What Am I میں کیا ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

میرا بنیادی مقصد انسانی فرائض کے بارے میں اپنےعلم اور تجربہ کو نئی نسل تک پہنچانا ہے ۔ ۔ ۔ رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي وَاحْلُلْ عُقْدَةِ مِّن لِّسَانِي يَفْقَھوا قَوْلِي



تختۂ کار

محفوظہ برائے September 15th, 2007

کیا ہمارا روزہ ہے ؟

مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 15 Sep 2007

آج پاکستان میں دوسرا روزہ ہے ۔ روزہ صرف اللہ رب العزت کے ڈر سے یا حُکم سمجھ کر رکھا جاتا ہے ۔ یعنی انسان گھر میں اکیلا ہو اور مرغوبِ نفس کھانے کی چیزیں سامنے پڑی ہوں تو بھی نہیں کھاتا ۔ شدت کی پیاس لگی ہو سامنے شربت یا پانی پڑا ہو اور کوئی انسان وہاں موجود نہ ہو پھر بھی وہ شربت پانی نہیں پیتا ۔

اگر ذیابیطس کا مریض ڈاکٹر کی ہدائت کے مطابق دوائی تو کھاتا رے لیکن پرہیز نہ کرے یعنی مٹھائی ۔ شربت اور دوسری ذیابیطس بڑھانے والی اشیاء کھاتا پیتا رہے تو کبھی تندرست نہیں ہو سکتا ۔ اسی طرح اگر کمرے میں ایئر کنڈیشنر چلا دیا جائے مگر کمرے کی کھڑکیاں ۔ روشندان اور دروازہ کھُلے ہوں تو کمرہ کبھی ٹھنڈا نہیں ہو گا ۔

اسی طرح اگر بُرائیوں [ذیابیطس] کو روزے کا ایئر کنڈیشنر تو چلاا دیا جائے مگر نہ تو عورتوں کو جھانکنے والا اپنا روشندان بند کیا جائے ۔ نہ کم تولنے یا ناپنے والی اپنی کھڑکی بند کی جائے اور نہ جھوٹ بولنے اور دوسری خرافات کا دروازہ بند کیا جائے تو پھر اپنے جسم کو روزے کی ٹھنڈک یا فائدہ کیسے پہنچے گا ؟ چنانچہ روزے کا فائدہ حاصل کرنے کیلئے بھی ضروری ہے کہ جو عوامل منع ہیں ان سے مکمل اجتناب کیا جائے ۔

اللہ قادر و کریم اور رحمٰن و رحیم ہم سب کو صحیح طور پر مکمل لوازمات کے ساتھ روزے رکھنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ ہماری بھول چُوک معاف فرمائے اور ہماری تمام عبادات قبول فرمائے ۔

زمرہ : ذمہ دارياں, معلومات | 10 تبصرے »