Daily Archives: July 13, 2007

سوالوں کے جواب ندارد

بی بی سی کے ہارون رشید لال مسجد جامعہ حفصہ کمپلیکس کے دورہ کے بعد کیا کہتے ہیں

لال مسجد اور مدرسہ حفصہ میں کوئی زیر زمین سرنگ نہیں، غیرملکیوں کی موجودگی کی بھی تصدیق نہیں ہوسکی، ابو زر جیسے شدت پسند کیا ہوئے، یرغمالیوں کی تعداد آیا صرف چھاسی تھی یہ بھی واضح نہیں، وہ کہاں تھے اور کہاں چلے گئے؟ مسجد اور مدرسے کے دورے کے بعد بھی ان سوالات کے جواب نہیں مل سکے۔

مسجد و مدرسہ میں صرف رینجرز اور گولیوں سے چھلنی در و دیوار تھے۔ جن دیواروں پر آیات یا نظمیں لکھی تھیں وہاں اب گولیوں نے عجیب و غریب نقوش چھوڑے تھے۔ مسجد کا مرکزی ہال تو محفوظ رہا تاہم اس کے برآمدے کی ٹین کی چھت بےشمار سوراخوں اور در و دیوار آگ سے سیاہ ہوچکے تھے۔ دو میناروں کو بھی گولیوں سے نہیں بلکہ بظاہر راکٹوں سے نقصان پہنچا ہے۔

رینجرز بوٹوں میں جب مسجد میں گھومتے دیکھے گئے تو چند صحافیوں کی شکایت پر فوجی ترجمان کا کہنا تھا کہ اس وقت یہ مسجد نہیں رہی۔ مسجد کے احاطے میں سکیورٹی فورسز نے خاردار تار لگا کر صحافیوں کی تقل وحرکت محدود رکھی گئی تھی۔

مدرسے کے فرش ٹوٹے ہوئے شیشیوں، طالبات کے جوتوں، پتھروں، پلاسٹک کے برتنوں اور ملبے سے بھرے پڑے تھے۔ مدرسے کی حالت سے صاف ظاہر تھا کہ میدان جنگ مسجد سے زیادہ یہ چار منزلہ عمارت رہی۔ کوئی کمرہ کوئی دیوار محفوظ نہیں رہی۔

تہہ خانے پہنچے تو وہ اس قسم کا نہیں جو ذہن میں آتا ہے۔ زیر زمین بڑے بڑے کمرے ضرور ہیں تاہم ان میں جنوب کی جانب باقاعدہ بڑی بڑی کھڑکیاں ہیں جوکہ قریب سے گزر رہے ایک نالے کی جانب کھلتی ہیں۔ اسی جانب سے داغے گئے راکٹوں سے دیواروں میں بڑے بڑے سوراخ بھی تھے۔

مسجد و مدرسے میں اتنے زور دار دھماکے ہوئے کہ پنکھوں کے پر ان کی شدت سے آسمان کی جانب مڑ گئے تھے۔

مدرسے کے ہی ایک کمرے میں صحافیوں کو دکھانے کے لیے قبضے میں لیا گیا اسلحہ سجایا گیا تھا۔ اس میں پستول سے لے کر مشین گنز، دستی اور پیٹرول بم، استعمال شدہ اور غیراستعمال شدہ گولیوں کے ڈھیر اور راکٹ لانچر شامل تھےالبتہ ان پندرہ خودکش حملہ آوروں کی بیلٹس نظر نہیں آئیں جن کی ذرائع ابلاغ میں سرکاری ذرائع کے مطابق بات کی گئی تھی۔

مسجد و مدرسے کے باہر کئی مقامات پر دیوراوں میں شگاف ڈالے گئے تھے اور مدرسے کا آہنی دروازہ بھی گرا ہوا تھا۔ ایک جلی ہوئی گاڑی بھی باہر کھڑی تھی۔ اندر کئی کنکریٹ پلر بھی دھماکوں سے ٹوٹ چکے تھے۔ مسجد و مدرسے کے درمیان واقع بچوں کی لائبریری بھی لڑائی سے متاثر ہوئی۔ جبکہ قریب میں عبدالرشید غازی اور ان کے بھائی کی رہائش گاہ اور چند کواٹروں کا بھی حال باقی عمارتوں سے مختلف نہیں تھا۔

مدرسے کی ایک سمت عمارت میں آگ لگی تھی جس سے دھواں اٹھ رہا تھا۔ اس سے مختلف چیزوں کے جلنے سے درمیانے دھماکے بھی سننے گئے۔

