What Am I میں کیا ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

ميرا مقصد انسانی فرائض کے بارے میں اپنےعلم اور تجربہ کو نئی نسل تک پہنچانا ہے ۔ رَبِّ اشْرَحْ لِی صَدْرِی وَيَسِّرْ لِی أَمْرِی وَاحْلُلْ عُقْدة مِنْ لِسَانِی يَفْقَھُوا قَوْلِی



تختۂ کار

محفوظہ برائے June 19th, 2007

ہم پاکستانی ۔ ڈھنڈورہ اور حقیقت

مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 19 Jun 2007

سیٹیلائیٹ ٹاؤن راولپنڈی میں ایک نجی رفاہی ادارہ ہے جو تھیلاسیمیا میں مبتلا بچوں کے علاج کا بندوبست کرتا ہے اور پورے اخراجات خود برداشت کرتا ہے ۔ یہ ادارہ کئی دہائیوں سے یہ خدمت سرانجام دے رہا ہے ۔ اللہ کے بندے اس ادارہ کے ساتھ تعاون کرتے ہیں ۔ اس ادارہ کا انتظام اور تعاون کرنے والے سب ایشیائی مسلمان ہیں اور اکثریت پاکستانیوں کی ہے ۔

پاکستان میں اس قسم کے اور بھی کئی ادارے ہیں جنہیں پاکستانی مسلمان ہی چلا رہے ہیں ۔ یہ ادارے پاکستان کی حکومت یا یورپی یا امریکی حکومت یا اداروں کی مدد کے بغیر چل رہے ہیں اور مختلف قسم کے رفاہی کام محنت اور خلوص کے ساتھ انجام دے رہے ہیں [یہ ادارے این جی او نہیں کہلواتے] ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جیسا ہماری قوم کو مسلمان ہونے کی حیثیت میں ہونا چاہیئے اس کا پاسکو بھی نہیں لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ پاکستان میں بسنے والے سب خودغرض ہیں ۔

سیٹیلائیٹ ٹاؤن والے ادارےکو ماہانہ 40 بوتل خون درکار ہوتا ہے چنانچہ وہ خون جمع کرنے لئے کیمپ لگاتے ہیں ۔ ان کا تجربہ ہے کہ ترقی یافتہ طبقہ کی نسبت غیر ترقی یافتہ لوگ رفاہِ عامہ کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں ۔ اس کی تازہ ترین مثال انہوں نے خون جمع کرنے کے اپنے حالیہ کیموں کی دی ۔ ایک عالی شان یونیورسٹی میں کیمپ لگایا گیا جہاں طلباء اور طالبات کی تعداد کئی ہزار تھی اور بمشکل 22 بوتل خون حاصل ہوا ۔ جامعہ فریدیہ میں کیمپ لگایا تو 87 بوتل خون ملنے پر روکنا پڑا کیونکہ وہ صرف 90 بوتلیں لے کر گئے تھے جن میں سے تین ضائع ہو گئی تھیں ۔ جامعہ فریدیہ میں طلباء کی تعداد ایک ہزار سے کم تھی ۔ کیا کہا جائے اُن لوگوں کو جو مدرسوں کے طلباء کو جاہل ۔ انتہاء پسند ۔ دہشتگرد کہتے ہیں ؟

کچھ پاکستانی نہ جانے کن اثرات کے تحت مسلمانوں اور پاکستانیوں میں کیڑے نکالتے رہتے ہیں ۔ کیا ان کیلئے بہتر نہیں کہ دوسروں میں کیڑے نکالنے کی بجائے وہ اپنی اصلاح کریں ؟ آخر ایسے خواتین و حضرات یہ کیوں بھول جاتے ہیں وہ خود بھی پاکستانی ہیں ۔

پاکستانی بہن بھائیوں سے درخواست ہے کہ حقائق کی چھان بین کئے بغیر وہ اپنی قوم اور ملک کو بدنام کرنے سے پرہیز کیا کریں ۔

زمرہ : روز و شب | 7 تبصرے »