Monthly Archives: July 2007

احساس جُرم کا شکار طالبہ اور خون کی برسات کیسے تھمے گی ؟

اسکول کی ایک معصوم طالبہ ایمان یوسف نجانے کیوں احساس جُرم کا شکار نظر آتی ہے۔ وہ اسلام آباد کے ایک انگریزی میڈیم اسکول میں پڑھتی ہے۔ اس نے ای میل کے ذریعے مجھے بتایا ہے کہ اسلام آباد میں ایک چینی مساج سینٹر کے خلاف شکایت لے کر وہی مولانا عبدالعزیز کے پاس لال مسجد گئی تھی۔ ایمان لکھتی ہے کہ اس کے ہمراہ اس کی کچھ سہیلیاں بھی تھیں جن کا خیال تھا کہ چینی مساج سینٹر میں غلط کام ہو رہے ہیں اور ان سب نے مولانا عبدالعزیز سے درخواست کی تھی کہ پولیس ان غلط کاموں کو نہیں روکتی تو پھر آپ ہی کچھ کریں۔ ایمان اور اس کی سہیلیوں کی شکایت پر لال مسجد والوں نے مساج سینٹر پر چھاپہ مارا، چینی خواتین کو اغوا کیا، اغواء شدگان کو ایک رات جامعہ حفصہ میں رکھا اور اگلے دن وارننگ دے کر چھوڑ دیا۔

ایمان لکھتی ہے کہ اس واقعے کے کچھ دنوں بعد لال مسجد میں جو کچھ ہوا وہ ناقابل یقین تھا اور شاید یہ سب کچھ اسی کی وجہ سے ہوا، نہ وہ مولانا عبدالعزیز کے پاس جاتی، نہ چینی مساج سینٹر کی شکایت لگاتی، نہ چینی خواتین اغواء ہوتیں اور نہ ہی لال مسجد کے خلاف آپریشن کے حالات پیدا ہوتے۔ آخر میں اس نے لکھا ہے کہ کاش آپریشن کے آخری دن وہ بھی لال مسجد میں ہوتی اور وہ بھی بہت سے دوسروں کے ساتھ اس ظالم دنیا کو چھوڑ کر چلی جاتی۔ ایمان یوسف کے خیالات نے مجھے جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ ایک انگریزی میڈیم اسکول کی معصوم سی طالبہ موت کی خواہش کیوں کر رہی ہے؟

میرے پاس جامعہ حفصہ کی ایک طالبہ کا ایس ایم ایس پیغام بھی محفوظ ہے۔ یہ طالبہ چھ جولائی کو اپنی پرنسپل اُمُ حسّان کے اصرار پر مدرسے سے باہر آ گئی تھی لیکن اب بے چین ہے۔ 16 جولائی کو اس طالبہ نے اپنے پیغام میں کہا ہے”دعا کریں اللہ مجھے شہادت عطا فرمائے، جینے کی کوئی تمنا باقی نہیں رہی ساری خوشیاں ہم سے چھین لی گئیں“۔ 17 جولائی کی رات اسی طالبہ نے ایک اور پیغام میں لکھا ہے ”میرا لہو کل بھی بہہ رہا تھا، میرا لہو اب بھی بہہ رہا ہے، یہی لہو ابتدا تھی میری اور یہی لہو انتہا ہے میری“

سوچنے کی بات ہے کہ یہ طالبہ لہو میں نہانے کی خواہش کیوں رکھتی ہے؟ اس خواہش کے پیچھے جنت میں جانے کی تمنا سے زیادہ مایوسی اور انتقام کا جذبہ ہے۔ اگر طالبات کی یہ سوچ ہے تو نوجوان طلباء کی کیا سوچ ہو گی؟ ان طلباء میں آج کل عبدالرشید غازی کی ایک نظم بہت مقبول ہے۔ غازی نے یہ نظم چند سال قبل بڑے ترنم سے گائی تھی اور اس کی کسیٹیں دینی مدارس کے طلباء و طالبات میں بڑی مقبول ہوئی تھیں۔ اس نظم کا پہلا مصرعہ یہ تھا

