شہید تم سے یہ کہہ رہے ہیں

اپنے کمپیوٹر کا ساؤنڈ سسٹم آن کر لیجئے [switch on sound system of your computer] اور سنئے ۔
یہ واحد نظم ہے جو عبدالرشید غازی شہید نے خود لکھی اور جامعہ فریدیہ کی ایک محفل میں پڑھی تھی ۔

[youtube=http://www.youtube.com/watch?v=9ugOh7Zzqss]

This entry was posted in شاعری on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

8 thoughts on “شہید تم سے یہ کہہ رہے ہیں

  1. ابو حلیمۃ

    السلام علیکم،۔
    اللہ سبحانہُ وتعالیٰ کی لاٹھی بے آواز ہے۔ جنہوں نے انسانیت کا قتل کیا ہے، ان کو ان کے کیے کی سزا ضرور ملے گی، انشاءاللہ!۔
    آمین۔
    ان شہداء نے تو اپنا نام اللہ کے دین کو قأیم کرنے والوں میں شامل کر لیا ہے، اب اللہ ہمیں بھی یہ توفیق دے کہ ہم میں بھی اُس اللہ کے دین کے لیے کسی بھی باطل سے ٹکرانے کا حوصلہ پیدا ہو جأے۔
    آمین

  2. اجمل

    ابو حلیمہ صاحب
    بلا شُبہ اللہ کی لاٹھی بے آواز ہے ۔
    مجھے تو حیرت اس بات پر ہے ایک شخص کسی گاڑی کے نیچے آ کر مر جائے تو خواہ قصور نیچے آنے والے کا ہی ہو ۔ ایک کہرام مچ جاتا ہے ۔ لال مسجد اور جامعہ حفصہ میں ڈیڑھ دو ہزار بے گناہ طلباء و طالبات جلا اور بھُون کر رکھ دئے گئے اور عوام میں سے کوئی سڑکوں پر نہ آیا ۔

  3. anonyums

    Shaheed koan hai? Woh Col Haroon bhee toa shaheed howa jis kee jaan aap kay is Ghazi nay lee. Woh be Panch waqat ka nimazee tha aur shaheed honay kee tumna rukhta tha.

    Ghazi agencioon ka admi tha ghalat kam ka ghalat unjam

  4. اجمل

    گمنام صاحب
    بات بہت اونچی کرتے ہیں مگر اپنا نام لکھنے کی ہمت نہیں ۔ خیر کوئی بات نہیں ۔ آپ کی اطلاع کیلئے عرض ہے کہ کرنل کو کسی لال مسجد والے نے نہیں مارا تھا بلکہ کرنل ۔ ایک میجر اور دو کیپٹن ان بارودی سرنگوں میں سے ایک کا شکار ہوئے تھے جو ان کے ساتھی فوجیوں نے لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے گرد اسلئے بچھائی تھیں کہ جو لال مسجد یا جامعہ حفصہ سے باہر نکلے پھڑک جائے مگر اللہ کو سب سے پہلے کرنل کا پھڑکنا منظور ہوا ۔
    آپ کا دوسرا استدلال کہ مولوی ایجنسیوں کا آدمی تھا بھی کوئی صداقت نہیں رکھتا کیونکہ ایجنسیاں آجکل پرویز مشرف اور بُش کے ماتحت ہیں ۔

  5. omerifti

    the person whose commented on number 5 anonomus i wanna say this that,
    mai tumhain paisay daita hoon aur jo kuch chahiye hay mai deta hoon par agar mai tumhain yeh sub doonga tau mughay badlay mai tumhari jaan chahiye hay kia tum doogay?
    agar woh agency ka banda hota na tau woh apni jaan ka nazrana aaisay na paish karta samghay beta kehna bohat aasan hota hay par nibhana bohat bohat mushkil.
    aur agar tum nay un kay shaheed honay k baad ki pic dekhi hay tau tumhain un kay chehray pay aik muskurahat nazar aai hoge yeh shaheed ki nishani hooti hay.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)