تصحیح

میں نے کل لکھا تھا ” جامعہ حفصہ کے قریب نالے میں طالبات کا سامان پھینکا ہوا پایا گیا تھا“۔ طالبات کا سامان جی سیون ٹو کے نالے میں پایا گیا تھا جبکہ جامعہ حفصہ جی سِکس وَن اور جی سِکس فَور کے درمیان ہے ۔ سامان ملنے والی جگہ جامعہ حفصہ سے تقریباً ایک کلو میٹر دور ہے ۔

اس سامان میں کیا تھا جاننے کیلئے یہاں کلک کیجئے اور پھر سوچئے کہ کیا ہم سب مسلمان ہیں ؟ ؟ ؟

This entry was posted in خبر on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

2 thoughts on “تصحیح

  1. shahidaakram

    مُحترم اجمل انکل
    السلامُ عليکُم
    اُمّيد ہے آپ بخير ہوں گے سب سے پہلے ميں آپ سے معزرت خواہ ہُوں کہ آپ کی کل کی ميل اور آج کی ميل کا جواب نہيں ديا وجہ گھريلُو مصرُوفيات ہيں تو ليکن اُس سب سے بڑھ کر آج جوحالات ہيں اور آپ اتني محنت سے اکٹھے کر کے جو کُچھ ہمار ے سامنے لا رہے ہيں وہ قابل ستائش تو ہے ہی ليکن اُن باتوں نے جيسے دُکھی کيا ہے اُس کے بعد اپنے انسان ہونے سے بھي نفرت ہو رہی ہے شايد جانور بھی ايسی حيوانيّت نہيں دکھاتے ہوں گے کتنی عجيب بات ہے کہ اس عارضی دُنيا اور زندگی کے لۓ اتنی تگ و دو کيا ہم لوگ انسان کہلانے کے مُستحق ہيں يہ عجيب وقت صرف پاکستان کے لۓ نہيں پُوری مُسلم اُمّہ کے لۓلمحہء فکريہ ہے ليکن ہم فکر کرنا نہيں چاہتے ہم اُن نشے باز ہيروئينچيوں سے کم تو نہيں ہيں جو نشہ کر کے دُنيا و مافيہا سے بے خبر ہو کر شايد يہ سمجھتے ہيں کہ دُنيا اُن کے لۓ ايک معمُولی شے ہے اور صرف اپنی ہی ذات اُن کے نزديک اہم ہوتی ہے باقی دُنيا جاۓ جہنّم ميں ،اپنی ذات سے ايسا ہي پيار آج ہميں اس مُقام پر لے آيا ہے کہ ہم اپنے علاوہ کُچھ بھی سوچنے کو تيّار نہيں سو جب حالات ايسے ہوں تو کُچھ بھی ديکھنے کو مل سکتا ہے دُکھ کی بات تو يہ ہے کہ يہ سب کُچھ ايک مُسلم مُلک کے ارباب اقتدار کر رہے ہيں اور کسی قسم کی شرم نہيں کر رہے رات کے اس پہربھی نيند ايسے آنکھوں سے کوسوں دُور ہے اس سوچ کے ساتھ کہ ہم کہاں جا رہے ہيں اپنے ذاتی دُکھ اور مسائل جو پہلے ہی نيند کے دُشمن ہيں ايسے ميں ہر تازہ دُکھ ايسے جان پر وارد ہوتا ہے کہ بس بيان سے باہر ہے (ہاں انکل ظُلم کا حد سے بڑھ جانا کے ساتھ کوئ کُچھ بھی لکھنے کو نہيں تھا سو آپ کی تصحيح پر اسے پوسٹ کر رہی ہُوں ٹھيک بات تو نہيں ليکن کيا کرُوں پھر)
    اپنا خيال رکھيۓ گا
    اور دُعاؤں ميں ياد رکھيۓ گا
    اللہ حافظ
    شاہدہ اکرم

  2. اجمل

    شاہدہ اکرم صاحبہ ۔ السّلامُ علَيکُم و رحمة اللہ
    درست کا ہے آپ نے لیکن ایسے واقعات ایک امتحان ہوتے ہیں کھَوٹا کھَرا علیحدہ کرنے کیلئے ۔ دعا کیجئے کہ اللہ اس امتحان میں سرخرو کرے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)