اس تمام لڑائی میں مثبت بات کمروں میں ہزاروں کی تعداد میں موجود دینی کتب محفوظ دکھائی دے رہی تھی۔کہیں کہیں خون کے دھبے موجود ہیں۔ بظاہر سکیورٹی فورسز نے صحافیوں کو لانے سے قبل کافی صفائی بھی کی ہوگی۔

ایک صحافی مسعود عاصم کا کہنا تھا کہ حکومت اس دورے سے پہلے جو باتیں کر رہی تھی اور اب جو یہاں بتا رہی ہے اس میں فرق نظر آ رہا ہے۔ ’پہلے حکومت کا موقف تھا کہ یہاں انتہائی مطلوب افراد ہیں اور ابو منصور انہیں لیڈ کر رہا ہے اور دوسرا زیر زمین غار ہیں۔ مجھے لگتا ہے انہیں غلط معلومات ملی تھیں‘۔

مولوی عبدالعزیز کی گرفتاری کی وڈیو

مندرجہ ذیل مولوی عبدالعزیز کی گرفتاری کی ڈرامہ وڈیو ہے جس میں مولوی عبدالعزیز کو کالا برقعہ پہنا کر اس کا پی ٹی وی پر انٹرویو کے نام سے الزامات شو دکھایا گیا

[youtube=http://www.youtube.com/watch?v=G31wKUb9-Hc]

اصل وڈیو

[youtube=http://www.youtube.com/watch?v=UdGt4i7zvts]

مندرجہ ذیل مولوی عبدالعزیز کی گرفتاری کی اصل وڈیو ہے جس میں مولوی عبدلعزیز نے کالا برقعہ نہیں پہنا ہوا بلکہ سفید کرتا پہنا ہوا ہے ۔ ایک اور بات یہ ہے کہ حکومتی اعلان کے مطابق مولوی عبدالعزیز کو وومن پولیس نے پکڑا تھا جبکہ اصل صورتِ حال مختلف ہے ۔ اس وڈیو سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ مولوی عبدالعزیز کو اس وقت احساس نہیں تھا کہ اُسے گرفتار کیا جا رہا ہے ۔ اس سے مولوی عبدالرشید غازی اور وفاق المدارس کی مذاکراتی ٹیم کے ایک رکن کا استدلال صحیح ثابت ہوتا ہے کہ مولوی عبدالعزیز کو مذاکرات کے بہانے باہر بُلا کر گرفتار کر لیا گیا ۔

مولوی عبدالعزیز کی گرفتاری کی دونو وڈیوز حکومتِ پاکستان نے ریلیز کیں تھیں

چوری چھُپے تدفین کیوں کی گئی ؟

لال مسجد جامعہ حفصہ کمپلیکس میں شہید ہونے والوں کو فوجی حکام نے بدھ 11 جولائی اور جمعرات 12 جولائی کی درمیانی رات بڑے بڑے گڑھے کھود کر اجتماعی طور پر دفنانا شروع کر دیا تھا ۔ نہ میّتوں کی پہچان کرائی گئی اور نہ اپنے بچوں ۔ بچیوں ۔ بہنوں ۔ بھائیوں کیلئے اسلام آباد میں آپریشن ایریا کے قریب پہنچے ہوئے سینکڑوں خواتین و حضرات کو مطلع کیا گیا ۔ وہ بیچارے اِدھر سے اُدھر پریشان حال پھرتے رہے ۔ اس سے قبل لاشیں نکال کر چوری چھُپے اسلام آباد ۔ راولپنڈی ۔ ٹیکسلا سمیت مختلف مقامات پر کولڈ سٹورز میں پہنچائی گئیں تھیں اور ان کے گرد سخت حفاظتی پہرے لگا دیئے گئے تھے ۔

جب آپریشن شروع ہوا اس وقت لال مسجد جامعہ حفصہ کمپلیکس میں 2500 کے لگ بھگ افراد تھے جن میں بھاری اکثریت طالبات کی تھی ۔ زخمیوں کو ملا کر باہر نکل آنے والوں کی حکومت کی طرف سے دی گئی زیادہ سے زیادہ تعداد 1300 سے کم ہے ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ باقی 1200 سے زائد افراد کہاں گئے جن میں بہت سی طالبات بھی شامل تھیں ؟

