What Am I میں کیا ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

ميرا مقصد انسانی فرائض کے بارے میں اپنےعلم اور تجربہ کو نئی نسل تک پہنچانا ہے ۔ رَبِّ اشْرَحْ لِی صَدْرِی وَيَسِّرْ لِی أَمْرِی وَاحْلُلْ عُقْدة مِنْ لِسَانِی يَفْقَھُوا قَوْلِی



تختۂ کار

محفوظہ برائے August 24th, 2007

ربّا سوہنیا ۔ میں کِتھے جاواں

مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 24 Aug 2007

ربّاسوہنیا ۔ میں کِتھے جاواں
کِنوں جا دل دا حال سُناواں
تیریاں نعمتاں نیں سجے کھبے
تیریاں برکتاں نیں اُتے تھلے
پر اساں کی ظلم کمایا اے
چور لفنگیاں نوں اُتے بٹھایا اے
اِک چڑھدی مہنگائی ستایا اے
اُتوں گرمی نے پرسیو وگایا اے
وڈیریاں دی واپڈا واہ وا موج بنائی اے
ساڈی بجلی تے لوڈ شیڈنگ لائی اے
پانی کدی غیب کدی آوے قطرہ قطرہ
بُڈھا کی ۔ جوان بھی ہو جاوے سترہ بہترہ
بِل لیون تِن مہینیاں دا روپیّہ سولاں سو
پانی نہ چھڈدے تےکہندے ٹینکر لَے لو

اُردو ترجمہ
میرے اچھے اللہ میں کہاں جاؤں
کسے جا کے دل کا حال سناؤں
تیری نعمتیں ہیں دائیں بائیں
تیری برکتیں ہیں اُوپر نیچے
لیکن ہم نے کیا گناہ کیا ہے
چور بدمعاشوں کو حاکم بنایا ہے
ایک روزافزوں مہنگائی نے ستایا ہے
اس پر گرمی نے بھی پسینہ نکالا ہے
بڑے لوگوں کو واپڈا نے آرام پہنچایا ہے
ہماری بجلی پر لوڈ شیڈنگ لگائی ہے
پانی کبھی نہ آئے اور کبھی آئے قطرہ قطرہ
بوڑھے کیا جوانوں کے بھی سر گھوم جاتے ہیں
بِل یہ لیتے ہیں تین ماہ کا روپے سولہ سو
پانی نہیں چھوڑتے اور کہتے ہیں ٹینکر لے لو

زمرہ : آپ بيتی, شاعری | 5 تبصرے »