What Am I میں کیا ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

ميرا مقصد انسانی فرائض کے بارے میں اپنےعلم اور تجربہ کو نئی نسل تک پہنچانا ہے ۔ رَبِّ اشْرَحْ لِی صَدْرِی وَيَسِّرْ لِی أَمْرِی وَاحْلُلْ عُقْدة مِنْ لِسَانِی يَفْقَھُوا قَوْلِی



تختۂ کار

محفوظہ برائے May 18th, 2007

تیری سادگی کے صدقے

مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 18 May 2007

وکلاء اور حزبِ اختلاف نے چیف جسٹس آف پاکستان کی عزت افزائی کیلئے 5 مئی کو صبح 8 بجے اسلام آباد سے ریل نکالی جو 6 مئی کو لاہور میں دوپہر کے قریب ختم ہوئی او ر اس میں ایک کروڑ سے زائد لوگوں نے حصہ لیا ۔ پاکستان کے چیف آف آرمی سٹاف اور صدر جنرل پرویز مشرف اور ان کے درباری اس پر بوکھلا گئے اور 12 مئی کو اس کے مقابلہ میں طاقت کا مظاہرہ کرنے کیلئے 5 لاکھ افراد کی ریلی اسلام آباد میں منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ۔ پورے پنجاب اور صوبہ سرحد سے بھی لوگ لائے گئے ۔ جن کیلئے ایک ہفتہ پہلے سے ہی بسیں اور ویگنیں پولیس اور ٹرانسپورٹ اتھارٹی کے ذریعہ پکڑنا شروع کر دی گئیں ۔ سرکاری پارٹی کے صدر شجاعت حسین نے دعوٰی کیا تھا کہ اس ریلی پر ان کی پارٹی خرچہ کرے گی ۔ اخباری نمائندوں نے ریلیوں میں شامل لوگوں کے راستہ میں انٹرویو لئے تو معلوم ہوا کہ سب کو دھاڑی پر اور مفت سفر اور مفت اچھے کھانے کے وعدہ پر لایا گیا تھا ۔ لائے گئے سب لوگوں کی حاضری لی گئی کچھ کی موٹر وے پر ۔کچھ کی اسلام آباد داخل ہونے والے ٹول پلازہ پراور کچھ کی پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے جناح ایونیو پر کیونکہ اس کے مطابق اُنہیں ادائیگی کی جانا تھی ۔ ٹیکسلا کے ایک یونین ناظم کی ریلی میں 100 روپے دھاڑی والے مزدور تھے جو وہ سڑکوں سے اُٹھا لائے تھے ۔ عوام سے مختلف ٹیکسوں کی مد میں وصول کیا ہوا کروڑوں روپیہ اس طرح برباد کرنے کے بعد بھی سرکاری ریلی جب پارلیمنٹ کے سامنے شروع ہوئی تو اس میں ایک لاکھ سے زیادہ آدمی نہ تھے ۔

کہتے ہیں
سچائی چھُپ نہیں سکتی بناوٹ کے اصولوں سے
خوشبو آ نہیں سکتی کبھی کاغذ کے پھولوں سے

میانوالی کے ضلع آفیسر نے اپنی سادگی میں سچ بولتے ہوئے حکمرانوں کا بھانڈا بیچ چوراہے پھوڑ دیا ۔ تصویر بشکریہ ڈان اخبار ۔
میری دعا ہے کہ اللہ اس ضلع آفیسر کو حکومت کے شر سے بچائے ۔

حکومتی ریلی کی خاص بات یہ ہے کہ جب پاکستان کے چیف آف آرمی سٹاف اور صدر جنرل پرویز مشرف نے تقریر شروع کی اس وقت تمام پاکستانی اُسی دن کراچی میں مارے جانے والے 34 شہریوں اور 100 سے زائد زخمی ہونے والوں کے غم میں مبتلا تھے اور جنرل پرویز مشرف الطاف حسین کو اس کی جماعت ایم کیو ایم [جو کراچی کے قتلِ عام کی ذمہ دار تھی] کی کامیابی پر مبارکباد دے رہے تھے اور جنرل پرویز مشرف کے سامنے موسیقی کے ساتھ بھنگڑے ڈالے جا رہے تھے ۔

زمرہ : روز و شب | 2 تبصرے »