”شہید تم سے یہ کہہ رہے ہیں لہو ہمارا بُھلا نہ دینا۔“

آخری دن عبدالرشید غازی نے سہ پہر ساڑھے تین بجے ہمارے صحافی ساتھی عبدالسبوخ سیّد سے رابطہ کیا اور بتایا کہ وہ روزے سے ہیں اور افطار شہادت سے کریں گے۔ انہوں نے ایک اور صحافی دوست سے رابطہ کیا اور آخری فرمائش کے طور پر اسے کہا کہ وہ شراب پینا چھوڑ دے۔ آخری وقت میں انہوں نے کسی سے زندگی بچانے کی درخواست نہیں کی بلکہ وہ زیادہ تر اپنے ساتھیوں اور دوستوں سے رابطے کرتے رہے۔ ان کے اکثر ساتھی اور دوست عبدالرشید کی موت کے بعد مایوسی اور انتقام کے جذبے کا شکار ہیں۔ ان کے ایک دوست ندیم حسین نے مجھے لکھا ہے کہ چند سال قبل عبدالرشید غازی نے اپنے بیٹوں ہارون اور حارث کو مارشل آرٹس کی تربیت دلوائی۔ غازی صاحب اپنے بیٹے حارث کی پھرتی دیکھ کرکہتے تھے کہ میں اپنے اس بیٹے کو فوجی کمانڈو بناؤں گا۔ ندیم حسین کہتے ہیں کہ حارث کا باپ انہی فوجی کمانڈوز کے آپریشن میں اپنی جان سے گیا اور جب مجھے اپنے دوست کی شہادت کی خبر ملی تو میرے ذہن میں عبدالرشید غازی کے یہ الفاظ گونجنے لگے کہ ”میرا بیٹا کمانڈو بنے گا“۔ آخر میں انہوں نے سوال اٹھایا ہے کہ کیا واقعی اب حارث فوجی کمانڈو بننا پسند کرے گا؟ اس سوال میں بھی مایوسی ہے۔

آج پاکستانی معاشرے کو بڑھتے ہوئے تشدد اور خون ریزی سے بچانے کے لیے یہ مایوسی ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ مایوسی ختم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ بے گناہوں اور معصوموں کے خلاف ریاستی طاقت استعمال نہ کی جائے۔ امریکا کو یہ اجازت نہ دی جائے کہ وہ قبائلی علاقوں میں بمباری کرے ۔ روشن خیالوں اور انتہاپسندوں کی تقسیم ختم کی جائے۔ سب سے بہتر تو یہ ہو گا کہ دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ سے پاکستان کو علیحدہ کر دیا جائے کیونکہ اس جنگ نے پاکستان کو مزید دہشت گردی اور خود کش حملوں کے سوا کچھ نہیں دیا۔ علماء کے فتوؤں، فلموں اور ڈراموں سے خودکش حملے ختم نہیں ہوں گے۔ یہ خود کش حملے جن پالیسیوں کا ردعمل ہیں اُن پالیسیوں کو ختم کرنا ضروری ہے۔ یہ پالیسیاں اُسی وقت ختم ہو سکتی ہیں جب فیصلے کا اختیار کسی ایک فردکی بجائے عوام کی منتخب اور خود مختار پارلیمنٹ کے پاس آ جائے گا۔ جس ملک کی پارلیمنٹ بے اختیار ہو وہاں قانون و انصاف کی بالادستی قائم نہیں ہو سکتی، جہاں انصاف نہیں ہو گا وہاں مایوسی ختم نہیں ہو گی اور جہاں مایوسی ختم گی نہیں ہو گی وہاں خون کی برساتیں نہیں تھم سکتیں۔

