خوبصورتی

اللہ نے ہر انسان میں خوبصورتی رکھی ہے مگر اسے بہت کم لوگ پہچان پاتے ہیں

انسان صورت کا دِلدادہ ہے لیکن اصل خوبصورتی سیرت میں ہے

خوبصورتی یہ ہے کہ والدین وہی عمل اختیار کریں جس کی وہ بچوں کو ترغیب دیتے ہیں

خوبصورت عمل یہ ہے کہ بچوں کے سامنے والدین ایک دوسرے کا احترام کریں

This entry was posted in ذمہ دارياں, معاشرہ on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

6 thoughts on “خوبصورتی

  1. اردوداں

    السلام علیکم
    جی ہاں یہی واحد مؤثر طریقہ ہے کہ والدیں وہی عمل اختیار کریں جن کی وہ اپنے بچوں کو ترغیب دینا چاہتے ہیں اور توقع کرتے ہیں۔

  2. اجمل Post author

    اُردودان صاحب
    اہلاً و سہلاً ۔ طویل عرصہ کے بعد آپ کی تحریر دیکھ کر خوشی ہوئی ۔ آپ خیریت سے تو رہے ؟

  3. اردوداں

    جی اللہ کا شکر رہا۔ میں سیارہ پر آتا رہا لیکن کچھ قابل ِتوجہ مواد نہ پایا۔ ویسے آج کل اردو والوں کا معیار زبان، بیان اور مواد سبھی میں بہت ہی گرگیا ہے۔

  4. اجمل Post author

    اُردودان صاحب
    توجہ دلانے کا شکریہ ۔ مجھے بھی اس لحاظ سے اپنا تجزیہ کرنا ہو گا ۔

  5. اردوداں

    جناب میرا اشارہ آپ کی طرف بالکل نہیں تھا۔ میں ایسی جراءت ہی نہیں کرسکتا کیونکہ آپ میرے استاد جیسے ہیں۔
    آج کل میں دیکھتا ہوں کہ پاکستانی عوام کی اردودانی قدرے مجروح ہوچلی ہے۔ انگریزی کا بے دریغ اور بھدا استعمال اردو سے ناشناسائی کی نشاندہی کرتا ہے۔ ہند میں تو مسلمانوں نے اردو کو اپنے اوپر غالبا حرام کرلیا ہے۔

  6. اجمل Post author

    اُردودان صاحب
    دراصل جدید دور نے سب کچھ بین الاقوامی کر دیا ہے ۔ آندھیاں طوفان بین الاقوامی اور انحطاط بھی ۔ جو آندھی مغرب سے اُٹھتی ہے مشرق والوں کے کمزور عقیدوں پر چھا جاتی ہے ۔ میں تو ڈرتا ہوں کہ کسی دن مغرب والے کہیں یہ نہ کہنا شروع کر دیں کہ مشرق والے بندر ہیں اور مشرق والے سچ مُچ بندروں والی تمام حرکات نہ شروع کر دیں ۔ نقالی تو پہلے سے ہی کر رہے ہیں ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)