اگر یہ صحیح ہے تو ۔ ۔ ۔
مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 08 Jul 2007
حکومت پاکستان اور لال مسجد کی انتظامیہ کے درمیان غلط فہمیاں پیداکرنے والاسرکاری افسر کو گرفتار کرلیا گیا ہے تاہم ابھی اس کا نام صیغہ راز میں رکھا جارہا اورمزید تحقیقات کی جارہی ۔ذرائع کے مطابق جب بھی حکومت اورلال مسجد کے درمیان مفاہمت ہوتی نظر آتی تو یہ سرکاری افسر دونوں طرف غلط فہمیاں پیداکردیتا اورمعاملات پھر تعطل کا شکار ہوجاتے ۔ یہ بھی بتایا گیاہے کہ اسی سرکاری افسر نے لال مسجد کے مہتمم اعلی مولانا عبدالعزیز غازی کو برقعہ پہن کر باہر آنے کامشورہ دیا اور کہا کہ حکومت اور آپ کے درمیان ڈائیلاگ کروا دوں گا جس پر مولانا عبدالعزیز برقعہ پہن کر باہر نکل آئے اور گرفتار ہوگئے ۔ذرائع کے مطابق حکمران جماعت کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین اوروفاقی وزیر اعجاز الحق جب بھی لال مسجد کی انتظامیہ سے معاملات طے پاکر باہر نکلتے تو یہ افسر لال مسجد جا کر حکومت کی غلط پلاننگ بتاکر دونوں بھائیوں کو مشتعل کردیتا لیکن ابھی حکومت اس گرفتار شخص کانام بتانے سے گریز اں ہے جبکہ لال مسجد کی انتظامیہ بھی اس شخص کا نام نہیں بتا رہی ۔لیکن یہ حقیقت ہے کہ حکومت اور لال مسجد کی درمیان تنائو پیدا کرنے میں کوئی نہ کوئی خفیہ ہاتھ موجود تھا جسکے مذموم ارادے کامیاب ہوئے اور پاکستان کا دارالخلافہ اسلام آباد آج میدان جنگ بناہوااور پاکستان کے مدارس دنیا بھر میں اپنا مقام کھو چکے ہیں