تحریر ۔ حامد میر

اندر کیا ہوتا رہا

لال مسجد جامعہ حفصہ کمپلیکس کے گرد ونواح میں 3 جولائی سے 13 جولائی تک کیا ہوتا رہا انسانوں میں سے سوائے آپریشن سائلنس یا سن رائز پر معمور فوجی افسران کے کسی کو معلوم نہیں کیونکہ صحافیوں سمیت کسی کو 2 جولائی کے بعد آپریشن والے علاقہ میں نہیں جانے دیا گیا تھا حتٰی کہ ایدھی فاؤنڈیشن کی ایمبولنسز کو بھی نہیں جانے دیا گیا تھا ۔

لال مسجد جامعہ حفصہ کمپلیکس کے اندر محصور انسانوں پر کیا گذری وہ مکمل تو شائد کبھی معلوم نہ ہو سکے کیونکہ اندر محصور انسانوں کی اکثریت اللہ کو پیاری ہو گئی ۔ عدالتِ عظمٰی کے حکم کے بعد زخمیوں تک ان کے چند قریبی عزیز پہنچے ہیں تو کچھ اندر کی خبر آنا شروع ہوئی ہے ۔

ایک زخمی نے بتایا کہ پہلی شدید فائرنگ اور گولہ باری [3 یا 4 جولائی کو] اس وقت ہوئی جب سب مرد لال مسجد کے صحن میں فجر کی نماز کے سلسلہ میں موجود تھے ۔ پھر فائرنگ اور گولہ باری کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری رہا ۔ طلباء و طالبات زخمی ہوتے رہے اور مرتے رہے ۔
دوسری بار شدید فائرنگ اور گولہ باری اس وقت ہوئی جب تیس طالبات جو فوج کی گولہ باری سے شہید ہو گئی تھیں ان کی نمازٍ جنازہ پڑھی جا رہی تھی ۔ ان طالبات کو لال مسجد جامعہ حفصہ کمپلیکس کے احاطہ میں دفن کیا گیا ۔

غالباً 4 جولائی کو بجلی اور پانی بند کر دیئے گئے اور دو دن بعد گیس بھی بند کر دی گئی ۔ شروع کے چند دن کچھ کھانے کو تھا ۔ باقی دن درختوں کے پتے حوض کے پانی کے ساتھ کھاتے رہے ۔ پانی بند کر دینے کی وجہ سے ٹائیلٹس کی بدبُو باہر تک پھیل گئی تھی ۔

آخری شدید فائرنگ اور گولہ باری جس کو حکومت نے آپریشن کا نام دیا وہ بھی فجر کی نماز کے وقت شروع ہوئی اور اس میں کافی لوگ زخمی اور شہید ہوئے ۔ ان زخمیوں میں وہ خود بھی شامل تھا ۔ جامعہ حفصہ پر بہت زیادہ گولے پھینکے جاتے رہے جن سے عمارت کو بھی نقصان پہنچا اور آگ نے پوری عمارت کو گھیر لیا ۔ جامعہ میں سے جو طالبات اور معلمات آگ اور دھوئیں کی وجہ سے جلدی باہر نکل آئی تھیں انہیں فوجی گرفتار کر کے لے گئے ۔ باقی تمام طالبات ۔ کچھ معلمات اور کچھ طلباء جو ان کی حفاظت کر رہے تھے سب جل گئے ۔

اسلام آباد ایف 8 کا دھماکہ خود کُش نہیں تھا

حکومت اور اسلام آباد کی انتظامیہ منگل کی رات ڈسٹرکٹ بار کورٹ کے باہر ہونے والے دھماکہ کو خودکش حملہ قرار دے رہی ہے جبکہ عینی شاہدین کے مطابق دھماکہ خیز مواد سڑک کے کنارے پڑی ہوئی ریت کے نیچے نصب کیا گیا تھا۔ ریت کا یہ ڈھیر اسلام آباد کے ترقیاتی ادارے سی ڈی اے کی جانب سے ضلع کچہری کی طرف جانے والی سڑک کی تعمیر کے لیے پھینکا گیا تھا۔

محمد حنیف نے، جو کہ ضلع کچہری ایک ہوٹل کے مالک ہیں، بتایا کہ وہ اپنے ہوٹل پر موجود تھے کہ اچانک دھماکہ ہوا جس سے ان کے ہوٹل کے شیشے اور برتن ٹوٹ گئے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے کسی خودکش حملہ آور کو نہیں دیکھا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دھماکہ خیز مواد ریت کے اس ڈھیر میں چھپایا گیا تھا۔

