اِنّا لِلہِ و اِنّا اِلہِ رَجِعُون

شاہدہ اکرم صاحبہ نے 15 ستمبر کو میری بیاض کے تبصرہ کے خانہ کے ذریعہ مجھے اطلاع دی تھی کہ ان کی والدہ محترمہ کے بعد خالہ صاحب بھی اللہ کو پیاری ہو گئی ہیں ۔ میرے کمپیوٹر میں کچھ خرابی کی وجہ سے میں جلد اسے یہاں نقل نہ کر پایا ۔ شاہدہ اکرم صاحبہ کا رابطہ یہ ہے

shahidaakram@hotmail.com
shahidaakram1@gmail.com

محترم اجمل انکل اور جُملہ قارئين محترم

السلامُ عليکُم

آپ سب سے ايک دُکھ شيئر کرنا چاہتی ہُوں کہ کُچھ مرحلے ايسے ہوتے ہيں جہاں آنسُو ؤں کی برسات کے پيچھے سے اپنوں کی تسلی بہت بڑا مرہم محسُوس ہوتی ہے

” ميری ماں کے بعد ميری ماں سی بھی چلی گئ “

لکھتے ہُوۓ ہاتھ اتنی بُری طرح کانپ رہے ہيں کہ سمجھ ميں نہيں آ رہا دل زيادہ کپکپا رہا ہے يا جسم ،کوئ ايک بات نہيں ہزاروں باتيں ہيں جو ايک فلم کی طرح مُستقل چلتی رہتی ہيں امّی کے بعد اتنا آسرا تھا کہ ماں نہيں تو ماں کی جگہ ماں سی ہے جو ماں سے بڑھ کر سہارا ديتی تھيں ليکن اب لگتا ہے سب کُچھ ختم ہو گيا ہے گو ايک مُسلم ہونے کی حيثيت سے جانتی ہُوں کہ موت برحق ہے پھر بھی دل اپنے پياروں سے ہميشہ کی جُدائ کے لۓ کبھی بھی تيّار نہيں ہوتا ميں وہ لمحات کبھی نہيں بُھول سکتی کہ ميں نے ايک ہی زندگی ميں دو دفعہ اپنی آنکھوں کے سامنے ماں کو جاتے ديکھا ہے ايک سا حال ايک سی سچوئيشن بہت مُشکل ہے بُھول پانا کيا کہُوں کہ بند اور کُھلی آنکھوں ميں وہ منظر ٹھہر گيا ہے دل بہت بے چين اور ازحد دُکھی ہے آپ سب سے استدعا ہے کہ دُعا کريں ميرے دل کی بے قراری کو صبر ملے،سکُون ملے

مع السلام
شاہدہ اکرم

This entry was posted in خبر on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

3 thoughts on “اِنّا لِلہِ و اِنّا اِلہِ رَجِعُون

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)