ہم پاکستانی ۔ ڈھنڈورہ اور حقیقت

سیٹیلائیٹ ٹاؤن راولپنڈی میں ایک نجی رفاہی ادارہ ہے جو تھیلاسیمیا میں مبتلا بچوں کے علاج کا بندوبست کرتا ہے اور پورے اخراجات خود برداشت کرتا ہے ۔ یہ ادارہ کئی دہائیوں سے یہ خدمت سرانجام دے رہا ہے ۔ اللہ کے بندے اس ادارہ کے ساتھ تعاون کرتے ہیں ۔ اس ادارہ کا انتظام اور تعاون کرنے والے سب ایشیائی مسلمان ہیں اور اکثریت پاکستانیوں کی ہے ۔

پاکستان میں اس قسم کے اور بھی کئی ادارے ہیں جنہیں پاکستانی مسلمان ہی چلا رہے ہیں ۔ یہ ادارے پاکستان کی حکومت یا یورپی یا امریکی حکومت یا اداروں کی مدد کے بغیر چل رہے ہیں اور مختلف قسم کے رفاہی کام محنت اور خلوص کے ساتھ انجام دے رہے ہیں [یہ ادارے این جی او نہیں کہلواتے] ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جیسا ہماری قوم کو مسلمان ہونے کی حیثیت میں ہونا چاہیئے اس کا پاسکو بھی نہیں لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ پاکستان میں بسنے والے سب خودغرض ہیں ۔

سیٹیلائیٹ ٹاؤن والے ادارےکو ماہانہ 40 بوتل خون درکار ہوتا ہے چنانچہ وہ خون جمع کرنے لئے کیمپ لگاتے ہیں ۔ ان کا تجربہ ہے کہ ترقی یافتہ طبقہ کی نسبت غیر ترقی یافتہ لوگ رفاہِ عامہ کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں ۔ اس کی تازہ ترین مثال انہوں نے خون جمع کرنے کے اپنے حالیہ کیموں کی دی ۔ ایک عالی شان یونیورسٹی میں کیمپ لگایا گیا جہاں طلباء اور طالبات کی تعداد کئی ہزار تھی اور بمشکل 22 بوتل خون حاصل ہوا ۔ جامعہ فریدیہ میں کیمپ لگایا تو 87 بوتل خون ملنے پر روکنا پڑا کیونکہ وہ صرف 90 بوتلیں لے کر گئے تھے جن میں سے تین ضائع ہو گئی تھیں ۔ جامعہ فریدیہ میں طلباء کی تعداد ایک ہزار سے کم تھی ۔ کیا کہا جائے اُن لوگوں کو جو مدرسوں کے طلباء کو جاہل ۔ انتہاء پسند ۔ دہشتگرد کہتے ہیں ؟

کچھ پاکستانی نہ جانے کن اثرات کے تحت مسلمانوں اور پاکستانیوں میں کیڑے نکالتے رہتے ہیں ۔ کیا ان کیلئے بہتر نہیں کہ دوسروں میں کیڑے نکالنے کی بجائے وہ اپنی اصلاح کریں ؟ آخر ایسے خواتین و حضرات یہ کیوں بھول جاتے ہیں وہ خود بھی پاکستانی ہیں ۔

پاکستانی بہن بھائیوں سے درخواست ہے کہ حقائق کی چھان بین کئے بغیر وہ اپنی قوم اور ملک کو بدنام کرنے سے پرہیز کیا کریں ۔

This entry was posted in روز و شب on by .

About افتخار اجمل بھوپال

رہائش ۔ اسلام آباد ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ ریاست جموں کشمیر کے شہر جموں میں پیدا ہوا ۔ پاکستان بننے کے بعد ہجرت پر مجبور کئے گئے تو پاکستان آئے ۔انجنئرنگ کالج لاہور سے بی ایس سی انجنئرنگ پاس کی اور روزی کمانے میں لگ گیا۔ ملازمت کے دوران اللہ نے قومی اہمیت کے کئی منصوبے میرے ہاتھوں تکمیل کو پہنچائے اور کئی ملکوں کی سیر کرائی جہاں کے باشندوں کی عادات کے مطالعہ کا موقع ملا۔ روابط میں "میں جموں کشمیر میں" پر کلِک کر کے پڑھئے میرے اور ریاست جموں کشمیر کے متعلق حقائق جو پہلے آپ کے علم میں شائد ہی آئے ہوں گے ۔ ۔ ۔ دلچسپیاں ۔ مطالعہ ۔ مضمون نویسی ۔ خدمتِ انسانیت ۔ ویب گردی ۔ ۔ ۔ پسندیدہ کُتب ۔ بانگ درا ۔ ضرب کلِیم ۔ بال جبریل ۔ گلستان سعدی ۔ تاریخی کُتب ۔ دینی کتب ۔ سائنسی ریسرچ کی تحریریں ۔ مُہمْات کا حال