آپریشن سن رائز کیسا سورج چڑھائے گا ؟

منگل 2 جولائی بعد دوپہر شروع ہونے والی لال مسجد جامعہ حفصہ کمپلیکس پر فوج کشی جسے پہلے آپریشن سائلنس [Operation Silence ] کہا گیا تھا 11 جولائی کو آئی ایس پی آر کے ڈی جی میجر جنرل وحید ارشد نے بتایا کہ اس کا نام آپریشن سن رائز [Operation Sunrise ] تھا ۔


ماضی قریب

جو کچھ 2 جولائی سے 11 جولائی 2007 تک ہوا اسے حکومتی شعبدہ بازوں نے مخمل میں لپیٹنے کی کوشش کی لیکن اس مخمل میں سے ٹپکتا ہوا خون ان کو نظر نہیں آیا یا وہ جان بوجھ کر اس سے آنکھیں بند کئے ہوئے ہیں ۔

جامعہ حفصہ کو مسمار کرنے کا حکم صادر ہو چکا ہے ۔ اس میں پڑھنے والی طالبات جو زندہ بچ گئی ہیں وہ اب اپنی تعلیم کہاں مکمل کریں گی ؟ ان طالبات میں بہت سی یتیم اور بے سہارا ہیں جنہیں تعلیم کے ساتھ کھانا اورکپڑے بھی جامعہ حفصہ کی طرف سے ملتے تھے ۔ ایسی طالبات کا کیا بنے گا ؟ وہ کہاں جائیں گی ؟ جامعہ حفصہ پر حملہ کے وقت طالبات کی تعداد 2000 سے کچھ اُوپر تھی ۔ یہی صورتِ حال جامعہ فریدیہ کی ہے ۔ فرق صرف یہ ہے کہ وہاں طلباء تھے ۔کیونکہ جامعہ فریدیہ کی دو ایکڑ زمین اور عمارت جو کہ غیر قانونی نہیں ہے پھر بھی اسے سیکیورٹی ایجنسیز کے حوالے کرنے کا حکم صادر ہو چکا ہے ۔ پہلے ہی اسلام آباد کے بہترین سیکٹروں کا ایک تہائی حصہ سیکیورٹی ایجنسیز کے قبضہ میں ہے ۔


حال

موجودہ حکومت کی منصوبہ بندی کھُل کر سامنے آ چکی ہے اور حکومت کی “دہشتگردی کے خلاف جنگ” بھی واضح ہو چکی ہے ۔ یہی کچھ اسلام دشمن طاقتیں چاہتی ہیں اور موجودہ حکومت ان کی تابعداری میں اپنے آپ کو بھی بھُول چکی ہے ۔ ابھی لال مسجد اور جامعہ حفصہ میں خون خرابہ جاری تھا کہ حکومتی مُہروں نے مدرسوں کی جدید روشن خیال خطوط پر اصلاح کی باتیں شروع کر دی تھیں اور یہ بھی زور دار الفاظ میں کہہ دیا گیا کہ جو نہیں مانے گا اس کے خلاف ایکشن لیا جائے گا ۔

آپریشن سن رائز شروع کرنے سے قبل حکومتی اہلکاروں نے لال مسجد اور جاممعہ حفصہ کے خلاف قانونی کاروائی کرنے کا عندیہ دیا تھا اور سب نے دیکھ لیا کہ اس قانونی کاروائی کا مطلب کیا تھا ۔ چنانچہ یا تو مدرسوں میں مسلمانوں کے بچوں کو اسلام دشمنوں سے دوستی اور روشن خیالی جس میں ناچ گانا شراب سب جائز ہو پڑھائی جائے گی یا پھر یکے بعد دیگرے تمام دینی مدرسے آپریشن سن رائز جیسی قانونی کاروائی سے گذر کر ملیامیٹ ہو جائیں گے ۔