جیسا کہ میں پہلے لکھ چکا ہوں 10 جولائی کو ایدھی صاحب سے 200 کفن مانگے گئے پھر 11 جولائی کی صبح 800 یا 1000 مزید کفن مانگے گئے لیکن یہ خبر نجی ٹی وی چینلز پر نشر ہونے کے بعد ایدھی صاحب کو مزید کفن بھیجنے سے منع کر دیا گیا ۔ بعد میں ایدھی صاحب نے بتایا کہ ان سے 1200 کفنوں کا مطالبہ کیا گیا تھا ۔ اس سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ لال مسجد جامعہ حفصہ کمپلیکس میں شہید ہونے والوں کی تعداد 1200 کے لگ بھگ ہے ۔

انتظامیہ کا کہنا تھا کہ ایک تابوت میں صرف ایک لاش ہے ۔ اسلام آباد کے ایچ ۔ 11 قبرستان میں 12 جولائی کی صبح تدفین کے دوران جب کچھ صحافی پہنچے تو ایک تابوت کے اندر کئی لاشیں پائی گئیں ۔ اس کے بعد صحافیوں کو وہاں سے ہٹا دیا گیا ۔ صحافیوں کے پہنچنے سے پہلے بہت کچھ زیرِ زمین دبایا جا چکا تھا ۔ بعد میں قبرستان میں مزید قبروں کی کھدائی کے لئے مزید مزدوروں کو بھی بلا یا گیا تھا

مولوی عبدالعزیز اور مولوی عبدالرشید غازی کی والدہ کی میّت گم ہو گئی ۔ اگر مرنے والوں میں بے شمار عورتیں نہ ہوتیں تو ایک عورت کی میّت کیسے گم ہو تی ؟

ایک شخص 11 جولائی کی صبح سرکاری طور پر لال مسجد جامعہ حفصہ کمپلیکس کے اندر گیا تھا ۔ اُس نے بتایا کہ ہر طرف سفید چادروں میں لپٹی لاشیں ہی لاشیں پڑی تھیں جو سینکڑوں تھیں اور ان میں سے جلے گوشت کی بُو آ رہی تھی ۔ اس نے لال مسجد کی چھت پر بھی کچھ لاشیں دیکھیں جن کو پرندوں نے نوچا ہوا تھا ۔ اس نے بتایا کہ جامعہ حفصہ کی عمارت کو بہت زیادہ نقصان پہنچا تھا اور لال مسجد کی حالت بہتر تھی ۔ لال مسجد جامعہ حفصہ کمپلیکس کی چاردیواری کئی جگہوں سے گر چکی تھی ۔ لال مسجد کی عمارت میں کمانڈوز نے بارود سے اُڑا کر جو سوراخ بنائے تھے ان سے پوری مسجد کے اندر دیکھا جا سکتا ہے ۔

حکومت کے اہلکار لال مسجد جامعہ حفصہ کمپلیکس میں شہید ہونے والوں کی تعداد کبھی 73 بتاتے اور کبھی 150 سے 250 تک ۔ حکومت نے مرنے والوں کی جو فہرست لگائی اس میں ورثاء کی اکثریت کو اپنے بچوں یا بچیوں کے نام نہیں ملے ۔ اس جھوٹ کی صرف ایک ہی وجہ ہو سکتی ہے کہ 150 یا 250 کے علاوہ باقی مرنے والی طالبات اور معلمات تھیں ۔ چونکہ حکومت کے سینیئر فوجی اور سویلین اہلکاروں نے بار بار اعلان کیا تھا کہ کوئی طالبہ یا عورت ہلاک نہیں ہوئی اور اس بڑے جھوٹ کو چھپانے کا ایک ہی طریقہ تھا کہ ان کی لاشیں غائب کر دی جائیں ۔

میڈیا کے لوگوں کو 11 جولائی کو 11 بجے قبل دوپہر لال مسجد جامعہ حفصہ کمپلیکس لیجانے کا کہا گیا مگر لیجایا نہ گیا ۔ پھر 12 جولائی بعد دوپہر میڈیا کے کچھ افراد کو لے جایا گیا مگر لیجانے سے پہلے لال مسجد اور جامعہ حفصہ کی صفائی کی گئی ۔ لال مسجد کی عمارت کی کئی جگہوں کی تازہ مرمت کی گئی اور تازہ رنگ کیا گیا تھا ۔ جامعہ حفصہ کے سب کمرے جلے ہوئے تھے اور چھت کے پنکھوں کے پر  پگھل کر لٹک گئے تھے ۔ ایسے میں وہاں موجود طالبات کا کیا بچا ہو گا ؟  صحافیوں کو وضو کرنے کی جگہ ۔ تالاب اور کئی دوسری جگہوں کی طرف جانے نہیں دیا گیا ۔ اس کا مقصد سوائے اسکے کیا ہو سکتا ہے کہ میڈیا والے اندر کی اصل صورتِ حال نہ جان سکیں ۔

