What Am I میں کیا ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

ميرا مقصد انسانی فرائض کے بارے میں اپنےعلم اور تجربہ کو نئی نسل تک پہنچانا ہے ۔ رَبِّ اشْرَحْ لِی صَدْرِی وَيَسِّرْ لِی أَمْرِی وَاحْلُلْ عُقْدة مِنْ لِسَانِی يَفْقَھُوا قَوْلِی



تختۂ کار

محفوظہ برائے July 25th, 2007

ظلم کا حد سے بڑھ جانا

مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 25 Jul 2007

کہتے ہیں کہ ظلم حد سے بڑھ جانا ہے دوا ہو جانا ۔ ظلم تو حد سے بہت آگے بڑھ چکا ۔ اب اس کے دوا ہونے کی انتظار ہے ۔ آج لال مسجد کے چند زخمی طلباء جو تا حال ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں کا کچھ احوال معلوم ہوا ۔ دو تین طلباء کے بازوؤں پر گولیاں لگی تھیں اور ایک کے پیٹ میں کئی گولیاں لگی تھیں ۔ پیٹ میں گولیاں لگنے والے لڑکے کے متعلق ڈاکٹر نے کہا کہ ہم حیران ہیں کہ یہ اب تک زندہ کیسے ہے ۔ طلباء نے بتایا کہ جب اعلان ہوا کہ جو باہر نکلے گا اسے کچھ نہیں کہا جائے گا اور 5000 روپیہ فی کس گھر جانے کا خرچہ بھی دیا جائے گا تو وہ باہر نکلے لیکن باہر نکلتے ہی ان پر فائر کھول دیا گیا جس سے کئی طلباء زخمی ہوئے اور ہو سکتا ہے شہید بھی ہوئے ہوں کیونکہ یہ لوگ زخمی ہو کر گر گئے تھے اور کسی کو ایک دوسرے کا ہوش نہ تھا ۔ جب وہاں کوئی سرکاری آدمی موجود نہ تھا تو ایک زخمی نے منت کی کہ ہمیں کسی طرح ہسپتال سے نکال لے جائیں ۔ جس زخمی کو ہسپتال والے فارغ کرتے ہیں اسے ہتھکڑیاں لگا کر پتہ نہیں کہاں لے جاتے ہیں کہ پھر اس کی کوئی خبر نہیں آتی ۔

حکومت نے اپنے ظلم کے نشانات مٹانے کیلئے دن رات کام کیا ۔ 1500 سے زائد طالبات کے جلے ہوئے جسموں کو راتوں کی تاریکی میں کسی نامعلوم غیرآباد جگہ یا کئی جگہوں پر بڑے بڑے گڑھے کھود کر دبا دیا گیا ۔ طالبات کاسامان ٹرکوں میں بھر کر مختلف غیرآباد جگوں پر پھینکا گیا ۔ مندرجہ ذیل وڈیو میں صرف ایک جگہ [جی سیون ٹو کے گندے نالے] کی چھوٹی سی جھلک دیکھئے کہ وہاں سے کیا ملا ۔ اس مقام پر بھی اسلام آباد انتظامیہ اور پولیس جلد ہی پہنچ گئی تھی اور انہوں نے قرآن شریف اور حدیث کی کتابوں کے اوراق اور انسانی جسموں کے ٹکرے جو اس وقت تک لوگوں نے علیحدہ کئے تھے یہ کہہ کر اٹھا لئے کہ دفن کریں گے ۔ پھر عام آدمیوں کو وہاں سے ہٹا کر پہرہ لگا دیا گیا ۔ بعد میں بقایا ملبہ 4 ٹرکوں میں بھر کر اٹھا لیا گیا جس کے متعلق کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ لیجا کر اسلام آباد کے کسی جنگل میں بکھیر دیا گیا ۔

[youtube=http://www.youtube.com/watch?v=Gzv0lFnwjbs]