مستقبل ؟ ؟ ؟

آج ہمیں سوچنا ہو گا کہ ہمارے بچے [میرے بچوں کے بچے] دین اسلام کا کیا سبق حاصل کریں گے ؟
وہ جو اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی نے اپنے رسول محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ذریعہ ہم تک پہنچایا ؟
یا وہ جو جارج واکر بُش اور دیگر اسلام کے دُشمن ہمیں پڑھانا چاہتے ہیں ؟
یہ بھی سوچنا پڑے گا کہ اگر عالِم دین ختم کر دیئے گئے تو پاکستان کی آئندہ نسل کو دین کا صحیح عِلم کون سکھائے گا ؟
اور کیا ہماری آنے والی نسلیں مسلمان ہی ہوں گی ؟

ایف ۔ 8 مرکز میں دھماکہ

اسلام آباد کی ضلع کچہری ایف 8 مرکز میں ہے جو ہمارے گھر سے 350 میٹر کے فاصلہ پر ہے ۔ آج اسلام آباد بار ایسوسی ایشن کی دعوت پر چیف جسٹس صاحب نے وکلاء کنوینشن سے خطاب کرنا تھا ۔ ہزاروں لوگ مرکز میں پہنچ چکے تھے جن میں زیادہ تعداد وکلاء کی تھی ۔ اس کے علاوہ سیاسی جماعتوں کے لوگ اور عام شہری بھی تھے ۔ رات آٹھ بجے کے بعد سیاسی جماعتوں کے پنڈال میں زور دار دھماکہ ہوا جس کی دھمک ہمار ے گھر میں بھی محسوس ہوئی ۔ چیف جسٹس صاحب کا جلوس ابھی دور تھا ۔

اس دھماکہ کے نتیجہ میں 11 افراد ہلاک اور  50 زخمی ہوئے ہیں جن میں سے 20 کی حالت تشویشناک ہے ۔ مرنے والوں میں ایک خاتون اور دو بچیاں بھی شامل ہیں ۔ عجیب بات یہ ہے کہ چیف جسٹس صاحب کیلئے سیکیورٹی کا اتنا ناقص انتظام تھا جبکہ کے علاقے کا تھانہ اسی مرکز میں ہے اور پولیس اور سیکیورٹی کے بڑے افسران کے دفاتر بھی اسی مرکز میں ہیں ۔

عینی شاہد کیا کہتا ہے ؟

جہاں تک مجھے حقائق کا علم ہے تو عبدالرشید غازی نے آخری وقت تک مذاکرات کامیاب بنانے کی پوری کوشش کی۔ وہ اپنے ساتھیوں کی زندگیاں بچانا چاہتے تھے لیکن عزت کے ساتھ۔ مذاکرات کی ناکامی کی وجہ حکومت کے ساتھ ساتھ ان علماء کا رویہ بھی ہے جو آخری وقت میں چوہدری شجاعت حسین کے ہمراہ لال مسجد کے باہر موجود تھے۔ بعض علماء کا رویہ انتہائی غیر سنجیدہ تھا۔ چوہدری شجاعت حسین اور مولانا فضل الرحمان خلیل موبائل فون پر عبدالرشید غازی کے ساتھ بات چیت کر رہے تھے اور ان کے ساتھ موجود بعض علماء آپس میں قہقہے لگا رہے تھے۔ ایک موقع ایسا بھی آیا کہ علماء کے قہقہے روکنے کیلئے چوہدری شجاعت حسین کے کچھ ساتھیوں کو ان سے باقاعدہ درخواست کرنی پڑی۔ شام چھ بجے شروع ہونے والی بات چیت رات کے پچھلے پہر میں داخل ہوئی تو ان علماء نے اسلام آباد کے بلیو ایریا سے کھانا منگوا کر کھانا شروع کردیا جبکہ چوہدری شجاعت حسین اور فضل الرحمان خلیل بسکٹوں اور پانی پر گزارا کر رہے تھے۔ ان دونوں نے عبدالرشید غازی سے پوچھا کہ کیا آپ نے کچھ کھایا ہے ؟ انہوں نے نفی میں جواب دیا اور کہا کہ اگر آپ چند سو افراد کا کھانا بھجوا دیں تو ہم سمجھیں گے کہ آپ واقعی ہمارے خیر خواہ ہیں۔ چوہدری شجاعت حسین نے فوری طور پر تین سو آدمیوں کے کھانے کا بندوبست کرنے کیلئے اپنے آدمی دوڑائے۔