آپریشن سے پہلے ایک خاص قسم کا بغیر پائلٹ کے جہاز لال مسجد جامعہ حفصہ کمپلیکس کے اوپر سے گذرا تھا ۔ ایسے جہاز امریکہ کے پاس ہیں ۔ ان سے عمارت کے اندر موجود انسانوں کی تصاویر لی جا سکتی ہیں ۔ اس کے بعد جامعہ حفصہ کے اندر ایسے گولے پھینکے گئے جن سے اتنی زیادہ حرارت پیدا ہوتی ہے کہ انسانی جسم بھسم ہو جاتے ہیں ۔ ایسے گولے امریکہ نے بغداد ایئرپورٹ پر پھینکے تھے اور 2500 ریپبلیکن گارڈز بھسم ہو گئے تھے اور ان کے جسموں کا بہت کم مادہ بچا تھا جو آسانی سے وہاں سے ہٹا دیا گیا تھا ۔

اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ صحافیوں کا دورہ کیوں 27 گھنٹے مؤخر کیا گیا اور رات کی تاریکی میں چوری چھپے کیوں اجتمائی تدفین کی گئی ۔ امریکہ تو غیروں بالخصوص مسلمانوں کو مارتا ہے لیکن ہمارے اپنے آپ کو سیّد کہنے والے صیہونی نے اپنے ہی ملک کی سینکڑوں مؤمنہ بچیوں اور مؤمن بچوں کو بھسم کر دیا ۔ اور اس پر دہشتگرد بُش کی داد وصول کی ۔

میڈیا والوں کو اسلحہ اور ایمونیشن کے ڈھیر دکھائے گئے ۔ یہاں پر بھی حکومتی منصوبہ بندی مات کھا گئی ۔ ایمونیشن کا اتنا بڑا انبار ہوتے ہوئے جنگجو جو 100 سے زائد کہے جاتے تھے اور ان کے پاس مشین گنیں تھیں تو وہ کیسے ڈھیر ہو گئے ؟ ایک ریٹائرڈ آفیسر کہتے ہیں کہ ان کے پاس اتنا اسلحہ ۔ ایمونیشن اور صرف 50 جوان ہوتے تو وہ کم از کم ایک ماہ تک کسی حملہ آور کو لال مسجد جامعہ حفصہ کمپلیکس کے قریب بھی نہ آنے دیتے ۔ ویسے تو کون نہیں جانتا کہ ہمارے ملک میں جب پولیس والے یا سیکیورٹی ایجنسی والے کسی کو گرفتار کرتے ہیں تو اس سے ہر قسم کی چیز برآمد کر لیتے ہیں ۔ مولوی عبدالرشید غازی نے تو کہا تھا کہ ہمارے مرنے کے بعد حکومت یہاں سے ایٹم بم بھی برآمد کر سکتی ہے ۔


صحافی کیا بتاتے رہے ؟

مسجد کے شمال مشرق میں کورڈ مارکیٹ کے قریب مدرسے سے رضاکارانہ طور پر نکلنے والوں کے لیے قائم ’سرینڈر پوائنٹ‘ پر صحافیوں کی سہولت کے لیے کیمپ لگا دیا جوکہ درحقیقت سہولت کم اور ’سرینڈر‘ زیادہ تھا۔

صحافیوں کو وہاں تک محدود کر دیا گیا۔ انہیں بہترین کھانے اور ٹیلیفون کی سہولت کے علاوہ جب حکومت کا دل چاہا اور جتنی چاہی معلومات بھی فراہم کر دیں۔ یعنی صحافیوں کی انگریزی میں جو کہتے ہیں ’سپون فیڈنگ‘ کی گئی۔
حکومت نے تو جو کیا سو کیا صحافی بھی اس صورتحال میں کافی خوش اور مطمئن دکھائی دیئے۔ اسلام آباد کے صحافی میرے خیال میں ملک کے دیگر علاقوں کے صحافیوں سے زیادہ تعلیم یافتہ اور دانشمند ہیں لیکن اس ’سپون فیڈنگ‘ پر کسی نے کوئی اعتراض نہ کیا۔

ذریعہ آج اور جیو ٹی وی چینلز ۔ جنگ ۔ ڈان ۔ دی نیوز ۔ ڈان ۔ بی بی سی اُردو