Daily Archives: July 18, 2007

اسلام آباد ایف 8 کا دھماکہ خود کُش نہیں تھا

حکومت اور اسلام آباد کی انتظامیہ منگل کی رات ڈسٹرکٹ بار کورٹ کے باہر ہونے والے دھماکہ کو خودکش حملہ قرار دے رہی ہے جبکہ عینی شاہدین کے مطابق دھماکہ خیز مواد سڑک کے کنارے پڑی ہوئی ریت کے نیچے نصب کیا گیا تھا۔ ریت کا یہ ڈھیر اسلام آباد کے ترقیاتی ادارے سی ڈی اے کی جانب سے ضلع کچہری کی طرف جانے والی سڑک کی تعمیر کے لیے پھینکا گیا تھا۔

محمد حنیف نے، جو کہ ضلع کچہری ایک ہوٹل کے مالک ہیں، بتایا کہ وہ اپنے ہوٹل پر موجود تھے کہ اچانک دھماکہ ہوا جس سے ان کے ہوٹل کے شیشے اور برتن ٹوٹ گئے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے کسی خودکش حملہ آور کو نہیں دیکھا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دھماکہ خیز مواد ریت کے اس ڈھیر میں چھپایا گیا تھا۔

آپریشن سن رائز کیسا سورج چڑھائے گا ؟

منگل 2 جولائی بعد دوپہر شروع ہونے والی لال مسجد جامعہ حفصہ کمپلیکس پر فوج کشی جسے پہلے آپریشن سائلنس [Operation Silence ] کہا گیا تھا 11 جولائی کو آئی ایس پی آر کے ڈی جی میجر جنرل وحید ارشد نے بتایا کہ اس کا نام آپریشن سن رائز [Operation Sunrise ] تھا ۔


ماضی قریب

جو کچھ 2 جولائی سے 11 جولائی 2007 تک ہوا اسے حکومتی شعبدہ بازوں نے مخمل میں لپیٹنے کی کوشش کی لیکن اس مخمل میں سے ٹپکتا ہوا خون ان کو نظر نہیں آیا یا وہ جان بوجھ کر اس سے آنکھیں بند کئے ہوئے ہیں ۔

جامعہ حفصہ کو مسمار کرنے کا حکم صادر ہو چکا ہے ۔ اس میں پڑھنے والی طالبات جو زندہ بچ گئی ہیں وہ اب اپنی تعلیم کہاں مکمل کریں گی ؟ ان طالبات میں بہت سی یتیم اور بے سہارا ہیں جنہیں تعلیم کے ساتھ کھانا اورکپڑے بھی جامعہ حفصہ کی طرف سے ملتے تھے ۔ ایسی طالبات کا کیا بنے گا ؟ وہ کہاں جائیں گی ؟ جامعہ حفصہ پر حملہ کے وقت طالبات کی تعداد 2000 سے کچھ اُوپر تھی ۔ یہی صورتِ حال جامعہ فریدیہ کی ہے ۔ فرق صرف یہ ہے کہ وہاں طلباء تھے ۔کیونکہ جامعہ فریدیہ کی دو ایکڑ زمین اور عمارت جو کہ غیر قانونی نہیں ہے پھر بھی اسے سیکیورٹی ایجنسیز کے حوالے کرنے کا حکم صادر ہو چکا ہے ۔ پہلے ہی اسلام آباد کے بہترین سیکٹروں کا ایک تہائی حصہ سیکیورٹی ایجنسیز کے قبضہ میں ہے ۔


حال

موجودہ حکومت کی منصوبہ بندی کھُل کر سامنے آ چکی ہے اور حکومت کی “دہشتگردی کے خلاف جنگ” بھی واضح ہو چکی ہے ۔ یہی کچھ اسلام دشمن طاقتیں چاہتی ہیں اور موجودہ حکومت ان کی تابعداری میں اپنے آپ کو بھی بھُول چکی ہے ۔ ابھی لال مسجد اور جامعہ حفصہ میں خون خرابہ جاری تھا کہ حکومتی مُہروں نے مدرسوں کی جدید روشن خیال خطوط پر اصلاح کی باتیں شروع کر دی تھیں اور یہ بھی زور دار الفاظ میں کہہ دیا گیا کہ جو نہیں مانے گا اس کے خلاف ایکشن لیا جائے گا ۔

آپریشن سن رائز شروع کرنے سے قبل حکومتی اہلکاروں نے لال مسجد اور جاممعہ حفصہ کے خلاف قانونی کاروائی کرنے کا عندیہ دیا تھا اور سب نے دیکھ لیا کہ اس قانونی کاروائی کا مطلب کیا تھا ۔ چنانچہ یا تو مدرسوں میں مسلمانوں کے بچوں کو اسلام دشمنوں سے دوستی اور روشن خیالی جس میں ناچ گانا شراب سب جائز ہو پڑھائی جائے گی یا پھر یکے بعد دیگرے تمام دینی مدرسے آپریشن سن رائز جیسی قانونی کاروائی سے گذر کر ملیامیٹ ہو جائیں گے ۔


مستقبل ؟ ؟ ؟

آج ہمیں سوچنا ہو گا کہ ہمارے بچے [میرے بچوں کے بچے] دین اسلام کا کیا سبق حاصل کریں گے ؟
وہ جو اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی نے اپنے رسول محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ذریعہ ہم تک پہنچایا ؟
یا وہ جو جارج واکر بُش اور دیگر اسلام کے دُشمن ہمیں پڑھانا چاہتے ہیں ؟
یہ بھی سوچنا پڑے گا کہ اگر عالِم دین ختم کر دیئے گئے تو پاکستان کی آئندہ نسل کو دین کا صحیح عِلم کون سکھائے گا ؟
اور کیا ہماری آنے والی نسلیں مسلمان ہی ہوں گی ؟