What Am I میں کیا ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

ميرا مقصد انسانی فرائض کے بارے میں اپنےعلم اور تجربہ کو نئی نسل تک پہنچانا ہے ۔ رَبِّ اشْرَحْ لِی صَدْرِی وَيَسِّرْ لِی أَمْرِی وَاحْلُلْ عُقْدة مِنْ لِسَانِی يَفْقَھُوا قَوْلِی



تختۂ کار

محفوظہ برائے May 3rd, 2007

ہماری ابوالعجمیاں

مصنف : افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ 03 May 2007

اِسے جہالت کہا جائے ہَڈدھرمی کہا جائے یا معاندانہ پروپیگینڈا ؟   میں پچھلے پانچ چھ سال سے دیکھ رہا ہوں کہ ہمارے ملکی اخباروں میں جب بھی قبلۂِ اوّل یعنی مسجدالاقصٰی کی خبر کے ساتھ تصویر چھاپی جاتی ہے تو  وہ مسجد الاقصٰی کی نہیں ہوتی بلکہ مسجد القُبة الصّخراء کی ہوتی ہے ۔

میں نے ماضی میں دی نیوز اور ڈان جن میں مسجدالاقصٰی کے حوالے سے مسجد القُبة الصّخراء کی تصویر چھپی تھی کے مدیروں کو خطوط لکھے اور ساتھ دونوں مساجد کی تصاویر بھیجیں کہ وہ تصحیح کریں لیں نہ تو تصحیح کی گئی نہ مستقبل میں اس پر کوئی عمل ہوا اور نہ ہی میرے خطوط مدیر کی ڈاک میں شامل کئے گئے ۔ کچھ عرصہ بعد پھر اخبار میں جب مسجد الاقصٰی کا ذکر آیا تو ساتھ تصویر مسجد القُبة الصّخراء کی چھپی ۔

میں نے اپنے ملک میں کئی گھروں میں مسجد القُبة الصّخراء کی تصویر یا ماڈل رکھا ہوا دیکھا جسے وہ مسجدالاقصٰی بتاتے تھے ۔ یہی نہیں میں نے مسجد القُبة السّخراء کے پلاسٹک ماڈل سعودی عرب میں معمولی قیمت پر عام بِکتے دیکھے ہیں جو کہ ہند و پاکستان کے زائرین قبلہ اول یعنی مسجدالاقصٰی سمجھ کر خرید لاتے ہیں ۔

یہ ہے مسجد الاقصٰی کی تصویر


 اور یہ ہے مسجد الاقبة الصّخراء کی تصویر

زمرہ : خبر | 20 تبصرے »