زمرہ : خبر, گذارش | 2 تبصرے »

گناہِ بے لذّت

مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 25 Jul 2007

گناہِ بے لذّت اس عمل کو کہا جاتا ہے جس کے کرنے سے فائدہ کچھ نہ ہو لیکن نقصان ہوتا ہو ۔

اگر کوئی شخص میڈیکل کی ایک یا دو کتابیں سرسری طور پر پڑھ لے اورپھر اتنے پر بھی عمل کئے بغیر دعوٰی کرے کہ وہ ڈاکٹر بن گیا ہے تو کوئی شخص اس کو ڈاکتر نہیں سمجھے گا بلکہ اس کی دماغی حالت پر شک کیا جائے گا ۔ اسی طرح کسی بھی موضوع پر بولنے یا لکھنے سے پہلے اس کے متعلق گہرا مطالعہ ضروری ہوتا ہے ۔ لیکن حیرت ہے کہ ہمارے مُلک میں مسلمان باوجود مندرجہ بالا مثال سے متفق ہونے کے دین اسلام کا صحیح طور سے علم حاصل کئے بغیر اسکے بارے میں جو جی میں آتا ہے کہہ یا لکھ دیتے ہیں ۔

مزید آجکل فيشن ہو گيا ہے کہ کچھ لوگ اپنی قابليت يا دريا دلی يا نام نہاد روشن خيالی دکھانے کيلئے ايسی ايسی تحارير لکھتے ہيں جن سے اُن کو کوئی فائدہ پہنچے نہ پہنچے البتہ نقصان ضرور ہوتا ہے جس کا اُنہيں احساس تک نہيں ہوتا ۔ کوئی اللہ کے احکامات کے مخالف لکھتا ہے تو کوئی اللہ کے احکام کو مُلّاؤں کی اختراع قرار ديتا ہے ۔ کچھ ايسے بھی ہيں جو اللہ کی طرف سے مقرر کردہ حدوں کو نُعُوذ بِاللہِ مِن ذالِک انسانی حقوق کے خلاف اور ظالمانہ لکھتے ہيں ۔ گويا وہ اللہ سے زيادہ انسانيت پسند ہيں ۔

کوئی مزيد آگے بڑھتا ہے اور 1400 سال پرانے اسلام کو سائنس کے اس دورِ جديد ميں ناقابلِ عمل قرار دے ديتا ہے ۔ کيا ان لوگوں کے خيال ميں نُعُوذ بِاللہِ مِن ذالِک اس کائنات کے خالق اور اس کے نظام کو چلانے والے کے عِلم ميں نہ تھا کہ چودہ سو سال بعد کيا ہونے والا ہے ؟ اور کيا يہ لوگ سمجھتے ہيں کہ نُعُوذ بِاللہِ مِن ذالِک وہ اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی سے زيادہ سمجھدار ہيں يا زيادہ جانتے ہيں ؟

مندرجہ بالا برتاؤ کے برعکس کچھ لوگ ایسے اعمال کو قرآن کا حکم قرار دے دیتے ہیں جو کہ قرآن میں موجود نہیں ہوتے ۔ سب سے عام فقرہ جو شادی کے دعوت ناموں پر بھی چھپا ہوتا ہے “رشتے آسمان پر بنتے ہیں اور زمین پر ان کے تکمیل کی جاتی ہے ۔ القرآن “۔ ایسی کوئی آیت نہیں ہے چناچہ ایسا عمل دین میں غلُو کے زمرے میں آتا ہے ۔

کيا آج کے مسلمانوں نے کبھی سوچا کہ اللہ کے بتائے ہوئے اصولوں کے خلاف اس طرح لکھ کر يا ان ميں ترميم کر کے وہ گناہِ بے لذّت کے علاوہ کچھ حاصل نہيں کر رہے ؟

زمرہ : دین, روز و شب | 17 تبصرے »