز شریف کی ایماء پر بینظیر بھٹو نے بھی اس مطالبہ کو اختیار کر لیا ہے ۔


“اعلٰی عدالتوں کے اُن تمام جج صاحبان کو بحال کیا جائے جنہوں نے پی سی او کے تحت حلف نہیں اُٹھایا”

ان جج صاحبان نے اس ملک اوراس کے باشندوں کی بہتری کی خاطر اپنے اعلٰی عہدوں ۔ اپنے ذریعہ روزگار اور اپنی اور اپنے اہلِ خانہ کی عزت اور جان تک داؤ پر لگا دی ۔ ہمارے پاکستانی بھائیوں کی اکثریت اسی روزگار ۔ اسی عزت ۔ اسی جان کی خاطر اپنے منہ بند کئے کونوں کھَدروں مین دبکی بیٹھی ہے ۔ ہماری قوم کی بھاری اکثریت کو معلوم ہی نہیں کہ پی سی او کے تحت کام کرنے کا مطلب یہ ہے کہ صدر ۔ چیف آف سٹاف ۔ افواج ۔ اور حکومتی نمائندوں کے خلاف یا ان کے احکام کے خلاف کسی کو بولنے یا مقدمہ دائر کرنے کی اجازت ہو گی اور نہ پہلے سے دائر ایسے مقدموں کے سلسلہ میں مدعیان یعنی عوام کو انصاف ملے گا ۔

کسی کو یہ بھی خبر نہیں کہ آئین معطل ہونے کی صورت میں ۔ ۔ ۔>

کسی بھی شخص یعنی بوڑھا ۔ جوان ۔ بچہ ۔ عورت یا مردکو کسی بھی وقت بغیر وجہ بتائے گرفتار کیا جا سکتا ہے اور اسے ہر قسم کی سزا بشمول اذیت اور موت کے دی جا سکتی ہے اور کوئی عدالت متاثرین کی چارا جوئی نہیں کر سکے گی

کسی بھی شخص کی زمین ۔ مکان یا دکان پر کسی بھی وقت بغیر وجہ بتائے اور بغیر معاوضہ ادا کئے قبضہ کیا جا سکتا ہے اور کوئی عدالت متاثرین کی چاراجوئی نہیں کر سکے گی

کسی بھی شخص کے کاروبار پر کسی بھی وقت بغیر وجہ بتائے اور بغیر معاوضہ ادا کئے قبضہ کیا جا سکتا ہے اور کوئی عدالت متاثرین کی چاراجوئی نہیں کر سکے گی

کسی بھی شخص کا بنک اکاؤنٹ کسی بھی وقت بغیر وجہ بتائے منجمد کیا جا سکتا ہے اور کوئی عدالت متاثرین کی چاراجوئی نہیں کر سکے گی

اسلئے ہوش میں آؤ میرے بھائیو ۔ بہنوں ۔ بھتیجو ۔ بھتیجیو ۔ بھانجو ۔ بھانجیو ۔

ہماری قوم کی بقاء کیلئے عوام کا مطالبہ ہے کہ

ایمرجنسی فوری طور پر اُٹھائی جائے
اُن تمام جج صاحبان کو جنہوں نے پی سی او تحت حلف نہیں اُٹھایا فوری طور پر اپنی اپنی جگہوں پر بحال کیا جائے
پاکستان کا آئین 12 اکتوبر 1999ء سے پہلے والی حالت میں فوری طور پر بحال کیا جائے
تمام گرفتار وکلاء ۔ سیاسی کارکنوں اور سول سوسائٹی کے لوگوں کو فوری طور پر رہا کیا جائے
جنرل پرویز مشرف 15 نومبر 2007 سے پہلے ریٹار ہو جائیں اور آرمی ہاؤس خالی کر دیں
پاکستان کے تمام جج صاحبان اور تمام اعلٰی افسران بشمول تمام جرنیلوں اور ان کے مساوی ہوائی اور بحری فوج کے افسران کے متذکرہ بالا آئین کے مطابق حلف اُٹھائیں ۔

اس وقت کی سرکاری ڈنڈے بازوں کے ہاتھوں تھوڑی تکلیف میرا ۔ آپ کا اور ہم سب کے بچوں کا مستقبل نہ صرف محفوظ کر سکتی ہے بلکہ اس کو ماضی سے بہتر بنا سکتی ہے ۔ ہو سکتا ہے کہ اللہ نے ہماری قوم کو آزمانے کا یہ آخری موقع دیا ہو ۔ اسے کھو دیا تو پھر سوائے پچھتانے کے کچھ نہ رہے گا اور پچھتانے سے سوائے اپنا خون جلانے کے کچھ حاصل نہیں ہوتا ۔