7 thoughts on “ہم پاکستانی ۔ ڈھنڈورہ اور حقیقت

  1. زکریا

    یہ اردارے بھی این‌جی‌او ہی ہیں۔ مجھے آپ کی بریکٹ والی بات سمجھ نہیں آئی۔

  2. اجمل

    زکریا بیٹے
    اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ بھی نان گورنمنٹ آرگنائزیشن ہے ۔ پاکستان میں غیرملکی امداد سے چلنے والے ادارے اپنا تعارف بطور ” این جی او ” کراتے ہیں جبکہ متذکرہ بالا اور اسی طرح کے دوسرے ادارے اپنا تعارف کراتے ہوئے لفظ ” این جی او ” استعمال نہیں کرتے بلکہ کہتے ہیں “ہمارا ادارہ” یا “ہمارا رفاہی ادارہ” ۔ اس کی وجہ غالباً یہ ہے کہ ” این جی اوز ” ہمارے ملک میں کافی بدنام ہو گئی ہیں ۔

  3. Wahaj/bsc

    It is really heartening to hear about these ‘idaras’ and one of your links probably is connected to it (Thalassemia) which had surprised me and now that you write about hese in general, I must add my comments.
    I was a physician in Pakistan long time ago and such Idaras did not exist or we did not know much about them (Blood banks were the only thing). That such Idaras serve a very much needed service is not all that well-known.
    Meray naqis khiyal main in idaron ko ziyadah farogh dena chahiyay aur support kerna zururi hay. Mukhayyar hazrat kay liyay twajjuh ki zururat hay
    In the West they serve several purposes. I have attended and promoted several named ‘idaras’ here in USA in my specialty (Neurology) and am strongly in favor of them. I was pleasantly surprised to see the Thalassemia one and as you mention the functioning of these idaras, I feel proud of being Pakistani and Muslim. I agree with your suggestions whole-heartedly

  4. میرا پاکستان

    یھ بات تو طے شدھ ھے کھ مکمل مسلمان عام مسلمانوں کی نسبت زیادہ نیک، ایماندار اور مخلض ہوتے ہیں۔ ھم تو اکثر کھا کرتے ھیں کھ پولیس میں اگر پکے مسلمان بہرتی کر لیے جائیں تو ملک میں آدہے جرائم ختم ھوجائیں گے۔

  5. اجمل

    بھائی وہاج احمد
    آپ کا خیال ٹھیک ہے ان رفاہی اداروں کی مقامی حکومت اور بین الاقوامی سطح پر حوصلہ افزائی نہیں کی جاتی نہیں کی جاتی ۔ عام کہا جاتا ہے کہ ان کی خدمت کے نتیجہ میں نہ مقامی حکومتی اہلکاروں کو کچھ ملتا ہے اور نہ غیر ملکیوں کو اس لئے وہ ان کی حوصلہ افزائی نہیں کرتے ۔ آپ شائد یہ سن کر حیران ہوں کہ دیڈ کراس یا ہلالِ احمر جو خون اکٹھا رتی ہے وہ صرف چند خاص اداروں کو دیتی ہے اور جن اداروں کا ذکر میں نے اپنی تحریر میں کیا ہے ان کو کچھ نہیں دیتی ۔

  6. اجمل

    افضل صاحب
    میں تو کہتا ہوں کہ اگر سچے مسلمانوں کو خفیہ اداروں میں بھرتی کر لیا جائے تو پاکستان ایک عمدہ ملک بن جائے ۔

  7. Wahaj/bsc

    Afzal saheb aur Mera pakistan ka comment dekh ker aik ‘hook’ si dil main uth-ti hay. Yad aata hay kih Pakistan bannay say pehlay yehi khiyalat aatay thay kih pakistan main sub acchay musalman ban jaain gay. Hai hai ab woh suhanay sapnay kiya huay.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

:wink: :twisted: :roll: :oops: :mrgreen: :lol: :idea: :evil: :cry: :arrow: :?: :-| :-x :-o :-P :-D :-? :) :( :!: 8-O 8)