اس دوران عبدالرشید غازی اپنے چند مبینہ غیر ملکی ساتھیوں کو حکومت کے حوالے کرنے پر راضی ہو چکے تھے کیونکہ یہ چھوٹی چھوٹی عمروں کے طلباء تھے۔ وہ لال مسجد اور جامعہ فریدیہ بھی چھوڑنے والے تھے۔ موقع پر موجود علماء جامعہ فریدیہ کو وفاق المدارس کے حوالے کرانا چاہتے تھے لیکن حکومت راضی نہ تھی۔ یہ اتنا اہم مسئلہ نہ تھا۔ اصل مسئلہ لال مسجد اور محصور سیکڑوں طلباء و طالبات کی زندگیاں بچانا تھا لیکن مولانا حنیف جالندھری اور ان کے ساتھی علماء اس مسئلے پر مذاکرات کو چھوڑ کر چلے گئے۔ صرف مولانا فضل الرحمان خلیل وہاں رہ گئے۔ انہوں نے آخر میں عبدالرشید غازی کو 20 عورتیں اور مرد باہر بھیجنے پر راضی کر لیا لیکن اس دوران عبدالرشید غازی کے موبائل فون کی بیٹری ڈاؤن ہوگئی اور رابطہ منقطع ہو گیا۔ مولانا فضل الرحمان خلیل اور چوہدری صاحب رابطہ دوبارہ بحال کرنے کا راستہ نکال ہی رہے تھے کہ آپریشن شروع ہو گیا۔

لال مسجد اور جامعہ حفصہ میں موجود بھوکے پیاسے مردوں کے پاس مزاحمت کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہ تھا اور مجبور عورتوں نے خاموشی سے موت کے منہ میں جانا قبول کر لیا۔ کتنی عورتیں اور بچیاں شہید ہوئیں ؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا حکومت کے پاس کوئی تسلی بخش جواب نہیں۔ عبدالرشید غازی کی شہادت سے اگلے دن حکومت نے صحافیوں کو لال مسجد کا دورہ کروایا اور بہت سا اسلحہ دکھایا جس میں راکٹ لانچر بھی موجود تھے۔ لوگ پوچھتے ہیں کہ عبدالرشید غازی اور ان کے ساتھیوں نے یہ راکٹ لانچر کیوں نہ چلائے ؟

اس آپریشن سے اگلے روز اسلام آباد کے سیکٹر ایف ٹین تھری میں ایک خاتون وزیر مملکت نے ایک ڈانسنگ کلب کا افتتاح کیا۔ اس علاقے میں شراب فروخت کرنے کی دکان بھی قائم ہوچکی ہے۔ کیا ڈانسنگ کلب اور شراب خانے قائم کر کے پاکستان میں انتہاء پسندی کم ہو جائے گی ؟ سچ تو یہ ہے کہ مذہبی انتہا پسندی دراصل لبرل اور سیکولر انتہا پسندی کا ردعمل ہے۔ جب تک مغرب پسند لبرل اور سیکولر حکمران طبقہ اپنی انتہاء پسندی ختم نہیں کرتا معاشرے میں اعتدال پسندی فروغ نہ پائے گی۔ ذرا سوچئے اگر برطانوی حکومت کی پالیسیاں وہاں کے مسلمان ڈاکٹروں کو انتہا پسند بنا سکتی ہیں تو ہمارے حکمرانوں کی انتہا پسندی ہمارے نیم پڑھے لکھے مذہبی نوجوانوں کو کدھر لیکر جائے گی ؟

تحریر ۔ حامد میر