احتجاج کے محتاط طریقے یہ ہیں ۔

1 ۔ احتجاج میں حصہ لینے والے اخبارات اور نجی ٹی وی چینلز کو ای میل یا خط بھیجیں جس میں ان کے کردار کو سراہتے ہوئے اپنے احتجاج کو مشتہر کرنے کی درخواست کریں ۔ اُنہیں لمبے خط نہ لکھیں بلکہ اپنا احتجاج بہت مختصر اور جامع الفاظ میں لکھیں ۔

جیو ٹی وی
gzks@geo.com

دی نیوز اور جنگ
editor@jang.com.pk
http://jang.net/features/comments/default.asp?camefrom=the%20news%20for%20editor

نوائے وقت
editor@nawaiwaqt.com.pk
webmaster@nawaiwaqt.com.pk

دی نیشن
editor@nation.com.pk
http://nation.com.pk/daily/nov-2007/9/feedback.php

ڈان
letters@dawn.com

2۔ عام لوگوں کو ان کے حقوق سے آگاہ کرتے ہوئے بتائیں کہ حقوق نہ ہونے کی وجہ سے کیا ہو سکتا ہے اور انہیں حاصل کرنے کیلئے جدوجہد کی ترغیب دیں
3 ۔ سٹکر یا ہینڈ بل جس پر مقاصد مختصر طور پر لکھے ہوں عوام میں تقسیم کریں
4 ۔ مختصر نعروں کی وال چاکنگ کریں
5 ۔ کالا بِلا پہنیں
6 ۔ ممکن ہو تو اپنے مکان ۔ اپنی دکان ۔ اپنی گلی میں کالا جھنڈا لگائیں
7 ۔ احتجاج کی منصوبہ بندی کرنے والی یونین ۔ ایسوسی ایشن وغیرہ سے رابطہ رکھیں تا کہ احتجاج اجتماعی اور مؤثر بنایا جا سکے
8 ۔ اپنے محلہ یا کالج کی قریبی عوامی جگہ پر درجن دو درجن افراد اچانک اکٹھے ہو کر مظاہرہ کریں اور دس پندرہ منٹ بعد غائب ہو جائیں تاکہ پولیس کاروائی نہ کر سکے
9 ۔اپنے مظاہرہ کا ایک دن سے زیادہ پہلے اعلان نہ کریں اور صرف جگہ اور دن بتائیں ۔ وقت کا اعلان صرف ایک گھنٹہ پہلے کریں ۔ نجی ٹی وی اور اخبارات کے کسی نمائندہ تک رسائی ہو تو اسے ضرور بُلائیں تاکہ وہ ٹی وی اور اخبار آپ کے مظاہرہ کی تشہیر کر سکیں ۔

This entry was posted in روز و شب, گذارش on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

2 thoughts on “احتجاج کس لئے اور کیسے ؟

  1. الف نظامی

    حیرت ہے کہ سوات کی حالت کو نارمل کرنے بارے کوئی بات نہیں کررہا، سب اقتدار کی گیم میں مصروف ہیں۔
    مزید چینلوں اور اخبارات والوں کے مصالحہ پروگرام بیچنے اور لفافے لینے پر بھی کوئی بات نہیں کرتا۔
    جیسے جنگ کے خلیل الرحمن نے امیر افضل خان (حضور پاک کا سپاہی) کی طرف سے اچھی صحافت کرنے پر کہا تھا کہ یہ کاروبار ہے اور میں حرام حلال دونوں بیچتا ہوں۔

  2. اجمل Post author

    الف نظامی صاحب ۔ السلام علیکم
    اگر اُن تمام جج صاحبان کو جنہوں نے پی سی او تحت حلف نہیں اُٹھایا فوری طور پر اپنی اپنی جگہوں پر بحال کیا جائے اور پاکستان کا آئین 12 اکتوبر 1999ء سے پہلے والی حالت میں فوری طور پر بحال کیا جائے تو وزیرستان اور سوات کا مسئلہ انشاء اللہ خود بخود حل ہو جائے گا۔
    میں ایک سوات والے صاحب کی زبانی انشاء اللہ جلد سوات کے متعلق لکھوں گا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)